’طالبان طرزحکومت واپس آجائےگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے اٹارنی جنرل نے سپریم کو بتایا ہے کہ حسبہ بل کے نفاذ سے طالبان طرز حکومت واپس آ جائے گا۔ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے پیر کو سرحد حکومت کی طرف سے حسبہ بل کے نفاذ کے خلاف صدر جنرل پرویز مشرف کے ریفرنس پر سماعت دوبارہ شروع کر دی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں ایک نو رکنی فل بنچ حسبہ بل کی سماعت کر رہا ہے۔ اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے صدارتی ریفرنس کے حق میں دلائل دیتے ہوئے سے عدالت سے کہا کہ حسبہ بل کے نفاذ سے شہریوں کی شخصی اور گھریلو آزادی متاثر ہو گی کیونکہ اس بل میں محتسب کو اختیارت دیے گئے ہیں کہ وہ لوگوں کی اخلاقی طرز زندگی پر نظر رکھے۔ سرحد حکومت نے حسبہ بل کا دفاع کرنے کے لیے سابق وزیر قانون خالد انور اور ڈاکٹر فاروق حسن کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس بل میں ایک ایسی پولیس فورس کے قیام کی بات کی گئی ہے جس کو اگر لوگوں کے اخلاقی طرز زندگی پر نظر رکھنے کے اختیارات دے دیے گئے تو یہ خلاف آئین ہو گا کیونکہ ان کے مطابق اس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی۔ اٹارنی جنرل نے یہ بھی کہا کہ اس بل کے نفاذ سے طالبان جیسی طرز حکومت قائم ہو جائے گی جس میں نکر پہنے پر لوگوں کے بال منڈوا دیے جاتے تھے۔ ایک موقع پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ حضرت محمد اور خلفائے راشدین کے دور میں محتسب کا کوئی تصور نہیں تھا اور یہ تصور کافی بعد میں سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو یہ دیکھنا ہو گا کہ حسبہ بل قران اور سنت کے مطابق ہے یا نہیں۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کیا محتسب کو جو اختیارات دیے گئے ہیں وہ جابرانہ تو نہیں ہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس بل کے تحت عدالتوں کے اختیارات کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہےاور اس کے تحت ایک متوازی نظام عدل قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں یہ بھی کہا کہ اس بل میں محتسب کے اختیارات کو دانستہ طور پر لامحدود چھوڑا گیا ہے اور ان پر کوئی قانونی قدغن نہیں لگائی گئی ہے جس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کسی عدالت کو یہ اختیار حاصل نہیں ہو گا کہ وہ محتسب کے اختیارت کو چیک کر سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محتسب کو شہریوں کی زندگیوں میں مداخلت کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔ اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اس بل میں نماز عید کے دوران مسجد کے گرد تجارت کرنے والوں پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نماز عید کے بعد کوئی غبارے والا مسجد کے باہر غبارے بیچتا ہے تو اس کو روکنے سے کیا حاصل ہو گا۔ اس پر سرحد حکومت کے وکیل نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو بھی تو لامحدود اختیارات حاصل ہیں ان پر کوئی کیوں اعتراض نہیں کرتا۔ اس پر عدالت نے خالد انور سے کہا کہ وہ اپنے دلائل کے دوران یہ ساری باتیں کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد عدالت کے سماعت منگل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔ حسبہ بل چودہ جولائی کو سرحد اسمبلی نے پاس کیا تھا۔ اس بل کے حق میں اڑسٹھ جبکہ مخالفت میں چونتیس ووٹ پڑے تھے۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیوں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت کی جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کی سخت مخالفت کر رہی ہیں جبکے دینی جماعتوں کے مطابق یہ قانون صوبہ سرحد، جہاں دینی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت ہے، صوبے میں شریعت کے نفاذ میں مددگار ثابت ہو گا۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے پندرہ جولائی کو یہ ریفرنس آئین کے آرٹیکل ایک سو چھیاسی کے تحت دائر کیا گیا ہے ۔اس ریفرنس میں سات سوالات کئے گئے ہیں اور عدالت سے رائے طلب کی گئی ہے۔ صدر نے سپریم کورٹ سے معلوم کیا ہے کہ حسبہ بل آئین یا اس کی کسی شق سے متصادم تو نہیں ہے اور کیا اس بل کو قانونی حیثیت مل جانے کے بعد آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق سلب تو نہیں ہونگے۔ ریفرنس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آیا کہ اس بل سے متبادل عدالتی نظام کا قیام تو نہیں ہوگا اور لوگوں کی انصاف سے پہنچ دور تو نہ ہوگی۔ عدالت سے پوچھا گیا ہے کہ ان سات سوالات یا کسی ایک سوال کا جواب ہاں میں ہونے کی صورت میں کیا گورنر اس بل پر دستخط کرنے کے لیے پابند ہیں؟ حسبہ بل کے بارے میں وفاقی حکومت اور سرحد حکومت کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور کئی وفاقی وزراء نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت اس بل کو صوبے میں نافذ نہیں ہونے دے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||