BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 November, 2005, 17:51 GMT 22:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صُلح کے لیے کمسن بچیوں کا نکاح

خواتین کا مظاہرہ
’قانونی ترامیم کے بعد میانوالی کی تاریخ میں یہ پہلا مقدمہ ہے جو بدلہ صلح میں رشتے دینے یا ونی کی روایت کے خلاف درج کیا گیا ہے‘
پاکستانی پنجاب کے ضلع میانوالی میں ایک اور ایسے واقعہ کا انکشاف ہوا ہے جس میں دو متحارب گروہوں کے درمیان صلح کی خاطر ’ونی‘ کی روایت کے تحت دو کمسن لڑکیوں کا ’شرعی‘ نکاح کرایا گیا ہے۔

واقعہ کی اطلاع پاتے ہی مقامی پولیس نے نکاح خواں سمیت تیرہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان میں سے نو کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

قتل کا واقعہ پچاس سال پرانا ہے جس کے تحت پانچ سال اور تین سال کی عمر کی لڑکیوں کو ونی کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق میانوالی کے علاقے واں بھچراں میں انیس سو پچپن میں دیرینہ دشمنی کے نتیجے میں فتح شیر اور مصطفیٰ کو شمشیر علی، غلام محمد، محمد امیر خان، خان بیگ اور شیر محمد وغیرہ نے قتل کردیا تھا۔ ملزمان بعد میں وچوی بالا نامی علاقے میں روپوش ہوگئے تھے۔

تاہم دوہرے قتل کے واقعے کے کوئی پندرہ بیس دن بعد مقتولین کے رشتہ داروں نے مخبری ہونے پر وچوی بالا میں ملزموں کے ٹھکانے پر حملہ کرکے راجمیر نامی شخص کو قتل جبکہ محمد امیر کو شدید زخمی کر دیا۔

’قتل کے بدلے قتل‘ ہوجانے پر انتقام کی آگ ٹھنڈی پڑی تو دونوں فریقین کے درمیان صلح کی کوششیں شروع ہوئیں جو پانچ سال بعد یعنی انیس سو ساٹھ میں بارآور ثابت ہوئیں۔ دونوں متحارب گروہوں میں صلح تو ہوگئی لیکن مقتول راجمیر کے خاندان نے ایک شخص محمد نواز پر الزام لگایا کہ وچوی بالا میں ان کے خفیہ ٹھکانے کی مخبری اسی نے کی تھی۔ اس الزام نے ایک نئے تنازعے کو جنم دیا جو اب تک راجمیر اور نواز کے خاندان کے درمیان تناؤ کا سبب بنا ہوا تھا۔

اس سال اگست میں ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں مبینہ مخبر نواز کا ایک رشتہ دار احمد شیر جوائے خیل مظفر پور شمالی یونین کونسل سے نائب ناظم کے امیدوار تھے۔ اپنے انتخاب کے لیے ووٹ مانگنے جب وہ راجمیر کے خاندان کے پاس گئے تو انہوں نے پچاس سال بعد بھی مخبری کا الزام دہراتے ہوئےانتخابات میں احمد شیر کی حمایت کو نواز کے ساتھ ’معاملہ‘ طے ہونے سے مشروط کردیا۔

چھ اگست کو مقامی مسجد میں پنچایت ہوئی اور یہ طے پایا کہ صلح کی خاطر نواز کا بھائی محمد خان راجمیر کے خاندان میں اپنی دو بیٹیاں رشتے میں دے گا۔ معاہدے پر فوری عملدرآمد کیا گیا اور مسجد کے امام مولوی رفیق نے محمد خان کی پانچ اور تین سالہ بیٹیوں کا شرعی نکاح بالترتیب سترہ سالہ محمد امیر اور سات سالہ محمد اسلام سے پڑھا دیا۔

تاہم پولیس ساڑھے تین ماہ تک اس ساری کارروائی سے ’بے خبر‘ رہی۔ واں بھچراں پولیس سٹیشن کے انچارج انسپکٹر محمد جہانگیر سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ فریقین ’ونی‘ وغیرہ کی کارروائی کو خفیہ رکھتے ہیں اور اس لیے پولیس بر وقت ایسے معاملات کا تدارک نہیں کر سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعہ کی تصدیق ہوجانے پر تعزیرات پاکستان کی دفعات تین سو دس (اے) اور ایک سو نو کے تحت نکاح خواں، پنچایتیوں اور لڑکیوں کے والد کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا ہے۔

گرفتار ہونے والے افراد میں نکاح خواں مولوی رفیق اور متوقع ’دولہا‘ محمد امیر شامل ہیں۔ انسکپٹر جہانگیر نے بتایا کہ گرفتار افراد کو چودہ دن کے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ہے جبکہ باقی نامزد ملزموں جن میں لڑکیوں کا باپ محمد خان بھی شامل ہے کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

اس سال گیارہ جنوری کے روز ’ونی‘ کے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوجداری قوانین میں ترامیم کی گئیں جن کے تحت تعزیرات پاکستان میں دفعہ تین سو دس (اے) کا اضافہ کیا گیا ہے جس کی رو سے ’بدلہ صلح‘ میں لڑکی کا رشتہ دینے اور لینے کی کم سے کم سزا تین سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید بامشقت مقرر کی گئی ہے۔

انسپکٹر جہانگیر کا کہنا تھا کہ قانونی ترامیم کے بعد میانوالی کی تاریخ میں یہ پہلا مقدمہ ہے جو بدلہ صلح میں رشتے دینے یا ونی کی روایت کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

ونی کی روایت پر عملدرآمد کے حوالے سے نیم قبائلی علاقہ میانوالی خاصہ بدنام ہے۔ میانوالی ہی کے علاقے سلطان والا میں ونی کے ایک اور واقعے کی وجہ سے آجکل خاصی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ انیس سو اکانوے میں ہونے والے ایک قتل کے مقدمے میں صلح کے لیے جرگے کے مبینہ دباؤ کے تحت ملزم فریق نے مقتول کے خاندان میں پانچ لڑکیاں بیاہنے کی حامی بھری اور انیس سو چھیانوے میں ان کمسن لڑکیوں کے شرعی نکاح بھی کر دیے گئے۔

بالغ ہونے پر لڑکیوں نے ان نکاحوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اپنے والدین پر واضح کیا کہ اگر انہیں زبردستی رخصت کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ خود سوزی کر لیں گی۔ لڑکیوں کے انکار پر ان کے ’متوقع‘ شوہروں نے انہیں اور ان کے خاندان کو مارنے کی دھمکی دی ہے جبکہ لڑکیوں نے حکومت سے تحفظ کی درخواست کررکھی ہے جس پر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

66ونی اور میڈیا
کیا ونی پر آواز نہیں اٹھانی چاہئے؟ آپ کی رائے
اسی بارے میں
’ونی‘ کا ایک اور شکار
01 December, 2004 | پاکستان
پسند کی شادی پر ہرجانہ
20 September, 2004 | پاکستان
زنا کے ملزم کو تبلیغ کی سزا
06 November, 2003 | پاکستان
نوجوان کیا سوچتے ہیں؟
02 December, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد