BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 April, 2004, 16:11 GMT 21:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نرگس پھر تنازعات کی زد میں

اداکارہ نرگس
نرگس کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہاہے
اداکارہ نرگس ایک دفعہ پھر تنازعات کی زد میں آ گئی ہیں۔ اس وقت وہ بیک وقت دو محاذوں پر نبرد آزما ہیں۔ اور دونوں محاذوں پر ان کی لڑائی روایتی حریفوں سے ہو رہی ہے۔ ایک محاذ پر لاہور کی ضلعی انتظامیہ ہے جو انہیں سٹیج ڈرامے میں رقص کرنے سے روک رہی ہے جبکہ دوسرے محاذ پر پولیس ہے۔

جہاں تک لاہور کی ضلعی انتظامیہ کا تعلق ہے تو اس کے ساتھ محاذآرائی اس وقت شروع ہوئی جب دو سال قبل تھیٹر میں فحاشی اور عریانی کی شکایت پر ضلعی انتظامیہ اور پولیسں نے چھاپے مارے جس کے نتیجے میں بعض اداکاراؤں کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فحاشی اور عریانی کی سب سے زیادہ شکایات نرگس کے خلاف تھیں مگر نرگس ان چھاپوں میں پولیس کو جُل دے کر نکل گئیں۔ اس واقعہ کے بعد ضلعی انتظامیہ نے سٹیج ڈرامے میں رقص بالکل بند کر دیا۔ فحش کلامی پر بھی سخت سزا رکھی گئی۔ سٹیج ڈرامے میں رقص پر پابندی کے خلاف کچھ لوگ عدالت میں چلے گئے جہاں سے انہیں رقص کی اجازت مل گئی۔

نرگس
سرکاری مشینری کارروائی کے لئے زیادہ تر نرگس کے گرد گھومتی رہی ہے
ضلعی انتظامیہ کا اس سلسلے میں موقف یہ ہے کہ انہوں نے رقص پر پابندی نہیں لگائی صرف فحاشی اور عریانی پر پابندی لگائی ہے چاہے وہ رقص میں ہو یا مکالمے میں۔

سٹیج ڈرامے کو صاف ستھرا بنانے کے لئے پچھلے دو برس میں فنکاروں اور سرکاری اہلکاروں کی کئی کمیٹیاں بنیں۔ کئی اجلاس ہوئے مگر ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ سٹیج ڈرامے میں شائستہ رقص کی حد کہاں ختم ہوتی ہے اور عریاں رقص کی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ کچھ یہی صورتحال ڈرامے کے مکالموں میں ہے۔ گویا سٹیج فنکاروں اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان یہ کشمکش مستقل صورت اختیار کر گئی ہے۔

بے باک رقص کر نے والی فنکاراؤں میں نرگس چونکہ سر فہرست ہے، اس لئے سرکاری مشینری کاروائی کے لئے زیادہ تر انہی کے گرد گھومتی رہی ہے۔ نرگس کا موقف ہے کہ میرے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ میں اپنے شہر لاہور میں بھی رقص نہیں کر سکتی مگر شلپا شیٹی بھارت سے آ کر یہاں رقص کر سکتی ہے۔

ایک طرف نرگس اور ضلعی انتظامیہ میں یہ تنازعہ بھی چل رہا ہے اور دوسری طرف نرگس روزانہ لاہور کے ایک تھیٹر میں ’ووہٹی گواچ گئی‘ کے نام سے ڈرامہ بھی کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے اہلکار تھیٹر میں موجود ہوتے ہیں تاکہ نرگس رقص کرتے ہوئے یا مکالمے بولتے ہوئے کہیں اخلاقی حدود پار نہ کر جائے۔

نرگس اور ریمبو
نرگس نے زیادہ تر فلمیں جان ریمبو کے ساتھ ہی کیں
جہاں تک پولیس کے ساتھ نرگس کی محاذ آرائی کا تعلق ہے تو یہ کافی پرانی ہے۔ تقریباً چار سال قبل پولیس کے اہلکار رانا حسیب کو نرگس کے ساتھ محاذ آرائی کے نتیجےمیں نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اس واقعہ کے بعد نرگس کی پولیس کے ایک اور اہلکار عابد باکسر کے ساتھ لڑائی ہوگئی جس میں عابد باکسر نے نرگس کے سر کے بال اور بھنویں کاٹ دیں اور جسمانی تشدد کیا۔

اس تشدد کے بعد نرگس نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان پر اتنا تشدد ہوا کہ وہ ماں بننے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو گئی ہیں۔ تاہم اس واقعہ کے تین چار روز کے بعد گوالمنڈی کی ایک اہم شخصیت کے گھر ان دونوں کی صلح ہو گئی۔ اس صلح کے بعد نرگس کینیڈا چلی گئیں جہاں انہوں نے ایک پاکستانی فلم پروڈیوسر زبیر شاہ سے شادی کر لی۔ اب وہ ایک بچے کی ماں ہیں۔

کینیڈا میں ایک سال مقیم رہنے کے بعد گزشتہ عید پر وہ پاکستان واپس آ گئیں اور دوبارہ تھیٹر شروع کر دیا۔ اور ساتھ ہی ضلعی انتظامیہ سے ان کی محاذ آرائی بھی شروع ہو گئی۔

 شلپا شیٹی بھارت سے آ کر یہاں رقص کر سکتی ہیں لیکن میرے ناچنے پر چھاپے پڑتے ہیں
نرگس
حال ہی میں ان کا جھگڑا پولیس کے ایک سابق اہلکار کرامت بھٹی سے اس وقت ہوا جب وہ سٹیج میں ایک ڈرامے میں کام کر رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق نرگس ڈرامہ کر رہی تھیں کے کہ کرامت بھٹی اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ تھیٹر میں داخل ہونے لگا۔ نرگس کے گن مینوں نے انہیں روکا جس پر لڑائی شروع ہو گئی۔

تھیٹر کی انتظامیہ نے ون فائیو پر اطلاع کر دی۔ چنانچہ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور کرامت بھٹی کو گرفتار کر کے تھانے لے گئی اور وہاں پر نرگس کو بھی بلا لیا اور دونوں کی صلح کرا دی۔

ڈی آئی جی طارق سلیم نے واقع کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ تاہم نرگس کا کہنا ہے کہ کرامت بھٹی عابد باکسر کا دوست ہے جو مجھے مارنے کے لئے ہال میں داخل ہوا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد