پسند کی شادی کی سزا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک جرگے نے پسند کی شادی کرنے پر لڑکے کے خاندان کو آٹھ لاکھ روپے بطور ماوضہ لڑکی کے خاندان کو ادا کرنے کا فیصلہ سنایا ہے اور ساتھ ہی یہ حکم دیا ہے کہ لڑکے کی دو بہنوں میں سے ایک کی شادی لڑکی کے بھائی سے کردی جائے۔ جرگے نے اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرانے کے لئے لڑکے کے خاندان والوں کو 20 ستمبر تک کی مہلت دی ہے۔ مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے جرگے کے فیصلوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کے جرگے کے حکم پر لڑکے کے خاندان کے افراد کو جرگے کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کے لئے اپنے گھر میں قید رکھاہے۔ چھبیس سالہ محمد ریاض خان نے گزشتہ پیر کو 22 سالہ صائمہ اختر سے پسند کی شادی کی تھی۔ یہ شادی انہوں نے گاؤں چھوڑنے کے بعد رالاکوٹ کے قصبے میں قائم ایک عدالت میں کی تھی۔ ریاض اور صائمہ کا تعلق پاکستان کے جنوبی ضلع رالاکوٹ کے دیہات علی سوجل سے ہے اور دونوں سدھن برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ علی سوجل دارالحکومت مظفرآباد سے تقریباً 150 کلومیڑ کے فاصلے پر ہے۔ شادی کے فوراً بعد یہ جوڑا اپنے قبیلے کے خوف کے باعث کسی نامعلوم جگہ پر منتقل ہو چکا ہے۔ ان کی غیرموجودگی میں علی سوجل میں ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں گاؤں کے عمائدین نے شرکت کی۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم ایسٹ اینڈ ویسٹ کے چیف آرگنائزر ایڈوکیٹ حنیف اعوان نے جرگے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا اور الزام عائد کیا ہے کہ جرگے کے حکم پر لڑکے کے خاندان کے افراد کو جرگے کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کے لئے اپنے گھر میں محبوس رکھا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ محبت کی شادی کرنے والے اس جوڑے کی حفاظت کے لئے اقدامات کرے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ انتظامیہ اس واقع پر مکمل خاموش ہے۔ کشمیر کے اس علاقے میں پاکستان کے برعکس کوئی رسمی جرگے یا پنچائیت کا نظام نہیں ہے اور اس علاقے میں شاید ہی کسی جرگے نے ماضی میں اس طرح کا فیصلہ سنایا ہو۔ اور اگر ماضی میں ایسا ہوا بھی ہو لیکن وہ منظر عام پر نہیں آیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||