’باپ، بھائی،چچا قتل کریں اور سزاہمیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرا نام کوثر پروین ہے اور میں میانوالی کے گاؤں دلیلی والا کی رہنے والی ہوں۔ میں نے مڈل تک تعلیم حاصل کی اور میری عمراکیس سال ہے۔ میرے چچا عبدالستار خان اور ان کے سسر محمد خان کو ایک شخص منظور خان کے قتل کے الزام میں سزائےموت ہوئی جو بعد میں حکومت نے عمر قید میں تبدیل کردی۔ یہ واقعہ میری پیدائش سے پہلے کا ہے۔ میرے دادا اور والد نے چچا منظور اور ان کے سسر کی سزا ختم کرانے کے لیے مقتول کے بیٹوں سے پنچایت کے ذریعے بات چیت شروع کی اور پھر ایک لاکھ روپے نقد، چار کنال کے رہائشی پلاٹ اور ایک لڑکی ونی کرنے کے عوض صلح طے پا گئی۔
میری ماں ’پاگل‘ ہوگئی تو باپ نے اسے گھر سے نکال دیا اور خود دوسری شادی کرلی۔ ہم بہن بھائیوں کو دادا کے پاس بھجوا دیا گیا۔ دادا پولیس کے ریٹائرڈ افسر ہیں۔ میں میٹرک میں پہنچی تو دادا نے مجھے رخصت کرنے کی ٹھانی۔ جس شخص سے میری شادی کی جارہی تھی وہ ان پڑھ اور بری شہرت کا حامل تھا۔ میں نے ونی ہونے سے انکار کر دیا اور گورنر پنجاب کو خط لکھ کر حکومت کی مدد چاہی۔ پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے مجھے میرے دادا کے گھر سے برآمد کرکے عدالت میں پیش کیا اور دارالامان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم دادا نے یقین دہانی کرائی کہ مجھے ونی نہیں کیا جائے گا اور وہ میری طرف سے تنسیخ نکاح کا دعویٰ بھی دائر کریں گے۔ مجھے اپنے چھوٹے بہنں بھائیوں کی بھی فکر تھی جن کے پاس نہ باپ تھا اور نہ ماں، چنانچہ میں نے دادا کی بات پر یقین کر لیا۔ لیکن کچھ دنوں بعد میرے دادا اور چچاؤں نے مجھے زبردستی رخصت کر دیا۔ میرے انکار پر مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو مار دینے کی دھمکی دی گئی۔ مجھے بے بس کر دیا گیا۔ سسرال میں میرے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا۔ شوہر مجھے مارتا تھا اور کسی سے ملنے بھی نہیں دیا جاتا تھا۔ شادی کے چوتھے مہینے میں حاملہ ہو گئی تو مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔ میرے شوہر اور سسرال کا کہنا تھا اگر میں انہیں پولیس اور عدالتوں میں نہ گھسیٹتی تو وہ مجھے ونی کے طور پر قبول کر لیتے لیکن اب میں انہیں اس طرح بھی قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف تمہیں ’داغدار‘ کرنا چاہتے تھے۔ دادا نے مجھے پناہ دینے سے انکار کر دیا تو میں اپنی چھوٹی بہن کے گھر آگئی جہاں پانچ ماہ قبل میرے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا ہے۔ اس دوران میرے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہے۔ میرا شوہر یا اس کے خاندان سے کوئی بھی آج تک بچے کو دیکھنے نہیں آیا البتہ وہ میرے بہنوئی کو دھمکاتے رہتے ہیں کہ وہ مجھےگھر سے نکال دے ورنہ وہ اسے بھی مار دیں گے۔وہ چاہتے ہیں کہ میں بھی اپنی ماں کی طرح پاگل ہو کر سڑکوں اور گلیوں میں پھروں۔ میں سوچتی ہوں کہ میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں بیٹی ہوں۔ قتل ہمارے باپ، بھائی اور چچا کرتے ہیں سزا میں ہم ونیاں ہو جاتی ہیں اور اگر انکار کریں تو پھر ونی کے طور پر بھی قبول نہیں۔ یہ گفتگو کوثر پروین نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ندیم سعید سے میانوالی میں کی۔ | اسی بارے میں ونی مجرم بچ کیوں جاتے ہیں؟03 December, 2005 | پاکستان ونی کے رشتے، مزید نو گرفتاریاں01 December, 2005 | پاکستان ونی کے رشتے قانونی نہیں: حکومت29 November, 2005 | پاکستان میانوالی:’ونی کے واقعات میں اضافہ‘28 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||