| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’پاکستانی مسلمان ہونا جرم تھا‘
القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں کینیڈا سے ملک بدر کیے جانے والے پانچ پاکستانی طالبِ علم کینیڈین حکام پر ہرجانے کا دعویٰ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ وہ غیر قانونی طور پر حراست میں رکھے جانے اور انہیں مشتبہ دہشت گردوں کی صف میں شامل کیے جانے پر کینیڈین حکام کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کرنے کے متعلق پاکستان میں اپنے وکلاء سے صلح مشورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹورونٹو میں انہیں گرفتار کرنے کے بعد حکام نے ان کے ساتھ بہت برا برتاؤ کیا جو تین مہینے، جب تک وہ حراست میں رہے، جاری رہا۔ ایک شخص نے کہا کہ اسے مارا پیٹا گیا جبکہ دوسرے کا کہنا تھا کہ انہیں قانونی مدد تک رسائی سے انکار کیا گیا۔ حقوقِ انسانی کے کارکنوں کے مطابق ان اشخاص کو، جن کی کل تعداد انیس تھی، صرف اس بنیاد پر گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ مسلمان تھے۔ ایک شخص محمد وحید نے بتایا کہ گرفتاری کے وقت چھ پولیس اہلکاروں نے اس پر مکوں اور لاتوں کی بارش کر دی اور اس کے بعد اسے قتل کے الزام میں قید ایک شخص کے ساتھ جیل میں بند کر دیا گیا۔ پانچوں طالبِ علموں نے کہا کہ تقریباً تین ماہ انہیں حراست میں رکھنے کے بعد جب حکام کو کچھ نہ ملا تو انہیں کسی امیگریشن کے قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں ملک بدر کر دیا گیا۔ کینیڈا سے نکالے جانے والے یہ طالبِ علم کہتے ہیں کہ انہیں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں اصل میں کیوں ملک بدر کیا گیا، ماسوائے اس کے کہ وہ پاکستانی مسلمان تھے۔ حقوقِ انسانی کی معروف کارکن عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ مفصل اور باقاعدہ تحقیقات کے بعد پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ان اشخاص کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور انہیں غلط بدنام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مغربی ممالک میں دہشت گردی کے خلاف قوانین کو ناجائز اور غلط استعمال کرنے کا رواج سا پڑ گیا ہے اور اس کا بڑا نشانہ مسلمان ہی بنتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||