’حسبہ بِل میں کیا کیا غیر آئینی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حسبہ بل کی جن شقوں کو سپریم کورٹ نے ماورائے آئین قرار دیا ہے ان کی تفصیل درجہ ذیل ہے۔ سیکشن دس سب سیکشن ب: محتسب صوبے میں اسلامی اقدار اور آداب کی حفاظت اور ان پر نظر رکھے گا۔ سب سیکشن ج: محتسب حکومت کے تحت چلنے والے ذرائع ابلاغ پر نظر رکھے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اس کے تحت مطبوعات کی اشاعت اسلامی اقدار کو بلند رکھیں۔ سب سیکشن د: محتسب حکومت کے ماتحت افراد، حکام اور ایجنسیوں کو شریعت کے خلاف کام کرنے سے روکے گا اور ان کو گڈ گورننس کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا۔ سیکشن بارہ سب سیکشن ا: محتسب کسی بھی شکایت پر ایکشن لیتے ہوئے کسی بھی حکومتی اہلکار کو اس شکایت پر کارروائی کے لیے ہدایت دے سکتا ہے اور اس کے علاوہ ایسے اقدامات کر سکتا ہے جو وہ بہتر سمجھے۔ محتسب کی ہدایات پر عمل نہ کرنے پر محتسب قانون کے تحت کوئی بھی قدم اٹھا سکتا ہے جس میں نوکری سے برخواستگی بھی شامل ہو گی۔ اس کے علاوہ محتسب کے احکامات پر عمل نہ کرنے کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور حکومت کے کام میں رخنہ ڈالنے کے تحت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ سیکشن بارہ سب سیکشن ب: اگر محتسب مطمئن ہے کہ کسی بھی حکومتی اہلکار نے کوئی قابل دست اندازی قانون جرم کیا ہے تو محتسب متعلقہ حکومتی ایجنسی کو اس اہلکار کے خلاف ایکشن لینے کا حکم جاری کر سکتا ہے۔ سیکشن بارہ سب سیکشن ج: محتسب کے حکم کی خلاف ورزی پر محتسب یہ معاملہ حکومت کے سپرد کر سکتا ہے جو بعد میں محتسب کو اس کی ہدایات پر عملدرآمد کے بارے میں مطلع کرے گی۔ سیکشن بارہ سب سیکشن ج: محتسب کے حکم کی خلاف ورزی اس کی پرسنل فائل کا حصہ تصور کی جائے گی۔ سیکشن تئیس: محتسب پبلک مقامات پر اسلام کی اخلاقی اقدار پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گا۔ محتسب شادیوں اور دیگر خاندانی تقریب پر بے دریغ اور بلا ضرورت خرچ کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ جہیز دینے کے حوالے سے محتسب اسلام کی تعلیمات پر عمل کرے گا۔ محتسب افطار اور تراویخ کے مواقع پر اسلامی اقدار کی سختی سے عملدرآمد کی نگرانی کرے گا۔ محتسب تفریحی شوز اور عید اور جمعہ کی نماز کے وقت مساجد کے آس پاس تجارتی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ محتسب اذان اور فرض نمازوں کے اوقات میں اسلام کی پابندی کی نگرانی کرے گا۔ محتسب غیر اسلامی اور غیر انسانی رواج کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ محتسب فریقین اور قبائل کے درمیان قتل، اقدام قتل اور دیگر سنگین جرائم میں ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔ سیکشن پچیس: کوئی عدالت یا اتھارٹی محتسب کے تحت ہونے والی قانونی کاروائی کو چیلنج نہیں کر سکے گی۔ کوئی عدالت یا اتھارٹی کے پاس ایسے اختیارات نہیں نہیں ہوں گے جس کے تحت محتسب کے زیر غور کسی مسئلے کے بارے میں کوئی جز وقتی حکم یا حکم امتناعی جاری کئے جا سکیں۔ سیکشن اٹھائیس: محتسب کے احکام کی خلاف ورزی کی سزا چھ ماہ تک قید اور دو ہزار روپے جرمانہ ہو سکتی ہے۔ اس سزا کے خلاف کوئی عدالت نوٹس نہیں لے سکتی ما سوائے خود محتسب کے یا اس کے تحت کام کرنے والی اتھارٹی کے۔ محتسب کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والے پر کرمنل پروسیجر کوڈ کے تحت عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا اور محتسب کے حکم کے خلاف اپیل کی جا سکے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||