BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 June, 2004, 13:25 GMT 18:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غلط فہمیاں دور ہو رہی ہیں‘

مسعود خان
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کے بیانات پر انہیں کوئی فکر نہیں کیونکہ ان کا جواب بھی پاکستان نے دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت کے وزیر خارجہ نےگزشتہ ہفتے میں دو بار پاکستانی ہم منصب سے فون پر غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے بات کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے محتاط رہنے اور بیان بازی سے گریز کرنے کی تجویز دی تھی اور دونوں ممالک اس پر عمل پیرا ہیں۔

چین، بھارت اور پاکستان میں جوہری مذاکرات کی تجویز پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ یہ بھارت کی تجویز ہے یا محض ایک بیان، وہ کہہ رہے تھے کہ آیا بھارت اس میں سنجیدہ بھی ہیں یا نہیں ۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ پاکستان جب بات چیت کے لئے رواں ماہ دہلی جائے گا تو وہ ان سے اس تجویز کی تفصیلات معلوم کریں گے۔

مسعود خان نے بتایا کہ ستائیس اور اٹھائیس جون کو دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹری ملاقات کریں گے اور کشمیر سمیت دیگر معاملات پر بات چیت کریں گے۔

ایران یا وسطی ایشیا سے پاکستان کے ذریعےگیس پائپ لائن بچھانے کے سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک بار پھر گارنٹی دیتا ہے کیونکہ یہ پائپ لائن خطے کے تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عراق میں موجود امریکی اور ان کے اتحادی فوجوں کو پاکستان قابض فوجیں سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ عراق میں نئی حکومت کا فیصلہ عراقی عوام کریں ۔

ترجمان نے عبوری عراقی انتظامیہ کو تسلیم کرتے ہوئے ان کا خیرمقدم کیا تاہم ان کی رائے تھی کہ عراق میں پاکستانی فوج بھیجنے کے متعلق ان کی پرانی پالیسی جاری رہے گی۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ نے عراق میں اقوام متحدہ کے مشن کے تحفظ کے لیے پاکستانی فوج کی تقرری کی بات کی تھی اور پاکستان نے ابھی تک انہیں جواب نہیں دیا۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ ازبکستان سے ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ ہے لیکن قبائلی علاقے وانا سے گرفتار ہونے والے افراد سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔

جب ان سے امریکہ کے صدارتی امیدوار جان کیری سے منسوب اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ کامیاب ہوئے تو ان کی انتظامیہ پاکستان کے جوہری پروگرام پر وسیع ’کنٹرول‘ کی کوشش کرے گی تو ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن ہی نہیں ، پاکستان خود مختار ملک ہے اور پاکستان کے جوہری پروگرام کا تحفظ پاکستان ہی کرے گا کوئی اور نہیں۔

حال ہی میں کیے گئے میزائل تجربوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا جوہری اور میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے اور ضرورت پڑنے پر تجربات کیے جاتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا ایسے تجربات کے بعد بعض اخبارات نے بجا طور پر لکھا ہے کہ ان سے ثابت ہوگیا ہے کہ حکومت نے جوہری و میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد