ایم ایم اے: حدود مسودہ مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحفظِ نسواں بل کے حوالے سے حکومت اور ایم ایم اے میں مذاکرات اور اختلافات کا سلسلہ جاری ہے اور متحدہ مجلس عمل نے حدود آرڈیننس میں ترامیم کے حوالے سے ترمیمی مسودے کو بھی ناقص قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائدِ حزب ِاختلاف اور ایم ایم اے کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ قانون کی جانب سے تیار کردہ ترمیمی مسودے میں وہ سفارشات شامل نہیں جن پر علماء نے واضح ہدایات دی تھیں اور جنہیں حکومت قبول کرنے پر آمادہ تھی۔ انہوں نے اس مسودے کو وزارتِ قانون کی بدنیتی قرار دیا۔ اس سے قبل بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے ایم ایم اے کے رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے علماء کمیٹی کے ساتھ نئی ترامیم پر بات کی ہے اور سرکاری علماء نے ان کی نشاندہی پر بل میں مزید چار ترامیم سے اتفاق کیا ہے۔ تاہم اب انہیں انتظار ہے کہ جن تازہ ترامیم کی نشاندہی انہوں نے کی ہے آیا حکومت انہیں نئے مسودے میں شامل کرتی ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں وزیرِ قانون وصی ظفر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بل پرتمام جماعتوں کے اتفاق کی کوششیں جاری رہیں گے اور اس معاملے پر سب کے خدشات اور تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی بل کو اتفاقِ رائے کے بعد ہی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ دریں اثناء سینیٹ اور قومی اسمبلی کی کارروائی کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے سینئر صحافی سی آر شمسی کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف احتجاجاً دونوں ایوانوں کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ صحافیوں کا مطالبہ تھا کہ اس واقعے کی میڈیکولیگل رپورٹ جاری کی جائے اور ایف آئی آر درج کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ مطالبات کے پورے ہونے تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ | اسی بارے میں حدود قوانین کے ترمیمی بل پرہنگامہ22 August, 2006 | پاکستان جے یو آئی (ف) خواتین کا مطالبہ 04 September, 2006 | پاکستان حدود بل، کارروائی جمعرات کو04 September, 2006 | پاکستان حدود قوانین کی نظرثانی پر اجلاس 27 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||