یورپی پارلیمان کا ملاقات سےانکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمیعت علماءِ اسلام کے رہنما مولانا سمیع الحق کی پاکستانی وفد میں شمولیت کے خلاف احتجاج کے طور پر یورپی پارلیمینٹ نے بدھ کو وفد کے ساتھ بات چیت منسوخ کر دی۔ یورپی پارلیمینٹ کی جنوبی ایشیاء انٹر پارلیمینٹری کمیٹی کی سربراہ اور برطانوی لیبر پارٹی کی رکن نینا گِل کا کہنا ہے کہ گفتگو کا سلسلہ اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب یورپی پارلیمینٹ کے ارکان کو معلوم ہوا کہ پاکستان وفد میں ماضی میں طالبان کے حامی مولانا سمیع الحق بھی شامل ہیں۔ مولانا سمیع الحق پاکستانی پارلیمینٹ کے ایوان بالا یا سینیٹ کے رکن اور جمیعت علماءِ اسلام کے ایک دھڑے کے سربراہ ہیں۔ وہ اُن مذہبی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے افغانستان اور عراق پر امریکی حملوں کی مخالفت کی ہے اور ان حملوں کے خلاف جلوس نکالے ہیں۔ نینا گِل کا کہنا ہے کہ یورپی پارلیمینٹ جمہوریت، مساوات اور انسانی حقوق جیسے اعلیٰ مقاصد کی پاسداری کرتی ہے۔ ’اگرچہ پارلیمینٹ کے ارکان مختلف سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن وہ مولانا سمیع الحق کی پاکستان وفد میں شمولیت کو قبول نہیں کر سکتے۔‘ ’ہم ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتے جو جمہوریت، مساوات اور انسانی حقوق کے دائرہ کار سے باہر رہتے ہیں۔ ایسے لوگ ان اصولوں کی ترجمانی کرتے ہیں جن کے ہم خلاف ہیں۔‘ مولانا سمیع الحق برسلز کا دورہ کرنے والے سینیٹ کے اس آٹھ رکنی وفد کا حصہ ہیں جو بدھ کو یورپی پارلیمینٹ کی بائیس رکنی کمیٹی سے مذاکرات کرنے والا تھا۔ پاکستانی وفد یورپی پارلیمینٹ کے خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ ایلمار بروک سے بھی ملاقات کرنے والا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||