پاکستان: 2006 کا پہلا ’غیرت قتل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں مرضی کا بیاہ رچانے والی ایک خاتون اور اس کے دو معصوم بچوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ بدھ کی روز فجر کے وقت جیکب آباد کے علاقے گڑہی خیرو میں پیش آیا ہے۔ جس میں شھر بانو ، اس کا پانچ برس کا بیٹا لیاقت اور تین سالہ بیٹی حنیفاں قتل ہلاک ہوگئے۔ جبکہ بچوں کا باپ علی نواز شدید زخمی ہوگیا۔ لاڑکانہ ہسپتال میں زیر علاج علی نواز بروہی نےصحافیوں کو بتایا کہ دس سال قبل اس کو شہربانو کا رشتہ دیا گیا تھا، مگر بعد میں اس کے بھائی مکر گئے۔ جس پر آٹھ سال قبل انہوں نے گھر سے فرار ہوکر کورٹ میریج کرلی تھی۔ اس نے بتایا کہ شہر بانو کو اس کے بھائیوں نے کاری قرار دیا تھا، وہ ایک بڑے عرصے تک چھپتے رہے اور آخر میں گاؤں محمد پور میں رہائش اختیار کی تھی۔ واقع کے بارے میں اس نے بتایا کہ مسلح افراد نےگھر پر دہاؤا بول دیا اور کلاشنکوف سے دیر تک فائرنگ کرتے رہے ۔ زخمی علی نواز کی رپورٹ پر پولیس نے شہربانو کے دو بھائیوں سمیت دس سے زائد افراد پر قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے مگر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ واضح رہے کہ سندھ میں اس سال غیرت کے نام پر قتل کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔ گزشتہ سال عورت فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق تین سو چوراسی خواتین کو غیرت کے نام پر موت کے گھات اتارا گیا تھا۔ | اسی بارے میں ’غیرت کے نام پر‘ ایک اور قتل08 September, 2005 | پاکستان غیرت کے نام پر پانچ افراد قتل15 August, 2005 | پاکستان ’غیرت‘ کے نام ایک اور قتل 01 August, 2005 | پاکستان حقوقِ نسواں: ماں بیٹی ہلاک 07 July, 2005 | پاکستان پسند کی شادی: میاں بیوی قتل18 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||