جعلی سی ڈیز کا کاروبار عروج پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر میں جعلی سی ڈیز کا کاروبار عروج پر ہے۔ ہر سال پوری دنیا میں فروخت ہونے والی ایسی سی ڈیز کی تعداد ایک اعشاریہ ایک ارب تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم ایک رپورٹ کے مطابق اس غیر قانونی تجارت کی رفتار اب کم ہورہی ہے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف فونوگرافک انڈسٹریز ( آئی ایف پی آئی) کے مطابق ہر سال چوری کیے گئے میوزک کے کاروبار کی مالیت چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ سپین اس سلسلے میں دس بدنام ترین ممالک میں سے ایک ہے جو اس غیر قانونی تجارت میں ملوث ہیں۔ آئی ایف پی آئی نے سپین کے خلاف حکومتی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں فروخت ہونے والی سی ڈیز کا پینتیس فیصد چوری شدہ مواد پر مبنی ہوتا ہے۔ سن دوہزار کے مقابلے میں دو ہزار تین میں یہ کاروبار ایک کے مقابلے میں پانچ کی شرح سے بڑھ گیا ہے۔ تاہم اب اس کاروبار کی رفتار میں آنے والی کمی کو ادارہ ایک مثبت علامت تصور کررہا ہے۔ گزشتہ سال 53 ملین جعلی سی ڈیز پکڑی گئی تھیں۔ اس کاروبار میں ملوث دس بڑے ممالک میں میکسیکو، روس، تھائی لینڈ، تائیوان اور یوکرین شامل ہیں۔ ای ایم آئی ورلڈ کمپنی کے چیئر مین کا کہنا ہے کہ میوزک کی چوری کا براہ راست اثر مقامی فنکاروں پر پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی ایف پی آئی چوری کیے گئے مواد کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور وہ جعلی سی ڈیز کا کیمیاوی معائنہ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ انہیں کہاں تیار کیا جاتا ہے تاکہ ان ممالک میں قائم جعلی سی ڈیز کے پلانٹس کو ختم کیا جاسکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||