متنازعہ حسبہ بل منظور ہو گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد کی صوبائی اسمبلی نے جمعرات کی شام پشاور میں اللہ اکبر کے نعروں کے درمیان متنازعہ حسبہ بل کو اکثریت سے منظور کر لیا۔ اس بل کے حق میں اڑسٹھ جبکہ مخالفت میں چونتیس ووٹ پڑے۔ مسلم لیگ (ن) نے اس اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ اس غیرحاضری کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ متنازعہ حسبہ بل پر تمام دن کی بحث کے بعد سرحد اسمبلی کے سپیکر بخت جہاں خان نے اس بل کے حق میں رائے طلب کی تو متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے پرجوش آواز میں’یس’ کہہ کر اسے منظور کروا لیا۔ ایوان میں حسبہ پر کل شروع ہونے والی گرما گرم بحث جمعرات کو بھی پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہی جس میں حزب اختلاف کے زیادہ ارکان کو بولنے کا موقعہ دیا گیا۔ حزب اختلاف کے اراکین نے حسبہ نامنظور کی تحریر والی سیاہ پٹیاں بازوں پر باندھ رکھی تھیں۔ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے اس مجوزہ ادارے پر کڑی تنقید کی اور اس بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ حزب اختلاف کے رہنما شہزادہ گستاسپ نے اپنی تقریر میں اس بل کو مزید غور کے لئے اسمبلی کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز پیش کی جو حزب اقتدار نے مسترد کر دی۔ اسمبلی کے اندر بھی بل کی مخالفت میں وہی دلائل اور خدشات سننے کو ملے جو گزشتہ کئی ہفتوں سے ذرائع ابلاغ میں جاری بحث کے دوران سننے گئے تھے۔ اپوزیشن اسے آئین اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی رہی جبکہ حکومت اپوزیشن کی باتوں کو غلط تاثر قرار دے کر مسترد کرتی رہی۔ اپوزیشن اراکین نے معاشرے میں موجود سماجی برائیوں کے خاتمے کے پہلے سے موجود اداروں کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم متحدہ مجلس عمل اس بل کو ہر صورت میں منظور کرانے کے ارادے کے ساتھ ایوان میں داخل ہوئی تھی اور یہ ہدف اس نے حاصل کر لیا۔ وزیر اعلی اکرم خان دورانی کے امریکی دورے پر ہونے کی وجہ سے حکومت کی جانب سے بحث سینئر وزیر سراج الحق نے سمیٹی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب لوگوں کو اٹھا کر گوانتناموبے بھیجا جاتا ہے تو اس وقت آئین کسی کو یاد نہیں آتا اور جب وہ اسمبلی کے ذریعے قانون سازی کی بات کرتے ہیں تو اسے آئین کے خلاف قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منظوری کے بعد بھی وہ اپوزیشن کے ساتھ کسی مثبت ترمیم کے لئے بات کر سکتے ہیں۔ ایم ایم اے کے پیر محمد خان کی جانب سے ایک ترمیم منظور کر لی گئی جس میں اسمبلی سیکریٹریٹ کو محتسب کے دائر اختیار سے باہر قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل اسمبلی کے باہر مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے سینکڑوں کارکنوں نے جمعرات کی دوپہر حسبہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور ٹائر جلائے۔ سیاہ بینرر اور جماعتی پرچم اٹھائے ان سیاسی کارکنوں نے حسبہ اور ایم ایم اے کے خلاف نعرہ بازی کی۔ بل اب آئینی تقاضے کے مطابق گورنر سرحد کے پاس دستخظ کے لئے بھیجا جائے گا جنہیں تیس روز کے اندر اس واپس صوبائی حکومت کا لوٹانا ہوگا۔ وفاقی حکومت پہلے ہی اس بل کی مخالفت کا اعلان کر چکی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ کئی مبصرین کے مطابق وہ عدالت سے اس سلسلے میں رجوع بھی رک سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||