BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 July, 2005, 15:17 GMT 20:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مجھے نشے کے ٹیکے لگائے گئے‘

ڈاکٹر شازیہ خالد
’میری اللہ سے یہ دعا ہے کہ کسی بہن کو یہ دن نہ دیکھنے پڑیں‘
’میں ڈاکٹر شازیہ آپ سے مخاطب ہوں۔ مجھے اس کا بے حد افسوس ہے کہ میں ’آنا‘ کی طرف سے منعقدہ اس سمپوزیم میں خود نہ آ سکی لیکن مجھے ٹیلیفون پر بات کرنے کا موقع ملا جس کے لیے میں آپ سب کی شکر گزار ہوں۔

میں وہ ڈاکٹر شازیہ ہوں جسے اپنے والدین نے بہت شوق سے ڈاکٹر بنایا تاکہ میں اپنے پیشے اور اپنی صلاحیتوں سے انسان ذات کی خدمت کر سکوں اور اپنے فرائض انجام دے سکوں۔

23 جون 2003 کو مجھے پی پی ایل کمپنی میں تعینات کیا گیا۔ پی پی ایل ایک ایسا ادارہ ہے جو ملک کو چالیس سے پنتالیس فیصد گیس سپلائی کرتا ہے لیکن یہ گیس بلوچستان کی جس جگہ سے نکالی جاتی ہے اس جگہ کے لوگ بیچارے بہت ہی سیدھے اور ناخواندہ ہیں۔ یہ سب جانتے ہوئے میں نے وہاں کام کرنے کا چیلنج اس لیے قبول کیا کہ میرے پیشے میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ دور دراز علاقوں میں لیڈی ڈاکٹر کو نوکری نہیں کرنی چاہیے یا شاید اس لیے بھی کہ پی پی ایل کی انتظامیہ نے ان الفاظ میں مجھے یقین کرایا کہ’ میں اپنے گھر میں اتنی محفوظ نہیں جتنی کہ سوئی فیلڈ ہسپتال میں‘۔ اور جب مجھے تعینات کیا گیا تو یہ بھی یقین دلایا گیا کہ میرے خاوند خالد کو بھی نوکری دی جائے گی کیونکہ وہ پٹرولیم انجینیئر ہیں اور یہ کہ وہ شادی شدہ جوڑوں کو ترجیح دیتے ہیں لیکن آگے چل کر ان باتوں پر کوئی عمل نہیں ہوا۔

میں اپنی نوکری سے اور اپنی دنیا میں بہت خوش تھی اور اپنے فرائض بہت اچھے طریقے سے سر انجام دے رہی تھی۔

مجھے وہ درد ناک پل سناتے ہوئے بہت تکلیف ہو گی لیکن اس سماج، اس وحشی سماج کی چّکی میں پستے ہوئے میری طرح لاکھوں بہنوں کے لیے ، ان کی آواز بن کر وہ المناک واقعہ سنانا پڑے گا تاکہ کوئی اور اب کے بعد کبھی کسی بچی سے زیادتی نہ ہو، کوئی اور شازیہ مجبور ہو کر اپنے ملک سے نکالی نہ جائے اور کوئی ایسی عدالت نہ بنے جو صرف اشاروں پر چلے اور مظلوموں کے ساتھ انصاف نہ کرے۔ کسی اور ماں بیٹی کی زندگی تباہ نہ ہو، ان کا کیرئیر تباہ نہ ہو اور ہر عورت کی عزت کی نگاہ سے دیکھا جا سکے۔

دو اور تین جنوری کی درمیانی رات کو پی پی ایل سوئی فیلڈ میں میرے ساتھ ایسا المناک واقعہ پیش آیا جس نے میری زندگی تباہ کر دی۔ میری خوشیوں کو غموں کی چھاؤں میں بدل دیا اور میرے پاکیزہ پیشے کو بدنام کر دیا۔

میری جس طرح بے حرمتی کی گئی، مجھے جس طرح اذیتیں دی گئیں، مجھے مارا پیٹا گیا، گھسیٹا گیا، میرے آواز نکالنے پر، مدد کے لیے پکارنے پر، اللہ اور رسول کے واسطے دینے پر میری گردن ٹیلیفون کی تار سے ایسے باندھی گئی کہ میرا جسم سانس نہ لینے پر سرد ہو گیا۔ اگر تھوڑی دیر وہ ظالم اسی طرح تار کھینچتا رہتا تو شاید آج میری آواز آپ لوگوں تک پہنچنا ناممکن تھی۔

میں اکثر یہ سوچتی ہوں کہ کاش وہ مجھے مار ہی دیتا تو آج میں ساری زندگی انصاف، انصاف پکار کر نہ جیتی اور نہ ہی اپنی لٹی ہوئی عزت کی داستان آپ کو سناتی۔

مجھے بے حد افسوس ہے کہ حکومتِ پاکستان نے مجھے انصاف نہیں دلایا، میرا مجرم آج بھی کہیں آزاد گھوم رہا ہو گا اور اس سے بھی زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ میری کمپنی پی پی ایل نے جو کھیل میرے ساتھ کھیلا اس کا ساری دنیا کو پتا ہے۔ واقعے کے بعد میں چیختی رہی، چّلاتی رہی لیکن میری کوئی داد فریاد نہ ہوئی، الٹا مجھے ہی خاموش رہنے کی دھمکیاں دی گئیں، مجھے نشے کے ٹیکے لگائے گئے، مجھے میری فیملی تک نہ پہنچایا گیا، میرا کوئی میڈیکل نہیں کروایا گیا۔ میرا کوئی علاج نہیں کروایا گیا۔ میرے سر سے خون بہہ بہہ کر جم گیا۔ میرے ہاتھ سوج گئے تھے اور میرے منہ سے خون بہہ رہا تھا۔

مجھ سے زبردستی ایسے بیانات پر دستخط لیے گئے جن میں یہ تحریر تھا کہ میں پولیس یا ایف آئی آر کے چکروں میں نہیں پڑنا چاہتی۔ تین دن تک مجھے خفیہ رکھا گیا اور پولیس کو میرے پاس نہیں آنے دیا گیا۔ مجھے اپنے کمرے تک جانے کی اجازت نہیں تھی کہ میں اپنی ضرورت کی چیزیں لے سکوں۔

ان واقعات کے دوران میرا وہ جوڑا غائب کروا دیا گیا جو میرے خون میں ڈوبا ہوا تھا۔ اور آخر میرے کمپنی والوں نے اپنی جان چھڑانے کے لیے مجھے کراچی کے ایک پاگلوں کے ہسپتال میں بھیج دیا تاکہ یہ لگے کہ شازیہ پاگل ہو چکی ہے۔

اس کے بعد بھی ایسی کئی ناانصافیاں ہوئیں، قدم قدم پر ڈرایا گیا، خوفزدہ کیا گیا جس کی وجہ سے مجبوراً ہمیں اپنا ملک چھوڑنا پڑا اور ہم بے یارومددگار ہوگئے۔ ہم دونوں کا بسا بسایا گھر اجڑ گیا، ہم اپنے والدین سے دور ہو گئے۔ ہمارا کیریئر تباہ ہوگیا اور ہماری جینے کی خواہش باقی نہ رہی۔

ہمارا مستقبل کیا ہو گا؟ ہماری پہچان کیا ہو گی؟ ہمیں کچھ بھی نہیں پتا۔ میری اللہ سے یہ دعا ہے کہ کسی بہن کو یہ دن نہ دیکھنے پڑیں۔

میں آپ سب کا، ’آنا‘ تنظیم کا، عورت فاؤنڈیشن کا، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا، ہیومن رائٹس کی شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے انصاف کے لیے آواز اٹھائی اور یہ دعا کرتی ہوں کہ اللہ کرے پاکستان کی حکومت کو یہ سمجھ آ جائے کہ ہمارے ملک کی بنیادی ضرورت مظلوموں کو انصاف ملنا ہے، عورت کی عزت کرنا ہے اور اس کا وقار قائم کرنا ہے نہ کہ اسے انصاف کے نام پر بدنام کرنا ہے۔

اللہ کرے کے پاکستان اور پوری دنیا کی ماں بیٹیوں کی عزت سلامت رہے کیونکہ آج کل صرف غریب اور ناخواندہ عورتوں کی بے حرمتی نہیں ہو رہی بلکہ ہم جیسی تعلیم یافتہ عورتوں کی عزتوں کو بھی برباد کیا جا رہا ہے۔ ‘


(یہ ڈاکٹر شازیہ خالد کے اس خطاب کا متن ہے جو انہوں نے ہیوسٹن، ٹیکساس میں غیر سرکاری تنظیم ’آنا‘ یعنی ایشین امریکن نیٹ ورک اگینسٹ ابیوز آف ویمن کی طرف سے دو جولائی کو، مختار مائي پر منعقدہ اجلاس میں ٹیلیفون کے ذریعے لندن سے کیا تھا۔)
اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66شرکاء آبدیدہ ہو گئے
ڈاکٹر شازیہ کا آنا اجلاس سے ٹیلی فونک خطاب
66فیصلے کی گھڑی
سپریم کورٹ، حکومت، مختار مائی اوراین جی اوز
66دوسرا راستہ نہیں تھا
ڈاکٹر شازیہ برطانیہ میں بھی ڈری ڈری ہیں۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد