BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 August, 2006, 03:44 GMT 08:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود قوانین کے ترمیمی بل پرہنگامہ

قاضی حسین احمد، فضل الرحمن
ایم ایم اے کے اراکان اسمبلی نے حددود قوانین میں ترامیمی بل پر سخت احتجاج کیا۔
پاکستان حکومت نے خواتین کے تحفظ کے متعلق حدود قوانین سمیت ضابطہ فوجداری میں ترمیم کا بل پیر کی شام قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے جس پر مذہبی تنظیموں کے اراکین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے ہنگامہ کردیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے اراکین نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے روسٹرم کے قریب آگئے اور انہوں نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر اس کے ٹکڑے سپیکر کی جانب دے مارے۔ جس پر حکومت کے کئی اراکین انہیں کہتے رہے کہ اس میں قرآن کا نام ہے ایسا نہ کریں لیکن ان کی کسی نے ایک نہ سنی۔

وزیر قانون نے جیسے ہی بل ایوان میں پیش کیا تو مذہبی جماعت کے اراکین نے اعتراض کیا اور قائد حزب مخالف مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وہ قوم کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ یہ بل اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

حکمران مسلم لیگ کے چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ یہ بل اسلام کے منافی نہیں ہے اور اگر ایسے ہوگا تو حکومت اُسے منظور نہیں کرے گی۔

پیپلز پارٹی نے بل کی مخالفت نہیں کی اور مخدوم امین فہیم نے تجویز پیش کی کہ اس اہم معاملے پر اتفاق رائے کے لیے ایوان کی خصوصی کمیٹی بنائی جائے جس میں تمام جماعتوں کے نمائندوں کو شامل کیا جائے اور وہ کمیٹی تفصیل سے شق وار جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے۔

پیپلز پارٹی نے مخالفت نہیں کی
مخدوم امین فہیم نے تجویز پیش کی کہ اس اہم معاملے پر اتفاق رائے کے لیے ایوان کی خصوصی کمیٹی بنائی جائے جس میں تمام جماعتوں کے نمائندوں کو شامل کیا جائے

پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے پلیٹ فارم کی شریک جماعت مسلم لیگ نواز کے چودھری نثار علی خان نے کہا کہ ان کی جماعت کا موقف متحدہ مجلس عمل کے قریب تر ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اس اہم معاملے پر اتفاق رائے ہو۔

جس کے بعد سپیکر نے بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی رولنگ دی اور جب خصوصی کمیٹی کے ضابطے طے کیئے جانے لگے تو اس وقت متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے واک آوٹ کیا۔

واضح رہے کہ حکومت نے یہ بل گزشتہ جمعہ کو ایوان میں پیش کرنا تھا لیکن کورم پورا نہیں تھا۔

اس مجوزہ بل میں پہلے سے نافذ چار قوانین میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ جس میں ضابطہ فوجداری، مسلمانوں کی شادیوں کے خاتمے کے قانون ، زنا اور قذف کے متعلق حدود آرڈیننسز شامل ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ اس بل کا بنیادی مقصد خواتین کے بارے میں موجود قوانین کے غلط استعمال کو روکنا اور انہیں ریلیف دینا ہے۔

واضح رہے کہ زنا اور قذف یعنی جھوٹ کے متعلق حدود آرڈیننس سابق فوجی صدر ضیاالحق نے ملک میں اسلامی نظام لانے کی مہم کے دوران 1979 میں نافذ کیئے تھے۔ ان قوانین کے نفاذ سے ہی یہ خاصے متنازعہ تھے۔

پاکستان بھر میں ترقی پسند سوچ رکھنے والی سیاسی جماعتیں، انسانی اور خواتین کے حقوق کی تنظیمیں ان قوانین کو انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دے کر ان کے فی الفور خاتمے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

ماضی میں بعض سیاسی حکومتوں نے ان قوانین میں ترامیم کی کوشش بھی کی لیکن سخت گیر مذہبی موقف رکھنے والی جماعتوں کی مخالفت کی وجہ سے وہ مصلحتوں کا شکار رہیں۔

مجوزہ ترمیمی بل
 بل میں پہلے سے نافذ چار قوانین میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ جس میں ضابطہ فوجداری، مسلمانوں کی شادیوں کے خاتمے کے قانون ، زنا اور قذف کے متعلق حدود آرڈیننسز شامل ہیں

بعض سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کا دباؤ اب بھی موجود ہے لیکن صدر جنرل پرویز مشرف اگر یہ بل منظور کرانے میں کامیاب ہوگئے تو یہ ان کی بہت بڑی فتح ہوگی۔ کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ بل میں کمیٹی میں غور کے دوران بعض تبدیلیاں متوقع ہیں۔

زنا کے متعلق پہلے سے نافذ اسلامی قوانین میں زنا کا شکار ہونے والے پر لازم تھا کہ وہ چار چشم دید گواہ پیش کرے۔ انسانی حقوق والے سوال اٹھاتے رہے کہ جب بھی کوئی اس جرم کا ارتکاب کرے گا تو ظاہر ہے کہ مجرم گواہ کھڑے کرکے تو جرم نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق نتیجے میں زنا کے بیشتر ملزمان کو سزا نہیں ہو پاتی۔

ملک میں نافذ اس قانون کے تحت اگر کوئی خاتون زنا کی شکایت لے کر تھانے جاتی اور چار گواہ پیش نہیں کرتی تو قانونی سقم کی وجہ سے پولیس ملزمہ کو الٹا زنا کرانے کے الزام میں گرفتار کرلیتی تھی۔ لیکن حکومت کے نئے مجوزہ قانون میں ان کا دعویٰ ہے کہ ایسا نہیں ہوسکے گا۔

مجوزہ قانون کے تحت بدکاری، شادی اور زنا کے مقصد کے لیے کسی خاتون کو اغوا یا کرائے پر لینے یا ’ہائر، کرنے، جبر، خوف، لالچ یا دھوکہ دہی سے کسی کو بیچنے یا زنا پر مجبور کرنے والے، بیچنے اور خریدنے والے سب مجرم قرار پائیں گے اور انہیں عمر قید تک سزا اور جرمانہ کیا جاسکے گا۔

پہلے چار گواہوں کی شرط تھی جو اب بھی ہے۔ لیکن اس میں ایک اضافہ یہ ہے کہ اگر مجاز عدالتی افسر شکایت کنندہ کے بیان اور حالات سے مطمئن ہوں تو ملزمان کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں اور مجاز افسرِ عدالت کسی کی شکایت کو خارج بھی کرسکتے ہیں۔

زنا بالرضا کی سزا
 نئے قانون کے تحت زنا بالرضا کا اطلاق سولہ سال یا اس سے کم عمر والوں پر کسی طور پر نہیں ہوگا۔ ایسے جرائم کے ارتکاب کرنے والوں کو بھی عمر قید کی سزا ہوگی

حکومت نے اس بل کے مقاصد اور اسباب پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن اور سنت میں جن جرائم کا ذکر نہیں یا ان کی سزاؤں کے بارے میں وضاحت نہیں ہے ایسے قوانین کے متعلق وضاحت یا سزا کے تعین کا حق ریاست کو حاصل ہے۔ اس لیے زنا اور قذف کے متعلق نافذ کردہ حدود آرڈیننسز سے ان جرائم کو نکال کر ضابطہ فوجداری میں شامل کیا جارہا ہے۔

ان جرائم کے لیے متعلقہ قوانیں میں تجویز کردہ کوڑوں کی سزائیں ختم کی جارہی ہیں کیونکہ قرآن اور سنت میں کوڑوں کی سزائیں نہیں ہیں اس لیئے ریاست ان کا تعین کر رہی ہے کہ انہیں عمر قید کی سزا ملے گی۔

حکومت نے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ دیہی علاقوں میں اکثر شادی یا طلاق کا اندراج نہیں ہوتا اور نافذ العمل قوانین کے تحت یہ جائز شادی اور جائز طلاق کی شرط ہے۔ ان کے مطابق مروجہ قوانین کے تحت خاندان کی مرضی کے خلاف شادی کرنے والی خاتون پر اکثر جائز شادی نہ کرنے اور زنا کا الزام لگایا جاتا ہے۔ جبکہ اگر کسی خاتون کو طلاق ملے اور وہ عدت کے بعد دوبارہ کہیں شادی کرے تو پہلا شوہر دشمنی یا کسی اور بنا پر موقف اختیار کرتا ہے کہ اس نے طلاق نہیں دی اور نتیجے میں خاتون کو بھگتنا پڑتا تھا۔

حکومت نے کہا ہے کہ نئے قانون کے تحت زنا بالرضا کا اطلاق سولہ سال یا اس سے کم عمر والوں پر کسی طور پر نہیں ہوگا۔ ایسے جرائم کے ارتکاب کرنے والوں کو بھی عمر قید کی سزا ہوگی۔ زنا بالجبر میں محض سزائے موت ہے اور نتیجے میں کمزور شہادت کی بنا پر عدالتیں بڑی سزا نہیں دیتیں اس لیے اب اس جرم کے مرتکب افراد کو عمر قید کی سزا بھی سنائی جاسکے گی۔

قانونی ماہرین کے مطابق مجوزہ بل میں ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ زنا کے مقدمات میں متاثرہ فرد یا اس کے اہل خانہ کا نام شائع نہیں کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے کو چھ ماہ قید کی سزا ملے گی۔

اسی بارے میں
حدود قوانین پر فیصلہ مؤخر
28 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد