BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 December, 2005, 02:09 GMT 07:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ونی، ریپ اور جنرل مشرف کا بیان

مختار مائی
مختار مائی کو صدر مشرف کے بیان سے شدید دکھ پہنچا
سال رفتہ میں جنرل مشرف اور ان کی حکومت ’اعتدال پسند روشن خیالی‘ کی مبہم اصطلاح کے تحت عالمی برادری میں اپنا ’سافٹ امیج‘ ابھارنے میں کوشاں نظر آئے لیکن اس حوالے سے انہیں جس بات نے سب سے زیادہ پریشان کیے رکھا وہ تھی پاکستان میں خواتین کو درپیش مسائل اور ان پر ہونے والی بحث۔

جنرل مشرف مسلسل یہ شکایت کرتے سنائی دیے کہ خواتین کو درپیش مسائل کے حوالے سے صرف پاکستان کو ہی کیوں ہدف تنقید بنایا جاتا ہے جبکہ خواتین تو ہر جگہ مشکلات کا شکار ہیں۔ اپنے دلائل میں وزن پیدا کرنے کے لیے وہ امریکہ، فرانس، برطانیہ اور دوسرے کئی مہذب کہلائے جانے والے ممالک میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے واقعات کے اعداد و شمار بھی بیان کرتے رہے۔

تاہم وہ اس بات کو یا تو سمجھ نہیں پائے یا پھر نظر انداز کرتے رہے کہ اصل مسئلہ جنسی زیادتیوں کے واقعات کے اعداد و شمار کے تقابلی جائزے کا نہیں بلکہ پاکستان میں ظلم کا شکار عورتوں کو حصول انصاف میں پیش آنے والی قانونی و سماجی رکاوٹوں کا ہے۔

سال دوہزار پانچ میں ڈاکٹر شازیہ خالد، مختار مائی، سونیا ناز اور پھر خون بہا یا بدلہ صلح میں لڑکیوں کو ’ونی‘ کرنے کی روایت کے حوالے سے پاکستانی خواتین کو درپیش مسائل موضوع بحث رہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ذرائع ابلاغ ان معاملات پر توجہ دلاتے رہے جبکہ حکومتی اہلکار اسے ملک دشمنی سے تعبیر کرتے نظر آئے۔ اس سے یہ تاثر سامنے آیا کہ جیسے پاکستان کی موجودہ حکومت ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے مظلوم عورتوں کو خاموش دیکھنا زیادہ پسند کرتی ہے۔

بلوچستان میں واقع سوئی گیس فیلڈ کے ہسپتال کی ڈاکٹر شازیہ خالد کو دو اور تین جنوری کی درمیانی رات جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب سات جنوری کے روز ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے قبائلیوں اور فوج کے درمیان ’جنگ‘ کی سی صورتحال پیدا ہوگئی جو کئی دن تک جاری رہی۔ اس دوران دونوں اطراف سے گولہ و بارود کا آزادانہ استعمال ہوا اور کئی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔

قبائلیوں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے میں فوجی ادارے ڈیفنس سیکیورٹی گارڈز کے کیپٹن عماد ملوث ہیں اور اسی لیے گیس فیلڈ کے حکام اس معاملے کو دبا رہے ہیں جبکہ آئی ایس پی آر کے میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ قبائلی افراد ایک ’معمولی‘ واقعے کو بہانہ بنا کر سوئی گیس فیلڈ پر حملہ آور ہوئے ہیں۔

آمنہ نیازی
آمنہ نے ونی ہونے سے انکار کیا اور اس کے بعد کئی کیس سامنے آئے

بہرحال اس مسلح تصادم کے نتیجے میں ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ پیش آنے والے جنسی زیادتی کے واقعے نے اندرون و بیرون ملک توجہ حاصل کرلی۔ حکومت نے بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک جج پر مشتمل عدالتی ٹربیونل کے ذریعے تحقیقات کا حکم دے دیا۔

ابھی ٹربیونل کی رپورٹ آنا باقی تھی کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ٹیلی ویژن پر دیے گئے اپنے ایک بیان میں کیپٹن عماد کو اس واقعے میں بے گناہ قرار دیتے ہوئے ذومعنی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’اس واقعے کے کچھ حقائق ایسے ہیں جنہیں وہ بیان نہیں کرنا چاہتے کیونکہ شاید خاتون ڈاکٹر کے لیے یہ مناسب نہ ہو‘۔

بعد میں عدالتی ٹربیونل نے بھی کیپٹن عماد کو بے گناہ قرار دیا۔جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد ڈاکٹر شازیہ کو خاموش رکھنے کے لیے ادویات کے ذریعے مسلسل بے ہوش رکھا گیا اور اسی حالت میں انہیں کراچی کے ایک ذہنی امراض کے کلینک میں داخل کرا دیا گیا۔ڈاکٹر شازیہ کو بعد میں ان کے گھر منتقل کر دیا گیا لیکن آزاد ذرائع کو ان تک رسائی حاصل نہ تھی۔

اٹھارہ مارچ کے روز ڈاکٹر شازیہ اور ان کے شوہر پراسرار طور پر راولپنڈی/اسلام آباد ایئر پورٹ سے برطانیہ روانہ ہوگئے۔ حکومت کا دعویٰ تھا کہ ڈاکٹر شازیہ اپنی مرضی سے ملک چھوڑ کر گئی ہیں لیکن اپنے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر شازیہ نے واضح طور پر کہا وہ پاکستان میں رہ کر اپنا مقدمہ لڑنا چاہتی تھیں لیکن انہیں ’ملک بدر‘ کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وطن بدر کرنے سے پہلے ان کی ملاقات جنرل مشرف کے معتمد خاص طارق عزیز سے بھی کرائی گئی۔

ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کو چھپانے کی حکومتی کوششیں ابھی جاری تھیں کہ تین مارچ کے روز لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے ’مختار مائی اجتماعی جنسی زیادتی کیس ‘ میں موت کی سزا پانے والے ملزموں کی اپیلوں کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچ کو بےگناہ قرار دے کر رہا کرنے کا حکم صادر فرمایا جبکہ چھٹے ملزم کی سزائے موت عمر قید میں بدل دی۔

اس فیصلے سے عورتوں کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات اور پاکستانی قانون و عدالتی نظام ملک کے اندر اور باہر زیر بحث آیا جبکہ مختار مائی اس وقت ایک مضبوط ارادے کی عورت بن کر سامنے آئیں جب ابتدائی صدمے کے بعد انہوں نے حصول انصاف کی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اس پر اندرون و بیرون ملک مختار مائی کی حمایت میں اضافہ ہوا۔

ڈاکٹر شازیہ اور ان کے شوہر
ڈاکٹر شازیہ کا کیس ایک سیاسی مسئلہ بن گیا اور بالآخر انہیں اپنے شوہر کے ساتھ ملک چھوڑنا پڑا

بعد میں وفاقی شرعی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو یہ کہہ کر معطل کر دیا کہ حدود یا اسلامک لاز کے مقدمات میں اپیل کی سماعت کا اختیار صرف اسے حاصل ہے۔ دو متوازی عدالتوں کے درمیان اختیارات کی جنگ اس وقت ختم ہوئی جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے شریعت کورٹ کے حکم کو معطل کرتے ہوئے ’مختار مائی کیس‘ کو خود سماعت کرنے کا اعلان کیا۔

اس دوران مختار مائی کو دورہ امریکہ کی دعوت ملی لیکن اس کیس کو ملنے والی بین الاقوامی توجہ سے خائف پاکستانی حکومت نے مختار مائی کے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی لگا دی۔ اس اقدام کے حوالے سے پاکستانی حکومت پر تنقید کرنے والوں میں امریکہ بھی شامل تھا۔ مبصرین کے مطابق ’نائن الیون‘ کے بعد غالباً یہ پہلا موقع تھا جب امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے اتحادی جنرل مشرف کی حکومت کی کھلے عام سرزنش کی۔

