BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 June, 2005, 13:07 GMT 18:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختار مائی مقدمہ 27 جون سے شروع

مختار مائی مقدمے کے ملزم
مختار مائی مقدمے کے ملزموں کو ابھی تک رہا نہیں کیا گیا۔
پاکسان سپریم کورٹ میروالہ میں اجمتاعی زیادتی کے ملزموں کو بری کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل ستائیس جون سے شروع کرئے گی۔

سپریم کورٹ نے پیر کے روز مقدمے میں تمام فریقین اور ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی نے اس معاملے کا اس سال مارچ میں از خود نوٹس لیا تھا۔

اس مقدمے کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کا ایک تین رکنی بنچ بھی تشکیل یا گیا ہے جس میں جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس رانا بھگوان داس اور جسٹس سعید اشہد شامل ہیں۔

مختار مائی کے وکیل اعتزاز احسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں ستائیس جون کو سپریم کورٹ میں پیشی کے حوالے سے نوٹس موصول ہو گیا ہے۔

دو ہزار دو میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کے کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چھ ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی مگر لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے اس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس سال تین مارچ کو چھ میں سے پانچ ملزمان کو بری کرنے کا حکم سنایا تھا۔

مختار مائی نے اس فیصلے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

گیارہ مارچ کو ملک وفاقی شرعی عدالت نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا اور ملزمان کی سزائیں بحال کرتے ہوئے ان سات ملزمان کو بھی طلب کر لیا تھا جن کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بری کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو بھی معطل کر دیا تھا اور اس معاملے کی خود سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ کے اس معاملے کے از خود نوٹس لینے کے باوجود ملک بھر میں مختار مائی کا کیس زیر بحث رہا اور اس ماہ کی دس تاریخ کو لاہور ہائی کورٹ کے ریویو بنچ نے مختار مائی کے ملزمان کو تین ماہ کی نظر بندی کے بعد رہا کرنے کا حکم سنایا۔ اس فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی تھی۔ان ملزمان کو ابھی تک رہا نہیں کیا گیا ہے۔

اسی دوران مختار مائی نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے ان کو حفاظت کے نام پر گھر میں نظر بند کر دیا ہے اور ان کو اپنے گھر کے دروازے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

اس کے بعد حکومتی عہدیداروں نے یہ تسلیم کیا کہ مختار مائی کا نام ای سی ایل پر ڈال دیا گیا ہے اور ان کو امریکہ کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم کے دعوت نامے کے باوجود ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ملی۔

گزشتہ ہفتے وزیر اعظم شوکت عزیز کے حکم پر مختار مائی کا نام ای سی ایل سے تو نکال دیا گیا مگر خود مختار مائی کے مطابق ان کا پاسپورٹ حکومتی تحویل میں لے لیا گیا۔

اب مختار مائی کا کیس ملک کی سب سے بڑی عدالت میں سنا جائے گا۔ مختار مائی کا کہنا ہے کہ انھیں سپریم کورٹ سے بہت امیدیں ہیں کہ وہ ان کو انصاف دلائے گی۔

66امریکہ نہیں جا رہی
لیکن نقل و حمل پر پابندیاں جاری ہیں۔
66مائی کا جواب
مختاراں مائی: زنا بالجبر کا بدلہ لینے کے لیے سکول
66خواتین کا عالمی دن
مختاراں مائی کو سکول کیلیے 21 لاکھ کی امداد
66ریپ کیس کا فیصلہ
مختار مائی کیس کا تفصیلی فیصلہ آ گیا
66سرکاری دباؤ میں
حکومت ہراساں کر رہی ہے: مختاراں مائی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد