BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 November, 2004, 13:33 GMT 18:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: جنگی سی ڈیز کا اجراء

جنگی سی ڈیز
’پلوشے‘ نامی پشتو گیتوں پر مشتمل کیسٹ قبائلیوں کو حکومت کا ساتھ دینے کا پیغام لے کر سامنے آئی ہے
دنیا بھر میں جہاں بھی دہشت گردی کے نام پر جنگیں ہورہی ہیں وہاں آج کل کی جدید ٹیکنالوجی یعنی آڈیو اور ویڈیو آلات کا بھی بھرپور استعمال ہورہا ہے۔ اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کرنے والے اس کے ذریعے یا تو پیغامات ارسال کر رہے ہیں یا پھر اغوا کئے جانے والوں کی تصاویر۔ لیکن کچھ لوگ اس سہولت کے ذریعے اپنے ایجنڈے کو بھی آگے بڑھانے کی خاطر موسیقی یا پھر اپنے حملوں کی فلمیں بنا کر فروخت کر رہے ہیں۔ ان میں چند لوگ تو اسے پیسے کی خاطر لیکن کچھ اپنی سوچ کے پرچار کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان کا قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔

وزیرستان کی صورتحال سے متعلق آڈیو ویڈیو کیسٹس باقاعدگی سے بازاروں میں آ رہی ہیں۔ ان میں ایک تازہ ’پلوشے’ نامی پشتو گیتوں پر مشتمل کیسٹ قبائلیوں کو حکومت کا ساتھ دینے کا پیغام لے کر سامنے آئی ہے۔

’پلوشے’ یعنی کرنیں نامی اس نئی کیسٹ کے ایک دوگانے میں نامعلوم گلوکارہ اور گلوکار پاکستان اور وزیرستان سے اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس نئی آڈیو کیسٹ کے ٹائٹل پر امن کا نشان یعنی دو سفید کبوتر اور وزیرستان کے سنگلاخ پہاڑ ہیں جبکہ اندر کا رخ قبائلی جرگوں کی تصاویر سے سجایا گیا ہے۔

یہ کیسٹ کس نے تیار کی اور اس میں گانے والے کون ہیں ان کا کوئی ذکر نہیں۔ اس میں قبائلیوں سے بظاہر حکومت کا ساتھ دینے اور اپنے علاقے کو غیرملکیوں سے پاک کرنے کا پیغام اسے تیار کرنے والوں کی جانب ایک اشارہ ضرور دیتا ہے۔

سی ڈیز
ایک گیت میں قبائلیوں سے کہا گیا ہے کہ سوچو تم کس کے ساتھی بنے ہوں اپنا گریبان جھانک کر دیکھو۔

اس سے قبل بازار میں قبائلی جنگجوؤں کو بطور ہیرو اور وزیرستان پر ہونے والی زیادتیوں سے متعلق گیتوں پر مشتمل ایک کیسٹ بھی بازار میں آچکی ہے۔ تازہ کیسٹ بظاہر اس کیسٹ کا جواب ہے۔

آڈیو کے علاوہ وزیرستان میں جاری جنگی کارروائیوں سے متعلق ویڈیو سی ڈیز بھی بازار میں دستیاب ہیں۔

امت سٹوڈیو نامی کمپنی کی تیار کردہ ان سی ڈیز میں عکسبندی کا معیار تو کوئی اتنا اچھا نہیں لیکن ان سی ڈی پر سٹوڈیوز میں کی جانے والی محنت کسی ماہر شخص کا کام نظر آتی ہے۔

ان میں جنوبی وزیرستان میں فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے سے لے کر فوجی نقصانات کی فلمیں دیکھائی گئیں ہیں۔ جبکہ قرآنی آیات کی تلاوت اور جہاد کے پیغام سے متعلق نظموں سے ان میں صوتی رنگ بھرا گیا ہے۔

ان سی ڈیز کے پشتو نام بھی کا فی دلچسپ ہیں۔ کسی کو ’دہ لستوڑے مار’ یعنی آستین کا سانپ تو کسی کو ’دہ پرویز گران میلما’ یعنی پرویز کا پیارا مہمان جیسے نام دئیے گئے ہیں۔

ان سی ڈیز کی تیاری کا مقصد ایک ایسی ہی سی ڈی میں بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد اسلامی امت کے غصے سے بھرے نوجوانوں کی ان کامیابیوں اور حقائق پر سے پردہ اٹھانا ہے جن پر عیسائی اور ان کے اتحادیوں نے پردے ڈال رکھے ہیں۔ یہ مظلوم اسلامی امت کو تسلی اور اطمینان فراہم کرتی ہیں۔ یہ آزاد قبائل کی کفر مخالف آواز دنیا تک پہنچاتی ہیں۔

بعض سی ڈیز افغانستان میں طالبان کی جنگی کارروائیوں سے متعلق بھی بازار میں دستیاب ہیں۔

ایسی سی ڈیز اور کیسٹس اگرچہ بازاروں میں اتنی باآسانی دستیاب نہیں لیکن جستجو کرنے والوں کو مل ہی جاتیں ہیں۔ حکومت کی جانب سے بھی ان پر پابندی یا انہیں ضبط کرنے جیسا کوئی قدم ابھی تک نہیں اٹھایا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد