BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشتو ٹی وی کا ارتقاء

پشتو ٹی وی
افغان ٹیلی ویژون اور پشتو ٹی وی چینلز کی تاریخ اتنی پرانی نہیں ہے بلکہ شاید افغانستان دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں حاکم وقت کے ساتھ ساتھ ٹی وی کو بھی تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا۔

افغان ٹی وی نے سب سے پہلے مارچ 1978 میں جاپان کی مالی اور تکنیکی مدد سے آزمائشی پروگرام شروع کیے۔ چونکہ افغان ٹی وی صدر سردار داؤد خان کی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ لیکن رسمی افتتاح 1978 اپریل میں صدر نورمحمد ترہ کئی نے کیا۔

صدر داؤد خان کے دورے اقتدار کی شاید چند ایک باقیات افغان ٹی وی میں محفوظ ہوں۔ یعنی افغان ٹی وی جنم لیتے ہی سوشلسٹ انقلاب کی پروپیگنڈہ مشین بن گیااور اپنی جوانی اور بچپن کی پہلی ڈیڑہ دہائی دو مخالف نظریات سوشلزم اور مذہبی سیاست کے ٹکراو میں گزارا۔

اگرچہ ایک طرف افغان ٹی وی کا عملہ نیا تھا اور دوسری طرف سے نظریاتی تلوار بھی سر پر لٹک رہی تھی۔ اگر نور محمد ترہ کی اور حفیظ الامین کے دور اقتدار کا جو کہ مجموعی طور پر انیس مہینوں سے زیادہ نہیں تھا جائزہ لیا جائے تو ہمیں اس وقت کے ٹی وی پروگراموں میں تین چیزیں نمایاں نظر آتی ہیں۔

ایک یہ کہ نئی نئی تبدیلی آئی تھی اور اقتدار پر قبضہ کرنے کا جواز بھی لوگوں کو بتانا تھا اس لیےافغان ٹی وی پر نوے فیصد سے زیادہ وقت حکومتی پروپیگنڈے کو دیا جاتا تھا۔

نور محمد ترہ کی چونکہ خود بھی ایک ادیب اور مصنف تھے اور پشتو فوک کے بہت دلددادہ تھےاس لیے ایک سال کے عرصہ میں افغان ٹی وی نے افغان پشتو گلوکاروں کی ایک بہت بڑی کھیپ تیار کر لی۔ آئے روز نئے گلوکار ٹی وی پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ان گلوکاروں میں خان قرہ باغی، بخت زمینہ، عبداللہ مقری، منگل اور نغمہ، اور حیات گردیزی وغیرہ بہت مشہور ہوئے۔

1979 میں افغانستان پر روسی فوجوں کی یلغار کے بعد افغان ٹی وی نے روس کی تکنیکی مدد سے سیٹلائٹ نشریات بھی شروع کر دیں۔اس دوران پاکستان کے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں کچھ لوگ افغان ٹی وی کو سیٹلائٹ کے ذریعے دیکھا کرتے تھے۔

دوسری یہ کہ اسی کی دہائی میں وی سی آر بھی عام ہونے لگے توان علاقوں میں افغان ٹی وی کے پروگراموں کے کیسیٹ پاکستانی مارکیٹوں میں ویڈیو سینٹرز میں آنے لگے۔

افغانستان میں ڈاکٹر نجیب اللہ کے اقتدار ختم ہونے کے بعد، جب کابل میں مختلف جہادی دھڑے آپس میں لڑ پڑے تو ان دنوں میں افغان ٹی وی اور ریڈیو کے عملے نے پاکستان، بھارت، روس اور دوسرے مغربی ممالک میں پناہ لے لی۔

افغان مجاہدین پانچ سال سے کم عرصے تک حکومت میں رہے اور اس مدت میں ٹی وی کا کوئی قابل ذکر بیان نہیں ہے بلکہ یوں کہیے کہ نوے کی دہائی افغان ٹی وی کا تاریک دور رہا ہے۔

افغانستان میں طالبان کی آمد کے بعد ٹی وی پر پابندی لگ گئی لیکن جہادی کمانڈروں، احمد شاہ مسعود اور رشید دوستم کے زیر قبضہ چند صوبوں میں ٹی وی نشریات جاری رہیں۔ اس دوران پیش کیے جانے والے پروگرام اتنے مؤثر نہیں تھے بلکہ زیادہ وقت شخصی پروپیگنڈا ہوتا رہتا تھا۔

دو ہزار ایک میں اتحادی افواج کے ہاتھوں طالبان کی پسپائی کے بعد افغان ٹی وی مردہ راکھ سے جاگ اٹھا۔ اس وقت نہ صرف افغان ٹی وی کا نیاجنم ہوا بلکہ اب تو پشتو پرائیویٹ ٹی وی چینلز بھی آنے لگے ہیں۔

ان نئے چینلز میں ’طلوع‘ ٹی وی جس کی نشریات کابل سے ہوتی ہیں اس میں پشتو کم اور فارسی زیادہ ہوتی ہے۔

مزارشریف میں ’آئینہ‘ کے نام سے شروع ہونے والا چینل رشید دوستم کی مالی اعانت سے چل رہا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو اب تک افغان ٹی وی پر جہادی گروپوں کا قبضہ دکھائی دیتا ہے۔ ناظرین کی تعداد بھی کچھ خاص نہیں لیکن افغان صدر حامد کرزئی کے حالیہ دورہ ہند کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ اس معاہدہ کے تحت بھارت افغان ٹی وی کو عصری معیار پر لانے اور سیٹلایٹ کے ذریعے اس کی نشریات کو چلانے میں تکنیکی مدد دے گا۔

تا ہم یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ افغان ٹی وی کو اپنے اسی کی دہائی کے معیار پر لانے میں بہت وقت لگے گا۔ جرمنی سےڈؤچے ویلے روزانہ پشتو کی تین گھنٹے کی نشریات دے رہا ہے جس میں یورپ اور افغانستان کے درمیان تعلقات اور حالات حاضرہ کے پروگرام نمایاں ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے خیبر پشتو ٹی وی چینل نے پہلے آؤ پہلے پاؤ کے مصداق ایک سال کے عرصے میں ناظرین کی ایک بڑی تعداد کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔

پاکستان ٹیلی ویژن کےکوئٹہ اور پشاور کے مراکز سے پشتو پروگرام ملک کے اندر اور افغانستان کے سرحدی شہروں میں بڑے شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔ خبر ہے کہ جلد ہی مشہور پاکستانی آرٹسٹ جمال شاہ ’شملہ‘ کے نام سے ایک پشتوٹی وی چینل متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی سے شروع کر رہے ہیں۔

اب چونکہ افغانستان اور خصوصی طور پر پشتون بین الاقوامی سیاست کے حوالے سے خاصی اہمیت اختیار کر چکے ہیں ، شاید یہی وجہ ہے کہ برصغیر پاک وہند اور مرکزی ایشاء میں پشتو میڈیا کے حوالے سےایک انقلاب برپا ہو چکا ہے۔

دوسری طرف ایران بھی افغان میڈیا میں اپنے جڑیں مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وسطٰی ایشیاء کے چوراہے پر واقع اس اہم ملک کو جس قدر ممکن ہو اپنا ہم زبان بنا لے۔

رہی بات پاکستان کی، تو اس کے پاس افغانستان میڈیا میں اثر انداز ہونے کےلیے صرف پشتو زبان ہے کیونکہ فارسی زبان کا پتہ تو پہلے سے تہران کے پاس ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد