حدود مقدمات کی تفصیلات طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے پورے ملک سے حدود آرڈیننس کے تحت قید خواتین کے مقدمات کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ شریعت کورٹ کے چیف جسٹس حاذق الخیری نے پرنسپل بینچ سمیت کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور کے رجسٹراروں کو تحریری طور پر ہدایت جاری کی ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے جاری کردہ صدارتی حکمنامہ کی روشنی میں قتل اور دہشتگردی کے مقدمات کے علاوہ خواتین پر دائر مقدمات کے تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔ واضح رہے کہ جمعہ کو صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے تحت ملک بھر کی جیلوں میں حدود آرڈیننس اور دیگر چھوٹے مقدمات میں قید تیرہ سو اکیس خواتین کو رہا کیا جائے گا۔ صدارتی آرڈیننس پر فوری عملدرآمد کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا مگر قانونی کارروائی کی وجہ سے پیر سے خواتین کی رہائی پر عملدرآمد شروع ہوگا۔
سندھ کے آئی جی جیل خانہ جات ایاز مغنی نے بتایا ہے کہ صدارتی حکمنامہ ابھی تک نہیں پہنچا تھا اس لیئے خواتین کی رہائی پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔ ان کے مطابق جیسے ہی حکمنامہ پہنچے گا اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ دوسری جانب سندھ میں محکمہ وومین ڈویلپمنٹ کی صوبائی وزیر سعیدہ ملک نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ آزاد ہونے والی جن خواتین کو ان کے اہل خانہ قبول نہیں کریں گے انہیں دارالامان اور این جی اوز کے شیلٹر ہومز میں رکھا جائے گا جہاں ان کو وکلا اور فنی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ معاشرے میں ان کی آ بادکاری کے بارے میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ان خواتین کو کاروبار کے لیئے چھوٹے قرضے فراہم کیئے جائیں گے اس سلسلے میں | اسی بارے میں ’طالبانائزیشن کا خوف ابھی ہے‘27 August, 2004 | پاکستان شریعت بل میں ترمیم نہیں ہوئی13 January, 2005 | پاکستان ’حسبہ بِل میں کیا کیا غیر آئینی ہے‘04 August, 2005 | پاکستان ونی، ریپ اور جنرل مشرف کا بیان16 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||