BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 April, 2005, 08:24 GMT 13:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلجیئم،یورپی یونین سے جواب طلبی

 مولانا سمیع الحق
مولانا سمیع الحق کو برسلز ایئرپورٹ پر بھی روکا گیا
پاکستان نے بیلجیئم اور یورپین یونین کی طرف سے بدھ کوجمیعت علمائے اسلام کے رہنما مولانا سمیع الحق کی پاکستانی وفد میں شمولیت کے خلاف احتجاج کے طور پر یورپی پارلیمینٹ کی پاکستانی پارلیمانی وفد کے ساتھ بات چیت منسوخ کر نے پر بیلجیئم اور یورپین یونین کے سفیروں کو دفتر خارجہ طلب کر لیا ہے اور ان سے اس رویے کی جواب طلبی کی ہے۔

یورپی پارلیمینٹ کی جنوبی ایشیاء انٹر پارلیمینٹری کمیٹی کی سربراہ اور برطانوی لیبر پارٹی کی رکن نینا گِل نے ان ملاقاتوں کی منسوخی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب یورپی پارلیمینٹ کے ارکان کو معلوم ہوا کہ پاکستان وفد میں ماضی میں طالبان کے حامی مولانا سمیع الحق بھی شامل ہیں تو یہ ملاقات منسوخ کر دی گئی۔

نینا گِل کا کہنا ہے کہ یورپی پارلیمینٹ جمہوریت، مساوات اور انسانی حقوق جیسے اعلیٰ مقاصد کی پاسداری کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ پارلیمنٹ کے ارکان مختلف سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن وہ مولانا سمیع الحق کی پاکستان وفد میں شمولیت کو قبول نہیں کر سکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ’ ہم ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتے جو جمہوریت، مساوات اور انسانی حقوق کے دائرہ کار سے باہر رہتے ہیں اور ایسے لوگ ان اصولوں کی ترجمانی کرتے ہیں جن کے ہم خلاف ہیں۔‘

پاکستانی وفد یورپی پارلیمینٹ کے خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ ایلمار بروک سے بھی ملاقات کرنے والا تھا۔

مولانا سمیع الحق پاکستانی پارلیمینٹ کے ایوان بالا یا سینیٹ کے رکن اور جمیعت علمائے اسلام کے ایک دھڑے کے سربراہ ہیں۔ وہ اُن مذہبی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے افغانستان اور عراق پر امریکی حملوں کی مخالفت کی ہے اور ان حملوں کے خلاف جلوس نکالے ہیں۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعرات کو اس واقعے کے خلاف حکمران اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے مشترکہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں بیلجیئم کی حکومت کے پاکستانی پالیمانی وفد کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کی مذمت کی گئی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس مسئلے پر یورپین یونین اور بیلجیئم سے سخت باز پرس کرے۔

جب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو کئی ارکانِ اسمبلی نے فلور پر اِس واقعہ پر احتجاج کیا جس کے بعد وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نے ایوان کو بتایا کہ وہ اس مسئلے پر ایک تحریک پیش کریں گے جس میں اس واقعے کی مذمت کی گئی ہے۔

حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے اپنی تقاریر میں کہا کہ مولانا سمیع الحق پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ کے رکن ہیں اور ان کی توہین پاکستان کی پارلیمنٹ کی توہین ہے۔

وزیرِ صحت نصیر خان نے ایوان کو بتایا کہ مولانا سمیع الحق کو برسلز ایئرپورٹ پر بھی روکا گیا اور وزیرِاعظم شوکت عزیز نےاس مسئلے پر خود بیلجیئم کے حکام سے بات کی جس کے بعد مولانا سمیع الحق کو جانے کی اجازت دی گئ۔

اس موقع پر پی پی پی کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان کے ارکان پارلیمنٹ کی تضحیک اس وجہ سے ہوئی ہے کہ پاکستان میں پارلیمنٹ آزاد نہیں ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے پارلیمنٹ کو ربر سٹیمپ کے طور پر استعمال کیا ہے جس سے دوسرے ممالک کو بھی پتہ چل گیا ہے کہ پاکستان کے پارلیمنٹیرینز کی وقعت کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ملک کے اندر ارکان اسمبلی کا استحقاق مجروع ہوتا ہے تو پھر بیرون ملک بھی ایسا ہی ہو گا۔ تاہم انھوں نے اس واقعے کی مذمت کی۔

اعتزاز کی تقریر پر حکومتی ارکان نے شور مچایا جس کے بعد ایوان میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان نعرے بازی شروع ہو گئی۔ اس کے بعد جب اپوزیشن رکن عمران خان کو بولنے کی اجازت نہیں دی گئی تو تمام اپوزیشن جماعتوں نے ایوان سے احتجاجا واک آؤٹ کیا۔

اس کے بعد وزیر مملکت برائے امور خارجہ خسرو بختیار نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے اس واقعے کے بعد آج دفتر خارجہ میں بیلجیئم اور یورپی یونین کے اسلام آباد میں سفیروں کو طلب کر لیا گیا ہے اور ان سے اس سلوک پر جواب مانگا گیا ہے۔

وزیر کے بیان کے بعد ڈاکٹر شیر افگن نے اس واقعے کی مذمت میں تحریک پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ یہ ایوان برسلز کے واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے اور بیلجیئم کی حکومت کے غیر مناسب رویے پر حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں بیلجیئم کی حکومت سے سرکاری طور پر احتجاج کرے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد