BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 October, 2003, 18:01 GMT 23:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نرگس زندہ باد‘: گرفتاری اور رہائی

گجرانوالہ میں فنکاروں کے خلاف پہلے بھی کارروائیاں ہوئی ہیں
گجرانوالہ میں فنکاروں کے خلاف پہلے بھی کارروائیاں ہوئی ہیں

گوجرانوالہ میں گزشتہ نصف شب کے بعد فحاشی کے الزام میں گرفتار ہونے والی سٹیج کی اداکارہ نرگس اور تھیٹر کے دوسرے چار افراد کو جمعہ کی سہ پہر ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

جمعرات اور جمعہ کی شب ایک بجے کے قریب ایک سپیشل میجسٹریٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ریاض الحسن علوی کے حکم پر راکسی تھیٹر پر چھاپہ مار کر اداکارہ نرگس سمیت تھیٹر کے پانچ افراد کو ذومعنی فحش مکالمے بولنے اور فحش رقص کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

ایک ماہ پہلے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے حکم پر تھیٹر کی دو ادکاراؤں حنا شاہین اور سلومی رانا کو بھی انہی الزامات کے تحت گرفتار کرلیا گیا تھا۔

رات کو سپیشل میجسٹریٹ غلام مصطفیٰ شیخ نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ راکسی تھیٹر پر چھاپہ مارا تھا جہاں ’ویلکم نرگس‘ کے نام سے ایک سٹیج ڈرامہ چل رہا تھا۔

گوجرانوالہ کے ماڈل ٹاؤن تھانے میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق ادکارہ نرگس بنت ادریس بھٹی سکنہ جوہر ٹاؤن لاہور مختصر لباس میں بے ہودہ اور لچر پن سے بھرپور رقص کرتے ہوۓ پائی گئیں اور دو ادکار بہنیں سنگھار اور نکھار کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر آغا زاہد علی سکنہ ملتان او پروڈیوسر علی احمد بھی گرفتار کر لیے گۓ جن کے خلاف دفعہ دوسو چورانوے اور سولہ ایم پی او کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

نرگس اور دوسرے افراد کو رات اڑھائی بجے سینٹرل جیل گوجرانوالہ بھجوادیا گیا۔ گرفتار اداکاراؤں کو جمعہ کے روز دوپہر بارہ بجے کے قریب ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال لایا گیا جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔

اس موقع پر عوام کا ایک بڑا ہجوم وہاں جمع ہوگیا اور لوگ نرگس زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔ امن و امن کی صورتحال کے پیش نظر دو تھانوں کی پولیس کی نفری وہاں پہرہ دیتی رہی۔

لوگوں کی سخت دھکم پیل میں سے گزرتی ہوئی نرگس اور دوسری اداکارائیں واپس جیل گئیں اور وہاں سے سپیشل میجسٹریٹ تاثیر احمد کی عدالت میں پیش ہوئیں۔ عدالت نے ان کی ضمانت پر رہائی منظور کی اور انھیں دو دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

بعد میں نرگس نے جیل کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوۓ کہا کہ ان کے مخالفین نے ان کو گرفتار کرواکے جیل میں رکھنے کی سازش کی تھی جو ناکام ہوئی اور وہ باعزت رہا ہوگئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے فحش مکالمے نہیں بولے اور نہ فحش رقص کیا۔ انھوں نے گوجرانوالہ کے عوام کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کے مطابق ان کے ساتھ محبت کا سلوک کیا اور ان کی گرفتاری پر ہسپتال کے باہر جمع ہوگۓ۔

دوسری طرف اداکاراؤں کو گرفتار کرنے والے سپیشل میجسٹریٹ غلام مصطفی نے کہا کہ انھوں نے دو روز پہلے خود عام تماشائی کے طور پر یہ ڈرامہ دیکھا تھا جس میں فحش مکالمے اور رقص پیش کیے گۓ جس پر انھوں نے تھیٹر کے لوگوں کو تنبیہ کی تھی کہ وہ ایسا نہ کریں۔

میجسٹریٹ نے کہا کہ تھیٹر کو پہلے ’سلام کراں‘ ڈرامہ کرنے کا اجازت نامہ جاری ہوا تھا جب کہ وہ ’ویلکم نرگس‘ کے نام سے ڈرامہ کررہے تھے اور اجازت نامے میں رقص کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ چھاپے سے پہلے نرگس ایک فحش رقص کرچکی تھیں اور فحش مکالمے بول رہی تھیں۔ اس لیے ان کی کارووائی درست اور جائز تھی۔

میجسٹریٹ نے کہا کہ گوجرانوالہ کے عوام اور مذہبی حلقوں میں اس تھیٹر کے بارے میں سخت نفرت اور اشتعال انگیزی پائی جاتی تھی جس کا اظہار ذرائع ابلاغ سے اور سیشن جج کے سامنے لوگوں کی شکایات سے ہوتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال جاری رہتی تو نقض امن کا خطرہ تھا۔

گوجرانوالہ میں کچھ عرصہ سے تھیٹر اور سرکس کے فنکاروں کو سختی کا سامنا ہے۔ ایک ماہ قبل تھیٹر کی دو ادکاراؤں کو گرفتار کرکے ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ اس سے چند ماہ پہلے متحدہ مجلس عمل کے گوجرنوالہ سے منتخب رکن قومی اسمبلی کی سربراہی میں ایک ہجوم نے رقص پیش کرنے پر ایک سرکس کو تباہ کردیا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد