’حسبہ قانون، کسی صورت میں نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد اسمبلی میں آج متنازعہ حِسبہ بل پر حزب اقتدار اور اختلاف کے درمیان شدید ’الفاظ کی جھڑپ’ کے علاوہ گورنر سرحد خلیل الرحمان کی جانب سے صوبائی حکومت کو ایک واضح ’وارننگ’ جاری ہوئی ہے کہ حسبہ بل کسی صورت نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ایم ایم اے کی صوبائی حکومت نے معاشرے کو اسلامی اقدار کے مطابق ڈھالنے کے لئے حِسبہ کے ادارے کے قیام کے لیے ایک بل گزشتہ سوموار سرحد اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ سرحد اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کی جانب سے حسبہ بل پیش کئے جانے کے بعد سے اس پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے اس پر رائے زنی شروع کر رکھی ہے۔ اخبارات ان بیانات سے اور اداریوں سے بھرے پڑے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں ’خطرناک’ پیش رفت گورنر سرحد خلیل الرحمان کی جانب سے یہ اعلان ہے کہ حسبہ بل منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پشاور میں مقامی صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا صوبہ میں طالبانائزیشن ہو رہی ہے۔ گورنر کا موقف تھا کہ اس بل میں بڑے ابہام ہیں جوکہ لوگوں کو معلوم نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس بل پر اپنی رائے میں اس پر کئی اعتراضات کئے تھے جس کا مطلب ہے کہ یہ اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ ’صوبائی اسمبلی کو قانون سازی کا حق ہے لیکن جمہوریت خودکشی کا نام بھی نہیں۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس بل سے شخصی آزادی متاثر ہوسکتی ہے کیونکہ اس کے تحت کوئی بھی حرکت غیراسلامی قرار دی جا سکتی ہے۔’ گورنر کا کہنا تھا کہ یہ بل سارے پاکستان کے خلاف ہے اور اس سے تمام ملک متاثر ہوسکتا ہے۔ خلیل الرحمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سلسلے میں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز کو آگاہ کر دیا ہے جبکہ سرحد حکومت کو وہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے مطلع کر رہے ہیں۔ ’مجھے اس سلسلے میں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے جو بھی حکم ملے گا میں اسے نافذ کروں گا’۔
گورنر کی جانب سے یہ حسبہ سے متعلق اب تک کا سب سے سخت بیان قرار دیا جا رہا ہے۔ گورنر نے کل اس موضوع پر سرحد اسمبلی کے سپیکر بخت جہان خان اور حزب اختلاف کے رہنما شہزادہ گستاسپ سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ادھر سرحد اسمبلی میں آج صوبائی وزیر قانون ملک ظفر اعظم کی جانب مجوزہ حسبہ بل کو بحث کے لئے پیش کرنے کے وقت حزب اختلاف کی جماعتوں نے ایک مرتبہ پھر شدید احتجاج کیا۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے عبدالاکبر خان نے تکتہ اعتراض پر کھڑے ہوکر حکومت کو اس بل کو زیر بحث لانے سے پہلے اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو غور کے لئے بھیجنے کی تجویز پیش کی۔ تاہم سپیکر نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون کو بل پیش کرنے کی اجازت دی جس پر حزب اختلاف کے تمام اراکین اٹھ کھڑے ہوئے اور شور مچانا شروع کر دیا۔ یہ معاملہ تقریبا پچیس منٹ تک جاری رہا جس کے دوران کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ حزب اختلاف کے اراکین نے ایم ایم اے پر بل کو بلڈوز کرنے کے الزامات اور لوٹے لوٹے کے نعرے لگائے۔ اس دوران سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ بالآخر ایوان نے حسبہ بل پر بحث شروع کر دی۔ آج حزب اختلاف کے تین اراکین نے اس میں حصہ لیا اور صوبائی حکومت پر ہارے ہوئے لوگوں کو حسبہ کے ذریعے ایڈجسٹ کرنے کا الزام لگایا۔ آج اجلاس کے آغاز پر صوبائی وزیر قانون ملک ظفر اعظم نے سپیکر سے جمعرات کے روز پرائیویٹ ممبرز ڈے کو موخر کر تے ہوئے حکومت کو اس روز قانون سازی کرنے کی اجازت طلب کی۔ حزب اختلاف کی جانب سے ہلکے سے اعتراض کے بعد، سپیکر نے ایوان سے رائے طلب کی۔ ایوان نے یہ اجازت متفقہ طور پر دے دی۔ مبصرین کے خیال میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے اور بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ ایم ایم اے مزید وقت ضائع کئے بغیر حسبہ بل کو کل منظور کروانا چاہتی ہے۔ ایوان کے اندر حسبہ کے خلاف احتجاج کے علاوہ آج اسمبلی کے باہر بھی یہی کچھ ہو رہا تھا۔ اقلیتی تنظیم آل پاکستان ماینارٹی الائنس نے حسبہ بل کو اقلیتوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے دھرنا دیا اور نعرہ بازی کی۔ مظاہرین میں خواتین بھی شامل تھیں۔ اس احتجاج میں پنجاب اسمبلی کے دو اراکین نے بھی شرکت کی۔ الائنس کے پرنس جاوید نے بتایا کہ ان کے اس بل سے متعلق خدشات ہیں۔ ’ہمارے عقیدے کے خلاف بھی اس میں باتیں ہیں۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||