مختار مائی اور غیر سرکاری تنظیمیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی تاریخ کا ایک متنازعہ ترین مقدمہ آخری مرحلے میں سپریم کورٹ کے سامنے ہے جہاں مختار مائی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے ملزمان کی سزا کو بحال یا ختم کرنے کے بارے میں فیصلہ ہوگا۔ بین الاقوامی سطح پر مارچ میں ان ملزمان کو بری کیے جانے کے خلاف سخت رد عمل ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور غیر سرکاری تنظیموں کے درمیان تنازعہ کی وجہ بھی بن گیا ہے۔ صدر مشرف کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے غیر سرکاری تنظیموں پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس مقدمے کو پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ صدر مشرف کا مختار مائی کو ملک سے باہر جانے سے روکنے کا فیصلہ سب سے زیادہ متنازعہ ثابت ہوا ہے۔ کراچی میں ایک سرکاری ملازم نوید ظفر کا کہنا ہے کہ ’اس مقدمے میں اب کٹہرے میں مختار مائی کے ساتھ زیادتی کے ملزمان نہیں بلکہ یہ پاکستان کی آزاد خیالی کی طرف سُست رو پیش رفت کا امتحان بن گیا ہے‘۔ ظفر کی بات سے اتفاق اور اختلاف کرنے والے سب ہی شاید ان کی رائے کو جذباتی قرار دیں۔ لیکن یہی بات اس مقدمہ کو اتنا متنازعہ بنا دیتی ہے۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں مختار مائی کے مقدمے میں عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ صدر مشرف کا ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کا نظریہ اور غیر سرکاری تنظیموں کا مستقبل بھی توجہ کا مرکز ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ تین برسوں میں مختار مائی کو وی آئی پی کی طرح تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ سے بری ہو جانے کے بعد بھی مقدمے کے ملزمان مختلف متنازعہ قوانین کے تحت ابھی تک جیل میں ہیں۔ حکومت کے حامی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں مختار مائی کے ساتھ ساتھ حکومت بھی فریق ہے اور اس نے وکیلوں کی ایک بڑی ٹیم کی خدمات حاصل کی ہوئی ہیں۔ حکومت کی طرف سے مختار مائی کے خلاف سفر کی پابندی کے بعد مختار مائی کی مدد کے لیے اس کے تمام اقدامات نظر انداز ہو گئے ہیں۔ بی بی سی نے خواتین کے امور کے لیے وزیر اعظم کی مشیر نیلوفر بختیار سے پوچھا آیا مختار مائی کو روکنے سے حکومت کو زیادہ نقصان نہیں ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتی۔ میں صرف یہ کہوں گی صدر نے جو بھی فیصلہ کیا وہ درست تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے مختار مائی کے سفر کرنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ امریکہ میں اپنے حامیوں کے کہنے پر کیا کیونکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ مختار مائی کو مدعو کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں پاکستان کو بدنام کرنا چاہتی ہیں۔ اس صورتحال میں حکومت کے ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کے نظریے کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستان کے کئی وزیر غیر سرکاری تنظیموں کو مختار مائی کے مقدمے میں کردار پر تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ انہوں نے غیر سرکاری تنظیموں پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس مقدمے کو مغربی ذرائع سے فنڈ حاصل کرنے اور اپنی ساکھ بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ وزیر اعظم شوکت عزیز نے غیر سرکاری تنظیموں کے لیے نئی قانون سازی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ نے، جو ماضی میں غیر سرکاری تنظیموں کے بارے میں قانون سازی میں حکومت کی معاونت کر چکے ہیں، کہا کہ حکومت کو ان غیر سرکاری تنظیموں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے جو خالصتاً امدادی کام کرتی ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ جیسے ہی یہ تنظیمیں رائے عامہ پر کام شروع کرتی ہیں حکومت ان پر شک کی نگاہ ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر سرکاری تنظیمیں ایسے موضوعات کی تشہیر کرتی ہیں جو حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ ایڈووکیٹ راجہ نے کہا کہ مختار مائی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ’جب تک وہ ایک مظلوم عورت تھیں جن کو مدد کی ضرورت تھی حکومت ان کے ساتھ تھی لیکن جیسے ہی انہوں نےانسانی حقوق کے بارے میں مہم چلانے کی کوشش کی حکومت نے ان کو شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا‘۔ یہ ان غیر سرکاری تنظیموں کے لیے بری خبر تھی جو مختار مائی کے مقدمے کو خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھیں۔ یہ تنظیمیں معاشرے میں مردوں اور خواتین کے معاملات میں عدم توازن کا ماضی میں بار بار عملی مظاہرہ دیکھ چکی ہیں۔ انیس سو چوراسی میں پاکستان میں ’اسلامی قوانین‘ کے نفاذ کے خلاف احتجاج کرنے پر ان تنظیموں کے ارکان کو سخت مار پڑی تھی۔ کچھ سال قبل ایک پٹھان لڑکی سمیعہ سرور مہمند کو، جو اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی تھی، ایڈووکیٹ عاصمہ جہانگیر کے دفتر میں قتل کر دیا گیا تھا۔ آج بھی پاکستان میں قبائلی جھگڑے نمٹانے کے لیے عورتوں کی لین دین ہوتی ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں کے عہدیدار کہتے ہیں کہ مختار مائی جیسے مقدمات انسانی حقوق کے موضوعات پر عالمی توجہ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔ عالمی سطح پر توجہ ان کی کامیابی کے لیے بہت اہم ہوتی ہے کیونکہ غیر منتخب حکومتیں زیادہ بیرونی دباؤ میں آتی ہیں۔ اس لیے ان کو خدشہ ہے کہ مختار مائی کے مقدمے کے نتیجے سے قطۂ نظر حکومت کی مخالفت ان کے کام کو مشکل بنا دے گی۔ مختار مائی اگر انصاف حاصل کر بھی لے پاکستان میں ترقی پسند غیر سرکاری تنظیموں کے لیے شاید مشکل دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||