 | | | جنرل مشرف نے یہ بیان امریکہ میں دیا |
جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کو ریپ کے معاملے میں بدنام کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ سب کچھ ساری دنیا میں ہو رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ریپ ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ صدر مشرف نے کہا: ’ آپ کو پاکستان کے حالات کو سمجھنا چاہیے۔ یہ پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ باہر جانا چاہتے ہیں یا کینیڈا کی شہریت یا ویزہ لینا چاہتے ہیں تو خود کو ’ریپ‘ کروا لیں۔‘ جنرل مشرف کے اس بیان پر سیاست دانوں اور دائیں بازو کی جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اپوزیشن رکنِ اسمبلی شیری رحمان نے کہا کہ ’مجھے یہ جان کر دھچکا لگا کہ صدر جنرل مشرف خواتین کے بارے میں اتنی نچلی ذہنیت کے مالک ہیں۔ ان کے بیان پر ساری قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔‘ حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی کاملہ حیات نے بتایا کہ ’ یہ ملک میں ہونے والے زیادتی کے واقعات کو جانچنے کا انتہائی فضول طریقہ ہے۔‘ مختاراں مائی نے اس بیان پر کہا کہ کوئی بھی عورت پیسوں کے لیے اپنے آپ کو اس گھناؤنے عمل سے نہیں گزار سکتی۔ مختاراں مائی کا کہنا تھا کہ ’میں انصاف کے بدلے اس گینگ ریپ کے بعد ملنے والی تمام رقم صدر مشرف کو دینے کیلیے تیار ہوں۔‘ کیا ریپ کمائی کا ذریعہ ہے؟ کیا اس کا استعمال پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کیا جارہا ہے؟ جنرل مشرف کے اس بیان پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
عابد محمود، بہاولپور: یہ ایک انتہائی ذمہ دار عہدے پر موجود شخص کی جانب سے ایک بچگانہ تبصرہ ہے۔ قاصر عدیل، پاکستان: میرے خیال سے جنرل صاحب نے یہ بیان ایسے ہی نہیں دے دیا۔ ان کے پاس کوئی ثبوت ہوگا جس کی بناء پر انہوں نے ایسا بیان دیا۔ جاوید اقبال بٹ، امریکہ: ایسا بیان مشرف صاحب کو زیب نہیں دیتا۔ پرویز چوہدری، اسلام آباد: جنرل مشرف کے بیان سے پوری قوم کی تذلیل ہوئی ہے۔ اگر ان عورتوں کو پہلے ہی انصاف مل جاتا تو یہ کبھی میڈیا سہارا نہ لیتیں۔ نفیس احمد، امریکہ: صدر کا بیان غیرذمہ دارانہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ریپ کیس کو سیاست کے لیے یوز کیا جاتا ہے۔ صادق جوہر، گلگت: جنریل صاحب کی بات صحیح نہیں ہے۔ مجھے بہت افسوس ہوا ہے کہ انہوں نے عورتوں پر اس طرح کا گھٹیا الزام لگایا۔۔۔ ممتاز شاہ سید، کراچی: میں سمجھتا ہوں کہ جنرل پرویز مشرف صاحب نے بہت اچھی بات کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریپ ساری دنیا میں ہوتے ہیں۔ پاکستان کو اتنا کیوں بدنام کیا جارہا ہے؟ جو این جی اوز یہ کام کررہے ہیں ان کو سب سے پہلے اپنے ملک میں دیکھنا چاہئے، باقی یہ سب شہرت کے لئے ہورہا ہے۔ سیف سیال، لاہور: پاکستانی صدر کا بیان شرمندگی کی باعث ہے۔ یہ کسی عورت کے تصور سے بھی باہر کی بات ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایسا شخص ایک مسلم ملک کا رہنما ہے۔۔۔۔ رئیس اللہ رکھیو مری بلوچ، لاڑکانہ: مشرف اچھے نہیں۔ انتثار سید، جرمنی: صدر مشرف اب دنیا کے معروف رہنما ہیں، اور میں ان کی پاکستان کو اقتصادی معاملات میں ایشین ٹائیگر بنانے کی کوششوں کی تعریف کرتا ہوں۔ لیکن ریپ کے بارے میں ان کا بیان کہ یہ آمدنی کا ذریعہ ہے اور قومیت حاصل کرنے کا ذریعہ، میرے لئے صدمے کا باعث ہے۔ صدر مشرف کو چاہئے کہ اپنا بیان واپس لیں۔ پاکستان میں سینکڑوں معصوم عورتیں ہیں جن کی ریپ ہوجاتی ہے اور بدنامی کی وجہ سے اپنا نام بھی ظاہر نہیں کرتیں۔۔۔۔ صمد، یو ایس اے: لگتا ہے پاکستان میں وکیلوں یا ہائی کورٹ کے جائزوں اور سپریم کورٹ پر اعتبار نہیں کیا جاتا۔ اور ان واقعات کی تشہیر ضرور سمجھی جاتی ہے۔۔۔۔ زاہد رانا، یو اے ای: میں تو یہی کہوں گا کہ اگر مشرف کی یہی سوچ ہے تو پھر اس کو چاہئے کہ اپنی ۔۔۔۔۔ رضیہ رانا، امریکہ: یہ کافی شرمندگی کی بات ہے جو صدر مشرف نے کہی ہے۔ اگر یہ آمدنی کا ذریعہ ہے تو وہ اپنی فیملی کو کیوں نہیں اس بزنس میں کرلیتے؟ کوئی عورت ایسا نہیں کرسکتی۔ اویس صدیقی، کینیڈا: مشرف صاحب کی بہت سی پالیسیوں کا میں حامی رہا ہوں۔ لیکن ان کے اس بیان سے نہ صرف میں بلکہ ہر عزت و غیرت رکھنے والے شخص کو شدید دھچکا اور صدمہ ہوا ہے۔ پتہ نہیں کیوں اتنی دوسروں کی جی حضوری اور خوش آمد میں اتنے گرے جارہے ہیں کہ اگر بس چلے تو دوسروں کو خوش کرنے کے لئے اپنا دامن بھی داغدار کرلیں۔۔۔۔ فوزیہ خان، ٹورانٹو: مشرف صاحب کی روشن خیالی کچھ زیادہ ہی ہوگئی ہے، اس سے پہلے کے یہ مزید روشن خیال ہوں، انہیں جیل میں بند کرنا چاہئے۔جنگل میں اکیلا چور۔۔۔۔ سلمان شیخ، لندن: اس موضوع پر این جی اوز کی جانب سے دباؤ اور پاکستان کے امیج کے مجروح ہونے کے پس منظر میں یہ بیان ہے۔۔۔۔ بیجل سندھی، لاڑکانہ: ’ریپ کے فوائد‘ کے بارے میں پاکستانی ڈکٹیٹر مشرف سے بہت کون جانتا ہے؟ وہ خود ہی افغانستان کے امریکی ریپ سے فائدہ اٹھاچکے ہیں۔۔۔ حماد بخاری: ریپ کے نام کا استعمال زیادہ طور پر ذاتی مقاصد کے لئے، کچھ حکومت کو بدنام کرنے کے لئے اور بہت کم انصاف حاصل کرنے کے لئے ہورہا ہے۔ در اصل یہ سب پروپیگنڈہ باز نام نہاد لوگ اور ادارے جن میں معروف سماجی شخصیات بھی شامل ہیں، اپنی جھوٹی شہرت اور کمائی کے لئے بھی کررہے ہیں۔۔۔ کاشف، گجرانوالہ: کمائی کا ذریعہ یہ ان لوگوں کے لئے جو اپنے آپ کو سمجھتا ہے کہ اسے اس سلسلے میں باہر جانا چاہتا ہے۔۔۔۔ خرم بٹ، تائیوان: اگر صدر صاحب انصاف کے لئے کسی قانون پر عمل در آمد نہیں کروا سکتے تو نہ صحیح، لیکن لوگوں کے دل تو نہ دکھائیں۔ غیرقانونی طور پر حکومت پر قبضہ کرکے بیٹھنے والا ہر عمل کو اسی نظر سے دیکھتا ہے جس کا اس نے خود ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے بھی تو جمہوریت کے ساتھ ریپ کیا ہے۔ محمد عبداللہ بھٹی، فیصل آباد: کیا مسٹر مشرف کے پاس اس کے شواہد ہیں جس کی بات انہوں نے کی ہے؟ اگر نہیں تو انہیں حق نہیں بنتا کہ وہ پاکستان کا صدر رہیں۔ اشرف، مناما، بحرین: صدر کو ایسی باتیں کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے اور ان کے بیان سے ہمارے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ اگر اس کی بہن بیٹی کے ساتھ ایسا ہوجائے اور کوئی سنوائی نہ ہو تو وہ کیا کریں گے؟ زاہد مغل، ڈسکہ: مشرف کے اس بیان سے ان کی گھٹیا اور گندی سوچ کا پتہ چلتا ہے۔ جو صدر اپنے عوام کے بارے میں ایسی سوچ رکھتا ہو وہ حکمرانی کے قابل نہیں۔ سہیل قریشی، جرمنی: صدر کے اس بیان کو پڑھ کر مجھے غصہ آیا ہے۔ پاکستان میں ان کے فوجی کمانڈ کے تحت جو کچھ ہورہا ہے اس پر شرمندہ ہونے کے بجائے، وہ اس طرح کے گھٹیا بیانات جاری کررہے ہیں تاکہ اس طرح کے واقعات کو جسٹیفائی کسکیں۔انہیں فوری طور پر استعفیٰ دیدینا چاہئے، اس طرح کی گھٹیا ذہنیت والے شخص کو صدر کے پوسٹ پر نہیں ہونا چاہئے۔ علیم اختر، گجرات: واقعی مشرف نے بہت ہی بھونڈی سی زبان استعمال کی ہے، ایسی زبان مہذب لوگوں کو زیب نہیں دیتی، باقی این جی اوز ان معاملات کو فنڈز جمع کرنے کے لئے استعمال کرتی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ بلال خان، راولپنڈی: مشرف پر بش کی پیروی فرض ہے۔ لہذا عقل والوں کو اس بیان پر حیران نہیں ہونا چاہئے، آخر اس میں غلط کیا ہے۔۔۔۔ سرفراز علی، لندن: مشرف کا بیان ریپ کے کچھ واقعات میں صحیح ہوسکتا ہے۔ لیکن ایک شخص جو ملک کے صدر کے عہدے پر فائز ہو اسے اس طرح کا ایک عام بیان نہیں دینا چاہئے، کیوں کہ ایسے بیان میں تمام پاکستانی خواتین نشانے پر ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے صحیح طریقے سے حالات کو سمجھا نہیں۔ |