حسبہ بل: دفاعی پینل کی تشکیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد حکومت نے سپریم کورٹ میں حسبہ بل کے دفاع کے لیے ماہرین کے پینل کا انتخاب کر لیا ہے۔ عدالت عظمی آئندہ پیر کے روز وفاقی حکومت کی درخواست پر اس بل کے آئین سے متصادم ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے گی۔ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت نے اس ماہ کی چودہ تاریخ کو حسبہ بل کو سرحد اسمبلی سے اکثریت سے منظور کرا لیا تھا۔ اس بل کے ذریعے سرحد حکومت صوبے میں محتسب کا ادارہ قائم کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اس ادارے کو دیے گئے کچھ اختیارات اور طریقہ کار کی وجہ سے یہ متنازعہ ہوگیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس بل کی صوبائی اسمبلی سے منظوری کے فورا بعد اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔ اس اہم مقدمے کے بھرپور دفاع کے لیے صوبائی حکومت نے اسی وقت سے بھاگ دوڑ شروع کر دی۔ جمعرات کے روز پشاور میں سینر صوبائی وزیر سراج الحق کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی کےاجلاس میں حسبہ کے دفاع کے لیے غور و خوص کے بعد سینئر وکلا پر مشتمل ایک پینل کو حتمی شکل دے دی۔ پینل میں سابق وفاقی وزیر قانون خالد انور، ڈاکٹر فاروق حسن اور پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالکریم کنڈی شامل ہیں۔ صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ وکلا پینل کی معاونت کے لیے چوبیس تاریخ کو جیّد علما کا ایک وفد بھی اسلام آباد پہنچے گا اور کیس کی سماعت کے دوران وہاں موجود رہے گا۔ اس موقعہ پر بات کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے عدالت میں ریفرنس دائر ہونے کے باوجود اس سلسلے میں بیانات دینے کے عمل پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ کہیں عدلیہ پر اثر انداز ہونے کا موجب نہ بنیں۔ سینئر وزیر نے اس معاملے پر بیان بازی سے باز رہنے کی درخواست کی۔ صدر پرویز مشرف کی جانب سے اس کیس کی پیروی اٹارنی جنرل مخدوم علی خان کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||