سی ڈیز، وی سی آر اورخواتین پرپابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں تحصیل باڑہ کے مقام پر تحریک لشکر اسلام نامی ایک تنظیم نے سی ڈیز، فلموں، وی سی آر کو ممنوع قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی لگا دی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ خواتین بھی گھر سے باہر اکیلی چل پھر نہیں سکتیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تحریک کے نائب امیر مستری گل نے بتایا کہ کچھ عرصے سے باڑہ سب ڈویژن کے حدود میں امن وامان کی صورتحال خراب تھی اور مقامی لوگ مطالبہ کررہے تھے کہ یہاں پر ایک ایسی کمیٹی بننی چاہیئے جو علاقے میں جرائم کا خاتمہ کرے اور یہاں پر رہنے والے لوگوں کے جان و مال کا تحفظ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں سنیچر کو باڑہ امن کمیٹی کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی جو علاقے میں امن وامان کے حوالے سے کام کرے گی۔ نائب امیر نے بتایا کہ تنظیم نے مشترکہ طورپر فیصلہ کیا کہ علاقے میں ٹی وی، کیبل، وی سی آر اور دیگر فحش چیزوں پرمکمل پابندی عائد ہوگی جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ باڑہ کی حدود میں خواتین کے اکیلے پھرنے پر بھی پابندی ہوگی۔ ’ کوئی خاتون گھر سے باہراکیلی نہیں نکل سکےگی اگر کوئی نکلنا چاہتی ہے تو بچہ ان کے ساتھ ضرور ہونا چاہیے‘۔ مصری گل نے اس سوال پر کہ اگر کسی خاتون کو گھر سے باہر اکیلے دیکھا گیا تو ان کی سزا کیا ہوگی کہا کہ ’ بس پابندی ہے خواتین اکیلے گھروں سے نہیں نکل سکتیں‘۔ تنظیم کے دیگر فیصلوں کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے نائب امیر نے بتایا کہ اس بات پر مکمل اتفاق کیاگیا کہ اذان ہوتے ہی تمام تاجر برادری دوکانیں بند کر دے گی اور باجماعت نماز کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ باڑہ سب ڈویژن کی حدود میں قتل پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہوگا جبکہ اغواء میں ملوث افراد سے پچاس ہزار روپے جرمانہ وصول کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جعلی کرنسی اور شراب کا کاروبار کر نے والوں سے بھی بھاری جرمانہ وصول کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں نائب امیر نے بتایا کہ ان کا طالبان تحریک سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ تحریک خیبر ایجنسی کی سطح پر ہے جس کا مقصد علاقے میں جرائم کی روک تھام اور امن وامان کا قیام ہے۔ اس سلسلے میں جب خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ سے رابط کیا گیا تو پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر کے ایک اہلکار نےباڑہ امن کمیٹی کے قیام کی تصدیق کی تاہم انہوں نے مزید معلومات دینے سے گریز کیا۔ واضح رہے کہ باڑہ صوبائی دارالحکومت پشاور کے ساتھ واقع ایک متصلہ علاقہ ہے۔ اس سال مارچ کے مہینے میں اس علاقے میں دو مذہبی پیشواؤں کے مابین خونریز تصادم ہوا تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں پشتو ٹی وی کا ارتقاء21 April, 2005 | فن فنکار وزیرستان: جنگی سی ڈیز کا اجراء01 November, 2004 | فن فنکار خواتین کا پشتو لوگ گیت 14 September, 2004 | فن فنکار پشتو سٹیج: پردہ کب اٹھے گا26 February, 2004 | فن فنکار ’عورتوں پر تشدد، باعثِ شرمندگی‘07 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||