BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 July, 2005, 17:07 GMT 22:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حسبہ کا بل کیا ہے؟

مولانا فضل الرحمان
ایم ایم اے اس قانون کے تحت دیگر صوبوں کی طرح محتسب کا ادارہ قائم کرنا چاہتی ہے
چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے دو برسوں تک متنازعہ حسبہ کے ادارے کے قیام کے لیے اتفاق رائے کی کوششوں کو بظاہر خیرباد کہتے ہوئے مجوزہ حسبہ بل کو سوموار کے روز سرحد اسمبلی میں پیش کردیا ۔

اس فیصلے سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس بل کو صوبائی اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور کرانے سے حکمراں اتحاد تقریباً ناامید ہوچکا تھا۔ کیونکہ اس سے کچھ عرصہ قبل تک صوبائی حکومت اور ایم ایم اے کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ یہ بل اسمبلی سے متفقہ طور پر ہی منظور کروائیں گے۔

اب حزب اختلاف کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے واضع الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ اس مجوزہ بل کی حمایت ہرگز نہیں کریں گے۔

ایم ایم اے اس قانون کے تحت دیگر صوبوں کی طرح محتسب کا ادارہ قائم کرنا چاہتی ہے لیکن باقی صوبوں کے برعکس اس ادارے کو معاشرے کو اسلامی اقدار کے مطابق ڈھالنے کی ذمہ داری بھی دینا چاہتی ہے۔ اپنے نفاذ شریعت کے ایجنڈے کو سرحد حکومت اسی ادارے کے ذریعے پورا کرنا چاہتی ہے۔

لیکن اس بل کے مسودے کے سامنے آنے کے پہلے روز سے اس کی شدید مخالفت بھی سامنے آئی ہے۔ کوئی اسے ’مولویوں کا مارشل لا‘ اور کوئی اسے ’طالبانائزیشن‘ کی ایک کوشش قرار دینے لگا۔ اس مخالفت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کوئی کمی دیکھنے کو نہیں مل رہی بلکہ اس پر تنقید میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

سرحد حکومت کی جانب سے دیگر صوبوں میں ’حسبہ کے خیال‘ کے بارے میں سیمنار بھی ہوئے اور ریڈیو، ٹی وی پر مباحثے بھی۔ لیکن اس کا حاصل وصول نظر کچھ نہیں آتا۔

حزب اختلاف نے شریعت کے نام پر تو نفاذ شریعت بل کی بھرپور حمایت کی لیکن حسبہ پر وہ کسی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔

 حزب اختلاف نے شریعت کے نام پر تو نفاذ شریعت بل کی بھرپور حمایت کی لیکن حسبہ پر وہ کسی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔

آخر اس بل میں ایسا ہے کیا؟ مبصرین کے خیال میں یہ ایک ایسی مبہم دستاویز ہے جس میں قانونی اعتبار سے کئی ’امکانی خطرات‘ پوشیدہ ہیں۔ یعنی ہر کوئی اس قانون کی اپنی بساط اور مرضی کے مطابق تعبیر اخذ کر سکتا ہے۔

یہ مجوزہ بل جب پہلی صورت میں سامنے آیا تو صوبہ سرحد کے اس وقت کے گورنر لیفٹینٹ جنرل (ر) سید افتخار حسین شاہ نے ایم ایم اے کی ناراضگی کے باوجود اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس جائزے کے لیے بھیج دیا۔

کونسل نے گزشتہ برس اگست میں ایک اجلاس میں اس مجوزہ بل کا جائزہ لیا اور فیصلہ دیا کہ یہ بل مقاصد شریعت کی تکمیل کی بجائے امر باالمعروف ونہی عن المنکر کے بارے میں قرآن و سنت کے احکامات کو متنازعہ بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔

کونسل کو یہ خدشہ تھا کہ قانون بن جانے کی صورت میں کسی وقت کوئی حکومت بھی اس کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ کونسل نے نیا ادارہ قائم کرنے کی بجائے احتساب کے موجود اداروں کو مضبوط کرنے کی سفارش بھی کی تھی۔

کچھ لوگوں کے خیال میں ایم ایم اے نے ان تجاویز پر غور کرنے کی بجائے کونسل کو ہی متنازعہ بنا دیا۔ مولانا فضل الرحمان کے بقول انہیں کونسل کی موجودہ تشکیل پر اعتماد نہیں۔ ان کے مطابق کونسل نے کوئی ٹھوس سفارشات کی بجائے اس بل سے متعلق منفی تاثر کو دور کرنے کے لیے کہا جس کی انہوں نے بھرپور کوشش کر لی ہے۔

کونسل سے متعلق ایک اور پیچیدہ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ایم ایم اے کا کہنا ہے کہ اس نے محتسب کو دیے جانے والے اختیارات کونسل کی ہی انیس سو چھیانوے کی جامع سفارشات میں سے لیے ہیں جوکہ کتابی شکل میں موجود ہیں۔ لیکن پھر خود کونسل ہی دو ہزار چار میں ان اختیارات کو محتسب کو دیے جانے کی مخالفت کیسے کر سکتی ہے؟

حسبہ بل کے مسودے کی دفعہ تئیس کے تحت محتسب کو جو صوبائی حکومت اضافی اختیارات دینا چاہتی ہے ان میں عوامی مقامات پر اسلام کی اخلاقی اقدار کی پابندی کروانا، تبدیز یا اسراف کی حوصلہ شکنی خصوصاً شادی بیاہ اور اس طرح کی دیگر خاندانی تقریبات کے موقع پر، جہیز دینے میں اسلامی حدود کی پابندی کروانا، افطار و تراویح کے وقت اسلامی شعائر کے احترام اور ادب آداب کی پابندی کروانا، عیدین کی نمازوں کے وقت عیدگاہوں یا مساجد کے آس پاس جہاں عید یا جمعہ کی نماز ہو رہی ہو کھیل تماشے اور تجارتی لین دین کی حوصلہ شکنی کرنا، جمعہ اور عیدین کی نمازوں کی ادائیگی اور انتظام میں غفلت کا سدباب کرنا، جانوروں پر ظلم روکنا، اذان، فرض نمازوں کے اوقات اور اسلامی شعائر کا احترام اور پابندی کروانا، غیرشرعی تعویز نویسی، گنڈے، دست شناسی اور جادوگری کا سدباب، غیرت کے نام پر قتل اور سورا جیسی رسومات کا تدارک کرنا، مصنوعی گرانی، رشوت ستانی اور ناپ تول کی نگرانی کرنا اور والدین کی فرمابرداری کی تلقین کرنا شامل ہیں۔

 شق پچیس کے مطابق کسی عدالت یا اتھارٹی کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ محتسب کی کارروائی کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی سوال اٹھائے اور محتسب کے زیر غور جاری کارروائی کی بابت کوئی حکم امتنائی، عبوری حکم یا حکم التواء جاری کرسکے۔

شق پچیس کے مطابق کسی عدالت یا اتھارٹی کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ محتسب کی کارروائی کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی سوال اٹھائے اور محتسب کے زیر غور جاری کارروائی کی بابت کوئی حکم امتناعی، عبوری حکم یا حکم التواء جاری کرسکے۔ اس کے علاوہ محتسب یا اس کے اہلکاروں کے خلاف کسی ایسے فعل کی بابت جو نیک نیتی سے کیا گیا ہو، کسی قسم کی چارہ جوئی یا مقدمہ بازی بھی نہیں کی جا سکے گی۔

ابتدا میں حسبہ ادارے کی اپنی پولیس فورس قائم کرنے کی تجویز تھی جو اب تبدیل کر دی گئی ہے۔ اب بل کے مطابق امور کی انجام دہی کے لیے حکومت محتسب کو حسب ضرورت پولیس فورس مہیا کرے گی۔

ان میں کئی اختیارات ایسے مبہم ہیں کہ مستقبل میں مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ جیسے کہ شادی بیاہ میں اسراف کا تعین نہیں۔ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟

کئی لوگوں کے مطابق حسبہ بل بھی شریعت بل اور نفاذ صلوٰت کی طرح کچھ عرصے کے بعد بھول جائے گی۔ صوبائی حکومت نے نفاذ شریعت کا گزشتہ چھ ماہ میں بھول کر بھی ذکر نہیں کیا۔ شاید حسبہ کا بھی یہی حال ہو۔

اس بل کے پیش کرنے پر دبے دبے الفاظ میں یہ دھمکیاں بھی سامنے آ رہی تھیں کہ مرکزی حکومت صوبے میں کوئی تبدیلی لاسکتی ہے۔ ایم ایم اے نے سرحد میں تین سال سے زائد کی حکومت پہلے ہی مکمل کر لی ہے۔ خیال ہے کہ اس بل کی منظوری اور حسبہ کے ادارے کے قیام تک سال چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔

اگر ان دھمکیوں میں دم ہے تو پھر سیاسی مبصرین کے خیال میں اس کا فائدہ ایم ایم اے کو ہی ہوسکتا ہے۔ آنے والے عام انتخابات میں اسے اس خاتمے کا فائدہ ہوسکتا ہے۔ لہذا سال دو سال اگر حکومت چھن بھی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

جو بھی ہو، اس بل کی منظوری اور اس کے بعد کی صورتحال مزید دلچسپ رنگ اختیار کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد