امریکہ: پچاس پاکستانی ملک بدر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ سے تین خواتین اور چار بچوں سمیت ملک بدر کیے گئے پچاس سے زیادہ پاکستانی ایک خصوصی پرواز کے ذریعے بدھ کے روز اسلام آْباد پہنچ گئے۔ امیگریشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر کلیم امام نے صحافیوں کو بتایا کہ مختلف الزامات کے تحت گرفتار ہونے والے ان پاکستانیوں کو امریکی حکام نے ملک بدر کیا ہے۔ ان کے مطابق واپس پہنچنے والوں میں سے کئی ایسے بھی ہیں جن کو امریکی عدالتوں نے سزائیں دی تھیں اور وہ سزائیں بھگتنے کے بعد ملک بدر کیے گئے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ امریکی حکومت نے پاکستانی حکام کی مشاورت کے بعد ان افراد کو ملک بدر کیا۔ ان کے مطابق اسلام آباد پہنچنے والوں میں تین خواتین اور چار بچے بھی شامل ہیں۔ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر شام کو پہنچنے والی پرواز میں آنے والے ان پاکستانیوں سے مقامی سیکورٹی حکام نے پوچھ گچھ کی اور بعد میں انہیں باہر آنے کی اجازت دی۔ پینتالیس سالہ شاہ ویز خان نے اپنا تعلق صوبہ سرحد کے شہر سوات سے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سن ننانوے سے امریکہ میں مقیم تھے اور چار ماہ قبل انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کے مطابق وہ فلاا ڈیلفیا میں رہتے تھے اور انہیں بغیر کسی وجہ کے اٹھالیا گیا۔ شاویز خان کے ہمراہ آنے والے دلاور خان نے اپنا تعلق بھی صوبہ سرحد کے شہر پبی سے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایک عورت کی شکایت پر گرفتار کیا گیا جس نے ان پر الزام لگایا تھا کہ وہ اس کے بچّے کو مارنا چاہتے ہیں۔ دلاور خان کے مطابق سڑک پر ایک عورت اچانک ان سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں اس کا بچہ گر پڑا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ صدر کلنٹن کے زمانے سے جیل میں تھے۔ امریکہ سے چودہ سو پاکستانی شہری مختلف الزامات کے تحت پہلے ہی ملک بدر ہوکر وطن پہنچ چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||