پسند کی شادی پر ہرجانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک جرگے نے پسند کی شادی کرنے پر ایک نوجوان کو بیوی کے خاندان والوں کو تین لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی یہ کہا کہ محبت کی شادی کرنے والے جوڑے کے خاندان والوں کے درمیان ناراضگی ختم کرانے کے لئے لڑکے کے خاندان والے لڑکی کے خاندان والوں سے معافی مانگیں۔ اس تحریری فیصلے کی نقل مظفر آباد میں مقیم بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے حاصل کی۔ اس میں کہا گیا ہے کے جو فریق بھی اس فیصلے سے اِنحراف کرے گا وہ کسی بھی نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا۔ عمرفاروق خان نے اس سال مئی میں بی اے کی طالبہ صفورہ فرید سے اسکے والدین کی مرضی کے خلاف پسند کی شادی کی ۔ دونوں کا تعلق ایک ہی برادری سے ہے اور وہ جنوبی ضلع باغ کے ایک گاؤں ریڑھ سے تعلق رکھتے ہیں۔ شادی سے قبل صفورہ نے باغ قصبے میں قائم تحصیل قاضی کی عدالت میں بیان دیا کہ وہ اپنی مرضی سے عمر فاروق سے شادی کرنا چاہتی ہے لیکن اسکے والدین اس میں رکاوٹ ہیں اور وہ اسکی شادی اسکی مرضی کے خلاف کرنا چاہتے ہیں ۔ عدالت میں بیان ریکارڈ کرانے کے بعد صفورہ اور عمر نے شادی کر لی اور کسی پریشانی سے بچنے کے لئے یہ جوڑا روپوش ہوگیا۔ اس واقع کے فوراً بعد لڑکی کے والد نے پولیس کے پاس عمر فاروق اسکے والد اور انکے بعض دیگر عزیزوں کے خلاف اپنی بیٹی کے اغوا اور اس میں اعانت کرنے کی رپورٹ درج کرائی جس پر پولیس نے انکے والد اور دیگر نامزد افراد کو گرفتار کیا۔ اسی دوران جولائی کے وسط میں محبت کی شادی کرنے والے جوڑے کی غیر موجودگی میں انکی برادری کے عمائدین اور خاندان کے لوگ ریڑھ میں اکھٹے ہوئے۔ دونوں خاندانوں کی رضامندی سے آٹھ افراد پر مشتمل ایک جرگہ تشکیل دیا گیا جسکو فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا اور فریقین نے کہا کہ ان کو جرگے کا ہر فیصلہ قبول ہوگا ۔ جرگے میں شامل لوگوں نے طے کیا کہ وہ لڑکی کے بیان کے بعد ہی اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ ایک ہفتہ قبل صفورہ اور عمر جرگے کے سامنے پیش ہوئے اور بیان دیئے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی اور انھوں نے نکاح نامہ بھی دکھایا۔ اسکے بعد گزشتہ جمعہ کو باغ قصبے میں جرگے کے لوگ جمع ہوئے اور انھوں نے کثرت رائے سے دو صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا ۔ اس تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صفورہ فرید کو اغوا نہیں کیا گیا بلکہ انھوں نے اپنی مرضی سے عمر فاروق سے شادی کی اور اس میں عمر فاروق کے خاندان والوں نے اپنے بیٹے کی کوئی اعانت نہیں کی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمر فاروق کو لڑکی کے خاندان والوں سے اپنے گھر والوں کے ذریعے روایت کے تحت رشتہ مانگنا چاہیے تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا ۔ یہ اس ماہ میں تقریباً اس نوعیت کا دوسرا فیصلہ ہے اس سے قبل اس ماہ کے اوائیل میں جنوبی ضلع راولاکوٹ کے ایک دیہات علی سوجل میں ایک جرگے نے پسند کی شادی کرنے پر محمد ریاض کے خاندان کو آٹھ لاکھ روپے بطور ہرجانہ لڑکی کے خاندان کو ادا کرنے کا فیصلہ سنایا اور ساتھ ہی یہ حکم دیاتھا کہ پسند کی شادی کرنے والے ریاض کی دو بہنوں میں سے ایک بہن کی شادی ریاض کی بیوی کے خاندان میں کردی جائے ۔ ریاض نے اس ماہ کے شروع میں اپنے ہی برادری کی صائقہ رحمان سے محبت کی شادی کی اس فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا اور چند روز قبل علی سوجل میں دوبارہ جرگہ بیٹھا اور انھوں نے آٹھ لاکھ روپے ہرجانے ادا کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ لیکن لڑکے کی دو بہنوں میں سے ایک کی شادی لڑکی کے خاندان میں کرنے کے فیصلے کو واپس لیا اور دونوں خاندانوں کی رضامندی کے ساتھ یہ فیصلے دیا کی ریاض کی بھتیجی کی شادی اسکی بیوی کے بھائی سے اس وقت کر دی جائے گی جب یہ دونوں بالغ ہونگے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستان کے برعکس جرگے یا پنچایت کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں ہے البتہ دیہاتوں میں چھوٹے موٹے معاملات حل کرنے کے لیے جرگے منعقد کئے جاتے ہیں۔ اس علاقے میں شاھد ہی کسی جرگے نے ماضی میں اس طرح کے فیصلے سنائے ہوں اور اگر ماضی میں ایسا ہوا بھی ہو لیکن وہ منظر عام پر نہیں آئے اور یہ اپنی نوعیت کے پہلے فیصلے ہیں جو منظر عام آیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||