BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حسبہ بل پر سماعت ملتوی

سپریم کورٹ
سرحد حکومت کے وکیل نے مقدمہ کے فیصلے تک حسبہ بل پر عملدرآمد کو روکنے کو غیر آئینی قرار دیا ہے
سپریم کورٹ نے مختصر سماعت کے بعد سرحد حکومت کی طرف سے حسبہ بل کے نفاذ کے خلاف صدر جنرل پرویز مشرف کے ریفرنس پر سماعت یکم اگست تک ملتوی کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں پیر کو ایک نو رکنی فل بنچ نے حسبہ بل کی سماعت شروع کی تو سرحد حکومت کے وکیل خالد انور نے اپنے ابتدائی دلائل میں کہا کہ ان کو صدارتی ریفرنس کی کاپی دیر سے ملی ہے جس کے باعث وہ اپنے دلائل تیار نہیں کر سکے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی جائے۔

تاہم چیف جسٹس افتخار چودھری نے کہا کہ اس کیس کی سماعت کے لیے اتنا بڑا بنچ خصوصی طور پر تشکیل دیا گیا ہے لہذا اس کیس کی سماعت اتنے دنوں کے لیے ملتوی نہیں کی جا سکتی۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر اس کیس کی سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کی جائے تو پھر عدالت حسبہ بل کے نفاذ کو روکنے کے لیے احکامات جاری کرے۔ ان کے مطابق سترہ اگست تک اگر صوبہ سرحد کے گورنر اس بل پر دستخط نہیں کرتے تو یہ بل آئینی طور پر نافذالعمل ہو جائے گا۔

تاہم سرحد حکومت کے وکیل خالد انور نے کہا کہ ایسا کرنا غیر آئینی ہو گا۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ ایسا کیا جائے کہ حسبہ بل کے نفاذ کو اس وقت تک معطل کر دیا جائے جب تک سپریم کورٹ اس بارے میں اپنا فیصلہ نہیں سنا دیتی۔ سرحد حکومت کے وکیل نے چیف جسٹس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آئینی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک منتخب اسمبلی کے پاس کردہ بل کے نفاذ کو روکا دیاگیا ہو۔

حسبہ بل چودہ جولائی کو سرحد اسمبلی نے پاس کیا تھا۔ اس بل کے حق میں اڑسٹھ جبکہ مخالفت میں چونتیس ووٹ پڑے تھے۔

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت کئی جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کی سخت مخالفت کر رہی ہیں جبکے دینی جماعتوں کے مطابق یہ قانون صوبہ سرحد میں، جہاں دینی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت ہے، شریعت کے نفاذ میں مددگار ثابت ہو گا۔

صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے پندرہ جولائی کو یہ ریفرنس آئین کے آرٹیکل ایک سو چھیاسی کے تحت دائر کیا گیا ہے ۔ اس ریفرنس میں سات سوالات کئے گئے ہیں اور عدالت سے رائے طلب کی گئی ہے۔

صدر نے معلوم کیا ہے کہ حسبہ بل، آئین یا اس کی کسی شق سے متصادم تو نہیں ہے اور کیا اس بل کو قانونی حیثیت مل جانے کے بعد آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق سلب تو نہیں ہونگے۔

ریفرنس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آیا کہ اس بل سے متبادل عدالتی نظام کا قیام تو نہیں ہوگا اور لوگوں کی پہنچ سے انصاف دور تو نہ ہو جائےگی۔

عدالت سے پوچھا گیا ہے کہ ان سات سوالات یا کسی ایک سوال کا جواب ہاں میں ہونے کی صورت میں کیا گورنر اس بل پر دستخط کرنے کے لیے پابند ہیں؟

حسبہ بل کے بارے میں وفاقی حکومت اور سرحد حکومت کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور کئی وفاقی وزرا نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت اس بل کو صوبے میں نافذ نہیں ہونے دے گی۔

سرحد کے صوبائی وزیر قانون ملک ظفر اعظم نے آج سپریم کورٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزرا پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ وہ کیس کی عدالت میں سماعت کے دوران بھی متنازعہ بیانات دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے بل کو سپریم کورٹ میں بھجوانے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سرحد حکومت عدالت عالیہ کے فیصلے کو تسلیم کرے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد