پنجاب کے ضلع میانوالی میں نو برس قبل جرگے کے ایک فیصلے کے تحت خوں بہا کے طور پر ’ونی‘ کی رسم کے تحت رشتے میں دی جانے والی پانچ کم سن لڑکیوں نے بالغ ہونے پر رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے انکار کر دیا ہے جس پر علاقے میں امن و امان کی صورتحال کشیدہ بتائی جارہی ہے۔ رشتے میں دی جانے والی لڑکیاں زیر تعلیم تھیں جن میں سے ایک انگریزی زبان و ادب میں ایم اے کی طالبہ ہیں جبکہ جب کہ ان لڑکیوں کے ’شوہر‘ ان پڑھ ہیں۔ لڑکیوں کے انکار سے پیدا ہونے والے تنازعے کے نتیجے میں ’متوقع‘ دولہوں نے مبینہ طور کچھ ہفتے قبل دوسرے فریق کے دو افراد کو فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا۔ تاہم پولیس نے نقص امن کے تحت دونوں فریقین کے جن سولہ افراد کو گرفتار کیا ان میں دونوں زخمی بھی شامل تھے۔ عورتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر اس سے قبل ہمارے صفحات پر کئے جانے والے مباحثوں میں یہ بھی کہا گیا کہ ایسے واقعات پر آواز اٹھانے سے پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے۔ یہی مؤقف بہت سے سرکاری اداروں کا بھی رہا ہے۔ آپ کا اس پر کیا ردِعمل ہے؟ کیا ایسے واقعات پر میڈیا کو آواز نہیں اٹھانی چاہئے؟ کیا ان لڑکیوں کو جرگے کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے مجبور کیا جائے؟ ایسے واقعات کے سامنے آنے سے کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہوتا ہے؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
ملک یوسف اعوان، پاکستان: اس کی اجازت تو ہمارا مذہب بھی نہیں دیتا، یہ صرف جہالت اور اسلام سے دوری ہے۔عفاف اظہر، ٹورنٹو: عورت اور مرد کو اسلام نے مکمل خودمختاری دی ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا، اب یہاں ہندوانہ رسم ورواج کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔  | میڈیا کی طاقت  ایسے واقعات پبلک کے سامنے آنے سے کسی کو نقصان نہیں ہوتا بلکہ پبلک میں شعور پیدا ہوتا ہے۔  صفدر عباس نقوی، کراچی |
صفدر عباس نقوی، کراچی: جی ہاں میڈیا ہی وہ طاقت ہے جو لوگوں کو ہر بات کھل کر بیان کرسکتا ہے۔ ان پڑھی لکھی لڑکیوں کو جرگے کا جہالت پر منبی فیصلہ ہر گز نہیں ماننا چاہئے۔ ایسے واقعات پبلک کے سامنے آنے سے کسی کو نقصان نہیں ہوتا بلکہ پبلک میں شعور پیدا ہوتا ہے۔ سید علی، ٹورنٹو: عورتوں کے ساتھ تشدد کے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ جمیلہ، پاکستان: میں ایک لڑکی ہوں اور ایک لڑکی کا دکھ سمجھ سکتی ہوں۔ مجھے وانی کی رسم کا پتہ ہے کہ یہ کس طرح ہورہی ہے۔ ہمارے سیاسی رہنما بھی اس کی حمایت کرتے ہیں۔ جرگہ جب چاہے کسی لڑکی کو کسی کے حوالے کردے۔ احتشام فیصل، شارجہ: عورت کے ساتھ ظلم کو کسی ایک معاشرے کے ساتھ منسوب کرنا بھی ایک ظلم ہو گا۔ یہ ہر معاشرے میں وہاں کے حالات کے مطابق کسی نہ کسی طرح ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان کے حوالے سے میڈیا میں اسے تواتر کے ساتھ کسی خاص مقصد کے تحت اچھالا جاتا ہے۔ اس سے بڑھ کے بھی کئی مسائل ہیں جن پر توجہ نہیں دی جاتی۔ یہاں تو عورت کو ونی کیا جاتا ہے لیکن وہاں کا کوئی ذکر نہیں جہاں عورت کو شوہر کے ساتھ جلا دیا جاتا ہے۔ نامعلوم، پاکستان: کون کہتا ہے کہ ونی پر آواز نہیں اٹھانی چاہیے۔ ہمارے ملک میں لڑکیوں کو مردوں کا کھلونا سمجھا جاتا ہے اور وہ جیسے چاہیں ان کا استعمال کریں۔ حکومت کو ان پر پابندی لگانی چاہیے۔ میاں عاطف، فیصل آباد، پاکستان: اصل میں جرگہ کے فیصلے کو 100 فیصد غلط نہیں کہا جا سکتا، اصل میں گناہ گار لوگ دوسری سزاؤں سے بچنے کے لیے یہ سزا قبول کر لیتے ہیں۔ مہرین دوسانی، کینیڈا: میڈیا کا فرض ہے کہ وہ ایسے جرائم کو بے نقاب کرے جو رسم و رواج کی چادر میں چھپ کر کیے جاتے ہیں۔ اور بی بی سی کا کردار اس ضمن میں قابلِ تحسین ہے۔ جب تک میڈیا شور نہیں کرتا ہماری پولیس اور حکومت کے کان پر جوں بھی نہیں رینگے گی۔ عارفہ بلو، لاہور، پاکستان: یہ عورت پر بہت ظلم ہے اوربہت برے لوگوں کا کام ہے۔ شاہ شفیق پرویز، اٹک، پاکستان: ونی علاقائی رواج ہے اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور قانون بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ میڈیا والے خدارا اسے اسلام سے نہ جوڑیں۔ منیر ارشد، لاہور، پاکستان: یہ سب آمریت کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ انڈیا ہمارے ساتھ آزاد ہوا لیکن انہوں نے جمہوریت کی وجہ سے وڈیرہ کلچر ختم کر کے فرسودہ رسموں پر قابو پا لیا۔ خواجہ کبیر احمد، بیلجیم: ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ عورت کو سب سے پہلے اسلام نے یہ حق دیا کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کرے۔ متاثرین لڑکیاں حق پر ہیں، انہیں ظالموں سے نجات ملنی چاہیے۔ دلشاد حبیب، گجرات، پاکستان: میں بی بی سی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ ایسے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے میں اپنا فریضہ پورا کر رہی ہے۔ اس جاہلانہ رسم کی مذمت کرنی چاہیے۔ تاہم اس کے علاوہ بھی بہت سے موضوع ہیں مثلاً ابو غریب جیل اور فلوجہ کے مظالم وغیرہ، ان پر بھی توجہ دیں۔ شریف خان، جرمنی: ایسے لوگوں کو اللہ تعالٰی کبھی معاف نہیں کرے گا۔ جو اپنی دشمنی کے لیے کسی بے گناہ کی زندگی خراب کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سزا ملنی چاہیے اور مظلوموں کو ان کا حق ملنا چاہیے۔ آصف محمود میاں، لاہور، پاکستان: یہ تو تہذیب سے بھی پہلے کی رسم ہے۔ اسلام نے اس قسم کی رسموں سے آزادی دی تھی۔ ملکی قانون میں بھی اس کی جگہ نہیں۔ جگ ہنسائی سے بچنے کے لیے قانون پر عمل درآمد ضروری ہے۔ سعدیہ سلام، نئی دہلی، انڈیا: مجھے میڈیا کے تعمیری کردار سے ہرگز انکار نہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مسلمان سماج میں خواتین پر ظلم کو ختم کرنے سے زیادہ اس ظلم کو کیش کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ رہا سوال اس رسم کا تو یہ ظلم صرف تعلیم سے ختم ہو سکتا ہے۔ صابر حسین، چکوال، پاکستان: سب سے زیادہ کردار علماء اکرام کو ادا کرنا چاہیے اور اس رسم کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ میانوالی کے روشن خیال اور ہر دل عزیز نمائندے عمران خان کو تاریخی کردار ادا کرنا چاہیے۔ زیاد احمد، کراچی، پاکستان: ان جرگے والوں نے عورت کی زندگی کا تماشہ بنا دیا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حلومتی سطح پر صرف باتیں ہی ہوتی ہیں لیکن آج تک کسی حکومت نے اس طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دی ہے۔ شفیق، اسلام آباد، پاکستان: یہ غیر اسلامی ہے اور حکومت کو اس پر مکمل پابندی لگانی چاہیے۔ جاوید بوزدار، کراچی، پاکستان: ایسے قابل مذمت کاموں کو روکنے کے لیے قانون کی حکمرانی کی ضرورت ہے لیکن اگر ہمارے حکمران ایسا کریں گے اور جاگیر داروں کو ناراض کریں گے تو حکومت کس کے بل پر کریں گے؟ اگر میڈیا بھپی کچھ نہ کرے تو ایسے مظالم کون منظرِ عام پر لائے گا؟ کلیم بھٹی، بھکر، پاکستان: ہم پنجاب کے لوگوں میں بہت جہالت ہے۔ ہم اب بھی صدیوں پرانے زمانے میں رہ رہے ہیں۔ پنجاب دنیا سے سو سال پیچھے چل رہا ہے۔ انجم ملک، جرمنی: پاکستان کو بنے 57 سال ہو گئے مگر ابھی تک تعزیراتِ ہند کے قوانین چل رہے ہیں۔ جرگہ قوانین کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ ہم تیرہویں صدی میں رہ رہے ہیں۔ کیا ہمارے صدر اور وزیرِ اعظم بھی پاکستان میں رہ رہے ہیں؟ توقیر چوہدری، امریکہ: میرے خیال میں اس کی وجہ تعلیم کی کمی اور جہالت ہے۔ حکومت بھی اس سلسلے میں خاموش ہے۔ اس کے لیے اسلام کا نام غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں عورت کا برا حال ہے۔۔ نجف علی شاہ، بھکر، پاکستان: فرسودہ روایات کے خاتمے میں حکومت معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ عمران، میانوالی، پاکستان: میرے خیال میں یہ ہمارے علاقے کی بدترین چیز ہے۔ حکومت کو اس کے خلاف سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ ورنہ یہاں امن و امان نہیں رہ سکتا۔ محمد سلیمان، میانوالی، پاکستان: ہم اس واقع کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد ایسے قانون نافذ کرے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اس سے محفوظ رہیں۔ ایم گرمانی، تائیوان: یہ نہ تو مذہب میں ہے اور نہ کوئی تہذیب یافتہ معاشرہ اس کی اجازت دیتا ہے۔ ان ظالموں کو سخت سزا ملنی چاہیے۔ ان متاثرہ خاندانوں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ایسی رسموں پر پابندی لگانی چاہیے۔ ڈاکٹر طارق زمان، کوریا: ان رسومات کا مقابلہ بہادری کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ اس ضمن میں میڈیا کا کردار قابل تعریف ہے۔ شاہدہ اکرم، یو اے ای: جرگوں کے اس طرح کے فیصلوں پر صرف لکھنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ عملی طور پر بھی جو ہو سکے کرنا چاہیے۔ اس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ علما کو اس کے خلاف فتویٰ دینا چاہیے۔ علی، ریاض،سعودی عرب: قاضی حسین احمد اور عمران خان وردی اور اسلام کے بارے میں بہت شور کرتے ہیں لیکن اس غیر اسلامی فعل کے بارے میں خاموش کیوں ہیں؟ امین اللہ شاہ، پاکستان: یہ ایسا گناہِ کبیرہ ہے جس کی ہمارے مذہب میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ رسم تو اسلام سے قبل کافروں کے ہاں بھی نہیں تھی۔ اس رسم میں گناہ کوئی کرتا ہے لیکن اس کی سزا کوئی اور بھگتتا ہے۔ نغمانہ نیازی، اسلام آباد، پاکستان: جس ملک میں قانون کی اہمیت صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہ ہو، اس کے بارے میں صرف یہی کہا جا سکتا ہے: ’میں بھی مظلومیِ نسواں سے ہوں غمناک بہت نہیں ممکن مگر اس عقدہِ مشکل کی کشود‘۔ اسحاق ملک، ملتان، پاکستان: معاشرے کے ایسے ناسوروں، نام نہاد منصفوں اور وہشی وڈیروں کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہوں: ’جس کوکھ میں تو نے جنم لیا اس کوکھ کا تو نے کاروبار کیا عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا‘۔ جاوید اقبال یوسف زئی، امریکہ: یہ سراسر زیادتی اور ظلم ہے اور یہ ساری ذمہ داری حکومت وقت کی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں قانون اور عدالت برائے نام ہے۔ اصل فیصلے تو جاگیردار اور خان نوابوں کے جرگے کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ سے ظلم کرتے آئے ہیں۔ یہ کس مذہب یا قوم کا قانون ہے کہ جرم ایک کرے اور سزا دوسرا بھگتے؟ جبار حبیبانی، سندھ، پاکستان: یہ سماج دشمن اور انسانیت دشمن رسم ہے۔ حکومت کو جلد ایکشن لینا چاہیے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں حکومت میں شامل لوگ سارے جاگیردار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے غریب لوگوں کا درد ان کو محسوس نہیں ہوتا۔ اگر اس حکومت میں کوئی انسان دوست آدمی ہے تو وہ آواز بلند کرے اور ان عورتوں کو تحفظ فراہم کرے۔ نجم زیدی، کراچی، پاکستان: بہت احتیات کی ضرورت ہے۔ میڈیا بعض دفعہ اسی احتیات کا خیال نہیں رکھتا۔ یقیناً مظلوم کے حق میں آواز اٹھائی جائے لیکن اس کو ’فلمی انداز‘ میں نہ پیش کیا جائے کہ بچے والدین کی بات سننا ہی چھوڑ دیں۔ اگر والدین غلط کرتے ہیں، تو پھر بھی آپ خود ہی والدین نہیں بن جاتے۔ ساتھ ہی یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ان معاملات کا اسلام سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ عطیہ عارف، کینیڈا: حکومت کو ان لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جنہوں نے اس فضول رسم کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور مظلمان کو سزا دیں اور اس روایت کے خلاف سخت قانون نافذ کرے۔۔۔مگر لگتا ہے کہ اس کا بھی وہی حال ہوگا جو مختار مائی کے ساتھ ہوا ہے۔۔۔ سمیر حقیقی، کینیڈا: یہ ایسا ظلم ہے جو اسلامی ملک پاکستان میں ہو رہا ہے۔ اس پر کوئی مولوی آواز بلند نہیں کرے گا۔ مذہبی سیاسی لیڈر بھی ایسے ظلم پر خاموش ہیں جو اسلام اور انصاف کے لیے ملک میں دھندھناتے پھرتے ہیں۔۔۔ طاہر چودھری، جاپان: غریب، انپڑھ لوگوں پر طاقت وروں کے ظلم کا نام جرگہ ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کمزور ملکوں پر اپنی مرضی تھوپنے کا نام امریکہ ہے۔ کیا میڈیا یعنی بی بی سی اس کے خلاف آواز اٹھا سکتا ہے؟ بی بی سی پر پابندی لگ جائے گی اور ہم خبروں سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ طاہر رحیل، امریکہ: مظلوم عورتوں کی آواز ہمیشہ دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ ہم پر سابق مشرقی پاکستان میں کیے جانے والے مظالم کی بھی ذمہ داری ہے۔ جب بھی دنیا کی توجہ ہٹ جاتی ہے تو حالات مزید بگڑ جاتے ہیں۔ سید شاہ، کینیڈا: یہ ہم سب کا قصور ہے کہ ہم نے جان کر یا انجانے میں اسلامی قانون کو نافذ نہیں ہونے دیا اور آج ہم سب اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔ خواتین کو جو تحفظ اسلام نے دیا ہے وہ کسی بھی معاشرے اور مذہب میں نہیں ہے۔ بابر راجہ، جاپان: بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جس علاقے میں یہ واقعات ہو رہے ہیں وہاں کا پڑھا لکھا بھی اس چیز کو غیرت کے نام پر پسند کرتا ہے۔ اسی لیے عورتوں کا تعلیم یافتہ ہونا نہایت ہی اہم ہے تاکہ آنے والی نسل یہ جاہلانے نظام سدھار سکے۔ افتخار احمد کشمیری، لندن، برطانیہ: ہم مذہب اور روایت کے درمیان کشمکش میں مبتلہ قوم ہیں۔۔۔ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ کہاں مذہب پر عمل کرنا ہے اور کہاں روایت پر۔ کبھی روایت کو ترجیح دیتے ہیں تو کبھی مذہب کو۔ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو مذہب، روایت، غیرت اور اپنی کی جانے والی غلطیوں کو سدھارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ چار شادیاں کرنے کے لیے فوراً سنت پر عمل کیا جاتا ہے مگر عورتوں کے ساتھ سلوک کے معاملے میں زمان جاہلیت کے رسم و رواج اپنائے جاتے ہیں۔۔۔ جامل مقصود، بیلجیم: یہ بالکل غلط نظام ہے۔ اسے پوری طرح ختم کر دینا چاہیے۔ جو کوئی ایسا کرے اسے بین الاقوامی انسای حقوق قوانین کے تحت سزا دی جانی چاہیے۔ سعیدہ جعفری، کینیڈا: پاکستان ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں ذاتی مفادات کو مذہب کا رنگ دے کر اخلاف رائے کو قبل از وقت ہی رد کر دیا جاتا ہے۔ مذہب کا نام آنے سے لاعلم لوگ چپ کر جاتے ہیں۔ اب اگر میڈیا بھی ان معاملات سے صرفِ نظر کر لے تو کون اس ذمہ داری کو پورا کرے گا؟ اس طرح کے واقعات کی رپورٹنگ سے مظلوم لوگوں کو سہارا ملتا ہے۔ رضیہ بتول، آسٹریلیا: اس کیس میں عورتوں کو تحفظ ملنا چاہیے۔ حکومت کو جلدی نوٹس لینا چاہیے، یہ زندگی موت کا مسئلہ ہے۔ شاہد تالپور، آسٹریلیا: اس معاملے میں اتنی زور سے آواز اٹھانی چاہیے کہ بہرے بھی سننے پر مجبور ہو جائیں۔ یہ مجبورلوگوں پر ظلم کی انتہا ہے۔ ایسے واقعات کے سامنے آنے سے مجبور لوگوں کو سہارا ملتا ہے۔ اختر علی، یو کے: حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ ان غیر اسلامی رسموں کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔ کسی کو شادی پر مجبور کرنا بالکل غلط ہے۔ یہ پاکستان کا امیج بھی خراب کر رہے ہیں۔ اس سلسے میں مسلمان علماء کو بھی اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ محمد اظہارالحق، پاکستان: مسلمانوں کی حیثیت سے اور اسلامی قوانین کی حیثیت سے ونی کی کوئی گنجائش نہیں، نہ ہی نابالغ کی شادی درست ہے۔ بالغ بچوں سے رائے لینا ضروری ہے خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔ اس فرسودہ نظام کو اب ختم ہو جانا چاہیے۔ احمد، امریکہ: جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں یا اس کی کسی بھی طرح حمایت کر رہے ہیں، بہت بڑے مجرم ہیں ندیم کیانی، پاکستان: میرے خیال میں اس ظلم کے خلاف آواز ضرور اٹھنی چاہیے۔ آصف محمود، امریکہ: میرے خیال میں حکومت کو ان نام نہاد رسموں پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ملک اور معاشرے کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ سجل احمد، امریکہ: آخر لڑکیوں کا کیا گناہ ہے کہ وہ اپنے چچاؤں یا بھائیوں کے جرائم کی سزا بھگتیں اور وہ بار بار ایسا کرتے رہیں۔ کچھ بھی ہو ان کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھے گی تو دوسروں کو بھی ظلم کرنے کی ترغیب ملے گی۔ دوسری جانب اس کوریج سے ان مظلوم لڑکیوں کو بہت فائدہ ہو گا۔ عمران صدیقی، کراچی، پاکستان: آپ کو ان اقدامات کی مذمت کرتے رہنا چاہیے۔ بدنامی والی بات بے بنیاد ہے، ان واقعات کا نہ تو اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ پاکستان سے، یہ تو صرف درندگی کا ایک کام ہے۔ عبدالرب، پاکستان: بی بی سی ایسی باتوں کے لیے وقف ہے تو کسی اور کو آواز اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ ٹائیگر، پاکستان: میں اس ظالمانہ رسم کے سخت خلاف ہوں۔ میرے خیال میں جو کسی قتل یا لڑائی کا ذمہ دار ہے اسی کو سزا بھگتنی چاہیے۔ کسی بے گناہ کو دوسروں کے گناہوں کی سزا کیوں ملے؟ ایسا کرنے والوں کو پھانسی ملنی چاہیے۔ علی احمد چانڈیو، سندھ، پاکستان: میں میڈیا کو آواز اٹھانے پر مبارکباد دیتا ہوں کیونکہ یہ غیر انسانی عمل ہے اور ہمارے مذہب میں اس کی ممانعت ہے۔ یہ انسانیت کے دائرے سے باہر نظر آتا ہے۔ مراد مرادو، پاکستان: میرے خیال میں ایسے واقعات کے بڑھنے کی بنیادی وجہ حکومت کا ایک خاص طبقے کے ساتھ ہمدردیاں نبھانا ہے۔ میڈیا اور خاص طور پر بی بی سی نے اپنا کردار نبھایا ہے۔ ہمیں میڈیا پر تنقید کی بجائے بہتری کے لیے عملی طور پر کام کرنا چاہیے۔ تنویر احمد، فیصل آباد، پاکستان: یہ ناانصافی ہے۔ لڑکیاں حیوان نہیں ہیں۔ انہیں اپنی مرضی کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔ اسلام نے انہیں شادی میں پسند نا پسند کے پورے حقوق دیے ہیں۔ یہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے۔ محمد انجم، سعودی عرب: یہ بہت بری چیز ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو مل کر اس کے خلاف قانون سازی کرنی چاہیے۔ اکثر ایسے کیس آتے رہتے ہیں لیکن کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔ ہم عمران خان سے درخواست کرتے ہیں کہ اس کے لیے کچھ کریں۔ احمد نجاب، نیپال: میں اس کی بہت سخت مذمت کرتا ہوں۔ یہ رسم اسلام کے خلاف ہے۔ مونا میر، امریکہ: ونی کی رسم بالکل غلط ہے، نہ تو قرآن اس کا حکم دیتا ہے اور نہ معاشرہ۔ یہ جہالت کی رسم چلی آ رہی ہے اور خدا جانے کب تک یہ جاری رہے گی، مگر افسوس تو مولوی صاحبان پر ہوتا ہے کہ لوگوں کو طوطے کی طرح قرآن رٹواتے ہیں مگر اصلی مفہوم نہیں بتاتے۔ بقول ان کے سارا تدبر انہوں نے ہی کر لیا ہے اس لئے اب ہمیں ضرورت نہیں۔ علیم اختر، گجرات، پاکستان: اب یہ جاہلانہ رسمیں ختم ہونی چاہئیں، یہ انسانیت کی تذلیل ہے۔ آخر مشرف ان لوگوں کو بمباری کی دھمکی کیوں نہیں دیتا اور ابھی تک مظلوموں کی حفاظت کا انتظام کیوں نہیں کیا؟ محمد عمران آصف، یونان: ہمارا معاشرہ عجیب ہے، ظلم بھی کرتا ہے اور آواز بھی نہیں اٹھانے دیتا۔ کیا کریں بھئی جب ملک کا سردار ہی آمر ہو، جس طرح کی قوم ہوتی ہے اسی طرح کا حکمران ان پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ کاش پاکستان میں بھی جمہوریت ہو سکتی۔ راحیل چوہدری، امریکہ: میرا خیال ہے کہ ونی پر ضرور آواز اٹھانی چاہیے کیونکہ بات لڑکیوں کی زندگیوں کی ہے اور معصوم انسانوں کی زندگی ہر چیز پر مقدم ہونی چاہیے۔ شیما صدیقی، کراچی، پاکستان: میرے خیال میں تو اب تک ہماری نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو حرکت میں آ جانا چاہیے تھا۔ وہ ابھی تک سو رہے ہیں اور ٹیلیگراف والے خبر لے اڑے۔ لیکن ہمارے حکمرانوں کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی۔ ان کو اس وقت ہوش آئے گا جب پانی سر سے گزر چکا ہو گا۔ میڈیا کو بھر پور آواز اٹھانی چاہیے اور اب اس پر سپریم کورٹ کو خود ایکشن لینا چاہیے۔ کریم خان، کینیڈا: میڈیا میں ضرور اس طرح کے واقعات کا ذکر ہونا چاہیے، لیکن جس طرح بی بی سی نے مختار مائی کیس، سونیا ناز کیس، شائستہ کیس، مشرف کا میڈیا کو انٹرویو کیس اور اب ونی کیس اچھالا ہے، اس میں پاکستانی حکومت اور کلچر کو منفی انداز سے پیش کیا جاتا ہے۔ آج ہی میں بی بی سی پر پڑھ رہا تھا کہ دنیا میں ہر اٹھارہ سیکنڈ بعد خواتین کے خلاف تشدد کا ایک واقعہ ہوتا ہے لیکن اس بارے میں لمیڈیا بالکل خاموش ہے۔ معلوم نہیں بی بی سی آخر کیوں پاکستانی پر اتنی مائکروسکوپ لگا کر بیٹھا ہے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان: اس روایت کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے اور ایسے لوگوں کو سزا ملنی چاہیے جو اس طرح کا ظلم کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مظلوم لڑکیوں نے بہت ہی اعلی فیصلہ کیا ہے اور اس میں بی بی سی کا کردار نہایت ہی اہم ہے۔ عابد حسین، سپین: میرے خیال میں میڈیا کو ضرور آواز اٹھانی چاہیے اور جو لوگ مل کر اس قسم کا فیصلہ کرتے ہیں ان کو بھی مثالی سزا ملنی چاہیے، تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔ یہ بالکل غیر انسانی فعل ہے۔ اس کو ہر صورت میں روکا جائے۔ چاہے جو بھی کرنا پڑے۔ ندیم رحمان ملک، پاکستان: اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ رسم واقعی قابل مذمت ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں بھی یہ رسم جاری ہے۔ اب اس پر حکومت بھرپور کارروائی کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم سب کا بھی فرض ہے کہ اس حوالے سے آپس میں بات چیت کریں اور دوسروں کو بھی اس کے منفی اثرات سے آگاہ کریں۔ باقی، بی بی سی یا میڈیا اس حوالے سے اچھا کام کر رہا ہے۔ دلشاد حبیب، گجرات، پاکستان: ونی ایک جاہلانہ رسم ہے اور بہت ہی برا عمل ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کے حقوق کو پامال کرنا مردانگی سمجھا جاتا ہے اور شرم کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات ایسا سب کچھ مذہب کے نام پر کیا جاتا ہے۔ ان مظلوم بچیوں سے زیادہ قصور ان افراد کا ہوتا ہے جو ایسا فیصلہ کرتے ہیں اور اس کے بعد ہمارے خاموش تماشائی قانون کے محافظوں کا ہوتا ہے جو ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔ بی بی سی پر پہلے بھی ایسے مسائل پر بات کی گئی ہے اور لوگ اپنا غصہ نکالنے کے لیے کچھ نے کچھ لکھ جاتے ہیں کیونکہ باہر جا کر پھر ہوی ناکارہ اور مفلوج سسٹم ہے جس میں نہ ہی انصاف ہے اور نہ ہی منصف۔ حبیب گہر، فیصل آباد، پاکستان: ونی کی رسم سرا سر غلط ہے۔ اس کے خلاف احتجاج صحیح ہے۔ جو لڑکیاں اتنی پڑھی لکھی ہیں وہ کیوں اپنے والدین کو نہیں سمجھاتیں؟ لڑکیوں کو اپنی مرضی سے شادی کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے، لیکن والدین کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔ کریم پشتون، سپین: شاید پاکستان ایسا واحد ملک ہے جہاں وفاقی قوانین کے مقابلے میں مقامی قوانین زیادہ ہیں۔ ونی کی رسم صوبہ سرحد اور صوبہ سندھ میں پائی جاتی ہے۔ شاید ان علاقوں میں ونی کے علاوہ جرائم کی شرح میں اضافے کی وجہ بھی قانونی نظام کی یہ کمزوری ہے۔ میں جرگے کی عزت کرتا ہوں لیکن یہ بہت ہی قدیم روایت ہے اور آج کل حالات بالکل مختلف ہیں۔ مظفر بخاری، پاکستان: میں یہی کہوں گا کہ یہ سب حد سے زیادہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے کی پہلے ہی بہت بدنامی ہو چکی ہے۔ اس کے خلاف سخت قانون ہو اور عمل بھی اس سے زیادہ سخت ہونا چاہیے۔ آسئہ کمال شیخ، بحرین: عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر ضرور آواز اٹھانی چاہیے۔ یہ ان کا حق ہے اور اسلام میں مرد اور عورت کا حق برابر ہے۔ احمد بٹ، متحدہ عرب امارات: آواز اٹھانی چاہیے، اور کسی کو کوئی حق نہیں کہ کوئی کسی کے لیے ایسا فیصلہ کرے۔ جمال اختر، فیصل آباد، پاکستان: یہ سارے فیصلے اسلام کے منافی ہیں۔ یہ جاہل لوا=گوں کے کام ہیں جن کے دماغ اور سوچ بالکل کام نہیں کرتے۔۔۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ان تمام علاقوں کا معائنہ کرے جہاں جرگہ نظام ہے اور اگر وہاں ایسا کچھ ہو رہا ہے تو ان کے خلاف سخت ایکشن لیں۔ عابد عزیز، ملتان، پاکستان: اس کی سخت مذمت کی جانی چاہیے۔ اسلام کبھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ عنایت برنارڈ، پاکستان: یہ بالکل غیر انسانی ہے۔ حکومت کو اس پر سنجیگدی سے توجہ دینی چاہیے۔ |