BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 June, 2004, 07:26 GMT 12:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملک بدر کرنے سے روک دیا گیا

پشاور ہائی کورٹ
پشاور ہائی کورٹ نے حکم امتناعی کے ذریعے فیصلہ روک دیا
پاکستان کے صوبہ سرحد میں ایک عدالت نے ایک بھارتی عورت کو ملک بدر کیے جانے کے حکم پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس ناصر الملک اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ حکم بھارتی عورت حفصہ کے پاکستانی شوہر کی درخواست پر جاری کیا۔ عدالت نے اس درخواست پر حتمی فیصلے تک اسے ملک بدر نہ کرنے کا حکم دیا اور وزارت داخلہ سے وضاحت طلب کی ہے۔

مردان سے تعلق رکھنے والے محمد امان خان 1995 میں طبی تعلیم کے لیے یوکرائن گئے جہاں ان کی ملاقات بھارتی لڑکی دیویا دیانن سے ہوئی۔ گزشتہ برس لڑکی نے مسلمان ہوکر اسلامی نام حفصہ رکھ لیا اور امان سے شادی کر لی۔

امان نے اپنی بیوی کی شہریت کے لیے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا لیکن اس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکومت نے حفصہ کو تیس جون تک ملک چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے خلاف شوہر نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے حکم امتناعی جاری کر دیا۔

درخواست گزار نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ شہریت کے قانون کے تحت کوئی غیرملکی پاکستانی کے ساتھ شادی کے بعد ملک کا شہری بن جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حفصہ حاملہ ہیں اور اگست میں ماں بننے والی ہیں لہذا وزارت داخلہ کو انہیں ملک بدر کرنے سے روکا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد