BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 June, 2005, 14:23 GMT 19:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاسپورٹ واپس ملنے کا عندیہ

مختار مائی
سپریم کورٹ 27 جون سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مختار مائی کی اپیل کی سماعت کررہی ہے۔
تین برس قبل جنوبی پنجاب کے گاؤں میروالہ میں پنچایت کے حکم پر اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے انہیں ان کا پاسپورٹ واپس کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

میروالہ سے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی مشیر نیلوفر بختیار نے ٹیلی فون پر انہیں پیشکش کی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو حکومت ان کا پاسپورٹ بذریعہ ڈاک انہیں بھیج دے گی۔

مختار مائی کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم کی مشیر کو کہا ہے کہ ستائیس تاریخ کو وہ اسلام آباد آرہی ہیں اور وہ اپنا پاسپورٹ وہیں وصول کر لیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاک کے ذریعے آنے سے پاسپورٹ کے گم ہونے کا احتمال رہے گا۔ انہوں نے ہنستے ہوۓ کہا کہ حکومت دعویٰ کرے گی کہ پاسپورٹ بھیج دیا گیا اور یہاں وہ انہیں ملے گا ہی نہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان ستائیس جون سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مختار مائی کی اپیل سننے جارہی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے اس سال تین مارچ کے روز مختار مائی کیس میں موت کی سزا پانے والے چھ میں پانچ ملزموں کو بری کرنے جبکہ چھٹے کی سزا عمر قید میں بدلنے کا فیصلہ دیا تھا۔

یاد رہے کہ مختار مائی کا پاسپورٹ حکومت نے چند روز قبل اس وقت قبضے میں لے لیا تھا جب ان کا نام ان لوگوں کی فہرست یعنی ای سی ایل سے خارج کرنا پڑا تھا جن کے بیرون ملک سفر پر پابندی ہے۔ مختار مائی کو انسانی حقوق کے لیئے کام کرنے والی ایک تنظیم انا کی طرف سے امریکہ آنے کی دعوت دی گئی تھی لیکن حکومت کی طرف سے ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

اپنے حالیہ دورہ نیوزی لینڈ کے دوران آکلینڈ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے تسلیم کیا تھا کہ مختار مائی کے بیرون ملک سفر پر پابندی ان کے کہنے پر لگائی گئی ہے کیونکہ ان کی حکومت کو خدشہ تھا کہ کچھ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں یعنی این جی اوز مختار مائی کو باہر لے جا کر پاکستان کو بدنام کرنا چاہتی ہیں۔

امریکہ کی وزیر خارجہ ڈاکٹر کونڈلیزا رائس اور ان کی جنوبی ایشیا کے امور کے لیئے معاون کرسٹینا روکا نے اپنے بیانات میں مختار مائی پر پابندیوں کو افسوسناک قرار دیا اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کو کہا تھا کہ وہ مختار مائی کے دورہ امریکہ میں حائل رکاوٹیں دور کرے۔

تاہم گذشتہ روز اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس نے دعویٰ کیا تھا کہ مختار مائی کے مسئلے پر پاکستان پر کوئی بیرونی دباؤ نہیں ہے۔

وزیر اعظم کی مشیر نیلوفر بختیار سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مختار مائی کے پاسپورٹ والا مسئلہ وزارت داخلہ دیکھ رہی ہے اور وہ اس حوالے سے کوئی بات نہیں کر سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ البتہ انہوں نے مختار مائی کو یہ یقین دلایا ہے کہ وہ جب چاہیں بیرون ملک سفر کرسکتی ہیں اور وہ ایسے ہی سمجھیں جیسے ان کا پاسپورٹ ان کے پاس ہی ہے۔

نیلوفر بختیار کا کہنا تھا کہ تاہم مختار مائی نے انہیں کہا ہے کہ وہ سردست بیرون ملک نہیں جانا چاہتیں کیونکہ سپریم کورٹ نے اب ان کی اپیل سننے کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے اور وہ چاہیں گی کہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے فیصلہ آنے تک وہ ملک ہی میں رہیں۔

جب یاد دلایا گیا کہ امور داخلہ کے وزیر مملکت وسیم شہزاد نے مختار مائی کے بیرون ملک سفر پر پابندی کا دفاع کرتے ہوۓ پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ مختار مائی ملک میں رہ کر اپنے مقدمے کی پیروی کریں تو وزیر اعظم کی مشیر کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت کو کچھ ایسی اطلاعات تھیں جن سے خدشات پیدا ہوئے کہ مختار مائی کے بیرون ملک چلے جانے سے سپریم کورٹ میں ان کے مقدمے کی پیروی کون کرے گا۔

نیلوفر بختیار کا کہنا تھا کہ صدر مشرف کے پاس مختار مائی کے مجوزہ دورہ امریکہ کے پس پردہ سازشوں کے بارے ایسی اطلاعات ضرور تھیں جن کی بناء پر ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی لگانے کا حکم دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر صاحب شاید ابھی ان سازشوں سے پردہ اٹھانا مناسب نہ سمجھ رہے ہوں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد