فضل الرحمٰن دبئی نہیں رک سکتے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمن کو دبئی ائر پورٹ پر روک لیا گیا ہے۔ پاکستانی دفتِرخارجہ اور وزیر اطلاعات نے مولانا فضل الرحمن کو دبئی ائرپورٹ پر روکے جانے کی تصدیق کی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے بی بی سی کو بتایا کہ امکان ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو پاکستان ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ دبئی ایئرپورٹ سے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے خود کو بلیک لسٹ کرنے سے متعلق سامنے آنے والے بیانات پر تعجب کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب متحدہ عرب امارت کے ویزے کے لیے درخواست دی گئی تھی تو چند روز تک ان کا پاسپورٹ سفارت خانے میں رکھا گیا جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ سفارت خانے نے متعلقہ اداروں سے ضرور کلیئرنس لی ہوگی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ اب فرد کی بات نہیں بلکہ ملک کی عزت کا معاملہ ہے اور جب انہیں تمام حقائق کا علم ہو جائے گا تو اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نعیم خان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفیر کی مداخلت پر پہلے تو مولانا فضل الرحمٰن کو ائرپورٹ سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی مگر پھر کسی وجہ سے انہیں ائرپورٹ پر ہی روک لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب مولانا نے خود پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن کل شب لیبیا سے دبئی پہنچے تو ان کو ائرپورٹ حکام نے روک لیا اور کہا کہ ان کو دبئی میں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی۔ حافظ حسین احمد کے مطابق قائد حزب اختلاف کے پاس دبئی کا ویزا تھا اور انھوں نے وہاں دو دن قیام کے بعد سعودی عرب جانا تھا۔ حافظ حسین احمد نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے اس بات کو دانستہ چھپانے کی کوشش کی اور مولانا فضل الرحمن کو دبئی ائرپورٹ پر روک لیے جانے کے باوجود وہاں کے پاکستانی سفارتخانے نے کچھ نہیں کیا جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو متحدہ عرب امارات کی حکومت نے بلیک لسٹ کیا ہوا ہے جس کے باعث اب انہیں پاکستان ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||