رقص بھری ’سی ڈیاں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کچھ ہی سال پہلے کی بات ہے کہ لاہور کے تھیٹروں میں رقاصاؤں کا راج تھا۔ تھیٹر پر ڈرامہ کم، جملہ بازی اور ناچ گانا زیادہ ہوتا تھا۔ پھر لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے ذُومعنی جملوں کی ادائیگی اور ’فحش رقص‘ پر پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کردیا اور تھیٹر کی مسلسل نگرانی شروع کرنے کے ساتھ ساتھ ناچ گانے پر پابندی لگا دی۔ حکومت کے اس اقدام کے بعد کیبل آپریٹر حضرات نے اپنا کردار ادا کیا جس کے باعث یہ تفریح عوام کوگھر بیٹھے میّسر آنے لگی۔ جب اس پر بھی متعلقہ سرکاری اداروں کی گرفت ہوئی تو لاہور میں ہال روڈ پر کاروبار کرنے والوں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ لہٰذا تمام ڈراموں کی ریکارڈنگ سے ڈانس کی ریکارڈنگ یکجا کر کے اسے سی ڈی پر اتارا گیا اور ویڈیو سنٹرز تک پہنچادیا گیا۔
ایسی صورت حال میں کچھ لوگوں نے سٹوڈیو کرائے پر لے کر، اپنے گھروں کے ڈرائنگ روم میں، باغیچوں میں ڈانس کی ریکارڈنگ کی۔ عوام کو تھیٹر کے جانےپہچانے فلور کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی ڈانس دیکھنے کا موقع ملا۔ ڈانس کی وڈیو سی ڈی کے سلسلے میں جو نام سامنے آئے ان نرگس، ان کی بہن دیدار، میگھا، مسکان، لاشانہ، شبنم اور حِنا خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان خواتین میں سے بعض کم لباس میں جبکہ دیگر مکمل لباس پہن کر فن کا مظاہرہ کرتی ہیں مگر لباس کی تراش خراش ایسی ہوتی ہے کہ بقول شاعر ’صاف چھُپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں‘۔ ان محفلوں میں سب سے زیادہ لعل خواہران (نصیبو لعل ، نوراں لعل) کے گائے ہوئے گانے چلائے جاتے ہیں۔
بعض لوگ ان سی ڈیز کو بے ہودہ اور لچر قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان گانوں پر کی گئی اچھل کود کو رقص کہنا غلط ہے۔ ان کے اعتراض کچھ بے جا بھی نہیں ہیں کیونکہ اگر ان گانوں کو آنکھیں بند کر کے سنا جائے اور شاعری پر غور کیا جائے تو بہت سی ناقابل بیان ’واردتیں‘ آشکار ہو جاتی ہیں۔ اور اگر آنکھیں کھول کر سنا اور دیکھا جائے تو ایک عورت آپ کو اعضاء کی نیم برہنہ شاعری کرتی نظر آئے گی۔ اعضاء کی شاعری کرنے والی یہ رقاصائیں الفاظ کے زیر و بم کی بجائے جسم کے ’نشیب و فراز‘ پر انحصار کرتی ہیں۔ ایسی ہی وڈیو سی ڈیز میں کام کرنے والی میگھا کا کہنا ہے کہ وہ اس کام سے بہت خوش ہیں کیونکہ فلم میں معاوضے کے لئے کئی ماہ تک انتظار کرنا پڑتا تھا مگر اب دو تین روز کے لئے سیٹ لگتا ہے، ہم لوگ پرفارم کرتے ہیں اور ہاتھ کے ہاتھ معاوضہ بھی مل جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||