لندن میں بھی روکا گیا: سمیع الحق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کے رکن اور جمیعت علمائے اسلام کے ایک دھڑے کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے الزام لگایا ہے کہ انہیں انیس اپریل کو بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز کے ائرپورٹ پر روکے رکھنے کے بعد چوبیس اپریل کو برطانیہ میں بھی پوچھ گچھ کے لئے لندن کے ائرپورٹ پر بھی روکا گیا اور ان کے سامان کی مکمل تلاشی کے بعد انہیں پاکستان واپس آنے دیا گیا۔ پیر کی شب سینیٹ کے اجلاس میں مولانا سمیع الحق نے کہا کہ انہیں تعجب ہے کہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے ان کے ساتھ برسلز میں روا رکھے گئے سلوک پر احتجاج کے باوجود انھیں پھر برطانیہ میں روکا گیا۔ اس واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کو لندن کے ائرپورٹ پر تین برطانوی فوجیوں نے روکا اور ان کو ایک علیحدہ کمرے میں لے گئے جس کے بعد ان کے بریف کیس اور بٹوے سمیت ہر چیر کو نکال کر انہوں نے اس کو معائنے کے لئے بھجوایا۔ مولانا سمیع کے مطابق انہوں نے برطانوی حکام کو بتایا کہ وہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایک رکن ہیں مگر انھوں نے ایک نہ سنی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ بیرون ملک ہتک آمیز سلوک پاکستانی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔انہوں نے کہا کہ جس کو مغرب دہشت گردی کہتی ہے وہ ان کے نزدیک مقدس جہاد ہے۔مولانا سمیع الحق نے الزام لگایا کہ پاکستان نے مغرب سے دوستی کی خاطر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔ اس سے قبل سینیٹ میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں مولانا سمیع الحق کے ساتھ بیلجیئم میں ارکان یورپی پارلیمان کے نامناسب رویے کی مذمت کی گئی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں یورپی یونین کے حکام کے ساتھ یہ مسئلہ سرکاری سطح پر اٹھائے اور اپنا سخت احتجاج ریکارڈ کرائے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ نہ ہو۔ پاکستان کی قومی اسمبلی پہلے ہی اس واقعہ کے خلاف حکمران اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے مشترکہ طور پر ایک قرارداد منظور کی تھی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بیس اپریل کو بیلجیئم اور یورپین یونین کی طرف سے مولانا سمیع الحق کی پاکستانی وفد میں شمولیت کے خلاف احتجاج کے طور پر یورپی پارلیمینٹ کی پاکستانی پارلیمانی وفد کے ساتھ بات چیت منسوخ کر نے پر بیلجیئم اور یورپین یونین کے اسلام آباد میں سفیروں کو دفتر خارجہ طلب کیا تھا اور ان سے اس رویے کی جواب طلبی کی تھی۔ یورپی پارلیمینٹ کی جنوبی ایشیاء انٹر پارلیمینٹری کمیٹی کی سربراہ اور برطانوی لیبر پارٹی کی رکن نینا گِل نے ان ملاقاتوں کی منسوخ کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب یورپی پارلیمینٹ کے ارکان کو معلوم ہوا کہ پاکستان وفد میں ماضی میں طالبان کے حامی مولانا سمیع الحق بھی شامل ہیں تو یہ ملاقات منسوخ کر دی گئی۔ نینا گِل کا کہنا ہے کہ یورپی پارلیمینٹ جمہوریت، مساوات اور انسانی حقوق جیسے اعلیٰ مقاصد کی پاسداری کرتی ہے۔ ’اگرچہ پارلیمینٹ کے ارکان مختلف سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن وہ مولانا سمیع الحق کی پاکستان وفد میں شمولیت کو قبول نہیں کر سکتے۔‘ مولانا سمیع الحق اُن مذہبی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے افغانستان اور عراق پر امریکی حملوں کی مخالفت کی ہے اور ان حملوں کے خلاف جلوس نکالے تھے۔ تاہم مولانا سمیع الحق کے اس نئے الزام کے بعد کہ انھیں برطانیہ میں بھی روکا گیا،وفاقی وزیر مملکت برائے خارجہ امور خسرو بختیار نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد ایسا سلوک صرف پاکستانی وفد کے ساتھ ہی نہیں ہوا ہے۔ وزیر مملکت کے اس بیان پر اپوزیشن ارکان نے شور مچایا اور کہا کہ وہ اس معاملے پر انتہائی مضحکہ خیز موقف اختیار کر رہے ہیں۔ اپوزیشن مسلم لیگ نواز کے اسحق ڈار اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف رضا ربانی نے کہا کہ پاکستانی ارکان پالیمنٹ کے ساتھ ایسا سلوک اس لئے ہوا ہے کہ پاکستان کے اندر بھی ارکان پالیمنٹ کے ساتھ نامناسب رویہ رکھا جاتا ہے۔رضا ربانی نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ بیرون ملک ایسا سلوک پاکستان کے دفتر خارجہ کی نااہلی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||