ستمبر میں اپنے دورہ امریکہ کے دوران اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے جنرل مشرف نے جنسی زیادتی کا شکار عورتوں کے بارے مبینہ طور پر ایک ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان دے دیا جس کی مبصرین کے مطابق کم از کم کسی سربراہ مملکت سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ریپ پاکستان میں اب ایک کاروبار بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں اگر آپ امیر ہونا چاہتے ہیں یا کنیڈا کا ویزا درکار ہے تو خود کو ریپ کرالیں‘۔

ستمبر ہی میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی ایک شادی شدہ خاتون سونیا ناز کو مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا ایک ایسا واقعہ سامنے آیا جس میں پولیس کے دو سنیئر افسر ملوث بتائے گئے۔ ان کی داستان اخبارات میں آنے پر ہی ریاستی ادارے حرکت میں آئے۔ تحقیقات میں قصوروار قرار پانے پر ملزم پولیس افسروں کو گرفتار کیا گیا لیکن عدالتوں نے چند ہی دنوں میں انہیں ضمانتوں پر رہا کر دیا۔

سونیا ناز
سونیا ناز پر جنسی زیادتی کے ملزم ضمانت پر رہا کر دیے گئے

اس دوران مختار مائی کے بیرون ملک سفر کرنے پر سے پابندی ہٹا لی جاتی ہے۔ وہ ایک ایوارڈ لینے بائیس اکتوبر کو امریکہ جاتی ہیں جہاں انہیں اکیسیویں صدی کی ’روزا پارکس‘ قرار دیا جاتا ہے۔ روزا پارکس ایک سیاہ فام امریکی خاتون تھیں جنہوں نے پچاس سال قبل دوران سفر اس وقت کے ضابطے کے بر خلاف ایک سفید فام کے لیے بس میں اپنی نشست خالی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہیں بعد میں امریکہ میں ’مدر آف سول رائٹس موومنٹ‘ کا خطاب بھی دیا گیا۔

ونی جیسی فرسودہ لیکن اب تک رائج رسم اس وقت ایک سنگین سماجی برائی کے طور پر سامنے آئی جب نومبر میں میانوالی کی تعلیم یافتہ لڑکی آمنہ نیازی نے بدلہ صلح میں ونی ہونے سے انکار دیا۔آمنہ کے انکار سے ونی قرار دی جانے والی کئی اور لڑکیوں کو انکار کرنے کا حوصلہ ملا اور چند ہی دنوں میں ایسے کئی دبے ہوئے واقعات منظر عام پر آئے۔

چند واقعات میں قانونی کارروائی بھی کی گئی لیکن آمنہ خاموشی توڑنے کی قصوروار ٹھہریں۔ پولیس نے اب تک انہیں اور ان کی دو چھوٹی بہنوں کو ونی ہونے سے بچانے کے لیےکوئی اقدام نہیں کیا جبکہ اسی سال قانون میں ترمیم کرکے خون بہا میں لڑکیوں کے لین دین کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

مختاراں مائی’شدید دکھ پہنچا‘
صدر کے بیان پرمختاراں مائی رنجیدہ
’ونی‘ کا شکار آمنہ ونی یا زندہ درگور
’ونی‘ کا شکار آمنہ کی بی بی سی سے بات چیت
کوثر پروینقصورصرف بیٹی ہونا
میانوالی کی کوثر پروین پر ’ونی‘ میں کیا گزری
سونیا نازسونیا ناز کی بپتا
پولیس زیادتی کے بعداب پریس کردار کشی کررہا ہے
ڈاکٹر شازیہ’فوج نے کہاچلی جاؤ‘
ملک چھوڑنے پر فوج نے مجبور کیا: ڈاکٹر شازیہ
اسی بارے میں
’ایک ایک لمحہ بھاری ہے‘
29 June, 2005 | پاکستان
مشرف کے بیان پر شدید ردِعمل
16 September, 2005 | پاکستان
’ہمیں ویزے نہیں عزت چاہیے‘
28 September, 2005 | پاکستان
’ہم خود کو زندہ جلا لیں گے‘
05 December, 2005 | پاکستان
انکوائری، پولیس افسر برطرف
19 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد