میں جنگ لڑ رہی ہوں: مختار مائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختار مائی نے جو آجکل امریکہ میں ہیں، حقوقِ انسانی کے کارکنوں کو اس جنگ کی داستان سنائی ہے جو انہوں نے خواتین کو محکوم رکھنے والے ’جاگیر داروں کے خلاف لڑی ہے۔ واشنگٹن میں مختار مائی کے لیے منعقدہ خصوصی تقریب میں جب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان کا تعارف کرایا تو انہیں زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کی بجائے حقوقِ نسواں کی چیمپئن کہہ کر بلایا گیا۔ اپریل دو ہزار دو میں مختار مائی کو مبینہ طور پر پنچایت کے حکم پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ معاملہ اور بالخصوص مختار مائی تب سے عالمی نگاہوں کا مرکز بن چکی ہیں۔ امریکی دورے کے دوران انہیں سابق امریکی صدر بل کنٹن ’وومن آف دی ائیر‘ کا ایوارڈ دیں گے۔
ایک ترجمان کی مدد سے مختار مائی نے حقوقِ انسانی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’میں خواتین پرجبراور انہیں زو آوری سے تابع رکھنے کے خلاف جنگ لڑ رہی ہوں۔ایک ایسی جگہ جہاں بچوں اور خواتین کو جاگیرداروں کا محکوم بن کر رہنا پڑتا ہے۔ ان کے پاس دولت بھی ہے اور طاقت بھی لیکن میرے ساتھ آپ اور آپ کی حمایت ہے۔ خدا نے چاہا تو جیت سچ کی ہوگی۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ ملک چھوڑ کر نہیں ملک میں رہ کر ہی لڑی جا سکتی ہے۔ منگل کو مختار مائی خصوصی گواہی کے لیے کانگریس کی ایک سماعت میں شریک ہوں گی۔ بدھ کے روز انہیں سال کا ایوارڈ اور بیس ہزار امریکی ڈالر دیئے جائیں گے۔ مختار مائی نے بتایا کہ انعامی رقم میں سے پانچ ہزار ڈالر وہ آٹھ اکتوبر کے زلزلہ زدگان کے لیے امدادی پروگرام میں دیں گی جبکہ باقی رقم سے سکولوں اور بحرانی حالات سے گزرنے والی خواتین کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے جائیں گے۔ اس سال کے اوائل میں صدر جنرل پرویز مشرف نے مختار مائی کے سفر پر یہ کہہ کر پابندی عائد کر دی تھی کہ ان کے باہر جانے سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہوگی۔ لیکن حقوقِ انسانی کی تنظیموں اور امریکی اہکاروں کی تنقید کے بعد انہوں نے یہ پابندی ختم کر دی تھی۔
سپریم کورٹ میں اس وقت مختار مائی کی ایک اپیل التواء کا شکار ہے جس میں انہوں نے عدالتِ عالیہ کے اس فیصلے کے خلاف دراخواست دائر کی تھی جس کے تحت ان سے زیادتی کے معاملے میں مبینہ طور پر ملوث تیرہ افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ پاکستان کے عدالتی اور سماجی نظام کے نقاد کہتے ہیں کہ مختار مائی کا مقدمہ اس رونگٹے کھڑے کر دینے والے سلوک کی ایک مثال ہے جو جاگیرداروں کی زمینوں یا دیہاتی علاقوں میں خواتین کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ |
اسی بارے میں ’ریپ، دولت، شہریت کا ذریعہ‘ 14 September, 2005 | پاکستان مختاراں کیلیے کینیڈین شہریت؟18 June, 2005 | پاکستان زیادتی کا بدلہ سکول بنا کر 07 December, 2004 | پاکستان ریپ پر جرگے کا ایک اور فیصلہ18 July, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||