ملک بدر کرنے سے روک دیا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد میں ایک عدالت نے ایک بھارتی عورت کو ملک بدر کیے جانے کے حکم پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس ناصر الملک اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ حکم بھارتی عورت حفصہ کے پاکستانی شوہر کی درخواست پر جاری کیا۔ عدالت نے اس درخواست پر حتمی فیصلے تک اسے ملک بدر نہ کرنے کا حکم دیا اور وزارت داخلہ سے وضاحت طلب کی ہے۔ مردان سے تعلق رکھنے والے محمد امان خان 1995 میں طبی تعلیم کے لیے یوکرائن گئے جہاں ان کی ملاقات بھارتی لڑکی دیویا دیانن سے ہوئی۔ گزشتہ برس لڑکی نے مسلمان ہوکر اسلامی نام حفصہ رکھ لیا اور امان سے شادی کر لی۔ امان نے اپنی بیوی کی شہریت کے لیے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا لیکن اس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکومت نے حفصہ کو تیس جون تک ملک چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے خلاف شوہر نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے حکم امتناعی جاری کر دیا۔ درخواست گزار نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ شہریت کے قانون کے تحت کوئی غیرملکی پاکستانی کے ساتھ شادی کے بعد ملک کا شہری بن جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حفصہ حاملہ ہیں اور اگست میں ماں بننے والی ہیں لہذا وزارت داخلہ کو انہیں ملک بدر کرنے سے روکا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||