مختار مائی پر پابندی اٹھا لی گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین سال قبل ایک پنچائت کے فیصلے پر اجتماغی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی پر حکومت کی طرف سے بیرون ملک سفر کرنے پر عائد پابندی ہٹا لی گئی ہے۔ وزیر اعظم شوکت عزیز کی ہدایت پر مختار مائی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مختار مائی پر عائد پابندی اٹھا لی گئی ہے۔ تاہم مختار مائی کے وکیل چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ان کو مختاراں مائی سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ اعتزاز احسن نے بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ ان کو پتہ نہیں ہے کہ مختار مائی کہاں ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مختاراں مائی پر حکومت دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنا وکیل تبدیل کر لیں۔ تاہم وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے اعتزاز احسن کے جواب میں کہا ہے کہ ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ مختار مائی کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختار مائی نے سوموار کو ایک پریس کانفرنس بھی کی ہے جس کے بعد اس بارے میں تمام شبہات ختم ہو جانے چاہئیں۔ واضح رہے کہ مختار مائی نے کل اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انہوں نے امریکہ جانے کے لیے جمع کرائی گئی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ میر والا میں ان کی نقل و حرکت پر پابندی بدستور قائم ہے اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنے سے ان پر دباؤ ہے۔
مختار مائی نے کہا تھا کہ ان کی حفاظت کے لیے پولیس تو تین برس سے موجود ہے مگر ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ان کو اپنا کام کرنے سے روکا جا رہا ہے اور ان کو گھر کے دروازے سے باہر نہیں نکلنے دیا جا رہا۔ مختار مائی نے کہا کہ ان کو حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی نظر بندی ختم کر دی جائے گی اور وہ کہیں بھی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک آزاد شہری ہیں اور وہ کہیں بھی جا سکتی ہیں۔ مختار مائی کو پیر کی شام میر والا سے پہلے لاہور اور پھر اسلام آباد لایا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت مختاراں مائی کے اوپر شدید دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ملک سے باہر نہ جائیں۔ مبینہ حکومتی دباؤ کے بارے مختار مائی سے جب کافی سوالات کئے گئے تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنے وکیل سے ملاقات کے بعد اس بارے میں کچھ بولیں گی۔ مختار مائی سے پریس کانفرنس میں جب اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کو اے اے این اے نامی ایک تنظیم نے امریکہ کے دورے کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کو کل رات ان کے بھائی نے فون کر کے بتایا کہ ان کی والدہ کی طبیعت خراب ہے اور اس وجہ سے وہ امریکہ جانے کے لیے جمع کرائی گئی درخواست واپس لے رہی ہیں۔ مختاراں مائی نے کہا کہ وہ مستقبل میں امریکہ ضرور جائیں گی۔ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے سکول قائم کرنے کے لیے دی گئی مدد کے سوال کے جواب میں کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف پاکستان کے صدر ہیں اور اگر وہ ان کی مدد نہ کرتے تو کیا امریکہ والے ان کی مدد کرتے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ان کو انصاف دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کو سپریم کورٹ سے انصاف ملنے کی امید ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم کی مشیر نیلو فر بختیار نے تسلیم کیا کہ مختاراں مائی کا نام ای سی ایل پر موجود ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ سب غلط فہمی کی وجہ سے ہوا ہے اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے جس کی رپورٹ چند روز میں آ جائے گی۔ نیلوفر بختیار کا کہنا ہے کہ مختاراں مائی پہلے بھی باہر گئی ہیں اور حکومت نے کبھی بھی ان کی نقل وحرکت پر پابندی نہیں لگائی۔ نیلوفر بختیار نے کہا کہ مختاراں مائی کے معاملے پر حکومت پر کوئی امریکی دباؤ نہیں ہے۔ وزیر اعظم کی مشیر مختاراں مائی کو درمیان میں ٹوکتی رہیں اور صحافیوں کو بھی کہتی رہیں کہ وہ مختاراں مائی سے ایسے سوالات نہ کریں جس سے وہ پریشان ہو جائیں۔ دریں اثنا بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ندیم سعید نے اطلاع دی ہے کہ منگل سے مختار مائی کا اپنے گھر والوں اور دوسرے لوگوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں اسلام آباد میں قائم ویمنز کرائسسز سنٹر کے ایک کمرے میں سخت حفاظتی حصار میں رکھا جا رہا ہے جہاں نہ تو کوئی ان سے مل سکتا ہے اور نہ ہی وہ اپنی مرضی سے باہر جا سکتی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم شوکت عزیز نے کرائسسز سنٹر میں عملی طور پر محصور مختار مائی سے ٹیلی فون پر رابطہ بھی کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق مختار مائی نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ انہیں ان کے وکیل سے ملایا جائے یا واپس ان کے گاؤں میروالہ جانے دیا جاۓ۔ لیکن ان پر واضح کیا گیا کہ امریکی سفارت خانے سے ان کے پاسپورٹ کی واپسی تک انہیں اسلام آباد سے واپس نہیں بھجوایا جا سکتا۔ تاہم وزیر اعظم نے مختار مائی کو یقین دلایا کہ اس دوران حکومت ان کی والدہ کا علاج کسی اچھے ہسپتال سے کرانے کا بندوبست کرے گی۔ وزیر اعظم نے انہیں بتایا کہ حکومت میر والہ میں ان کے نام پر مظلوم خواتین کی مدد کا ایک ادارہ بنانے جا رہی ہے۔ منگل کو مختار مائی کو اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے لے جایا گیا جہاں سے انہوں نے امریکی ویزے کے لیے جمع کروایا ہوا اپنا پاسپورٹ واپس لیا۔ سفارتخانے کے ایک ترجمان نے یہ تو نہیں بتایا کہ مختار مائی کو ویزہ جاری کیا گیا ہے یا نہیں، لیکن انہوں نے بتایا کہ امریکہ کو مختار مائی پر لگائی گئی سرکاری پابندیوں پر تشویش ہے اور یہ کہ پاکستانی حکومت کو بھی اس تشویش سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||