مختار: پاسپورٹ حکومتی قبضے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے تین سال قبل پنچائت کے فیصلے پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کا پاسپورٹ اپنے قبضے میں لینے کے بعد پولیس کی نگرانی میں انہیں ان کے گاؤں میروالہ روانہ کر دیا ہے۔ اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ مختار مائی پر حکومت کی طرف سے بیرون ملک سفر کرنے پر عائد پابندی ہٹا لی گئی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوۓ مختار مائی نے بتایا کہ انہیں بدھ کے روز اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے لے جایا گیا جہاں سے انہوں نے ویزے کے لئے جمع کرایا گیا اپنا پاسپورٹ حکام کے کہنے پر واپس لے لیا۔ مختار مائی نے بتایا کہ پاسپورٹ ان سے وزیر اعظم کی مشیر نیلوفر بختیار نے لے لیا ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ آئندہ جب بھی انہیں باہر جانے کی ضرورت پڑے تو وہ اپنا پاسپورٹ حکومت سے طلب کر سکتی ہیں۔ تاہم سرِ دست ان کا پاسپورٹ حکومت کی تحویل میں ہی رہے گا۔ مختار مائی کا کہنا تھا کہ امریکی سفارت خانہ ان کو ویزہ دینا چاہتا تھا لیکن انہوں نے درخواست کی کہ وہ ان کا پاسپورٹ واپس کر دے۔ امریکی سفارتی عملے نے ان کا پاسپورٹ واپس کرتے ہوۓ کہا کہ انہیں اس سے پہلے وزیر اعظم شوکت عزیز کی ہدایت پر مختار مائی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ مختار مائی پر عائد پابندی اٹھا لی گئی ہے۔ تاہم مختار مائی کے وکیل چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں مختاراں مائی سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ اعتزاز احسن نے بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ ان کو پتہ نہیں ہے کہ مختار مائی کہاں ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مختاراں مائی پر حکومت دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنا وکیل تبدیل کر لیں۔ تاہم وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے اعتزاز احسن کے جواب میں کہا ہے کہ ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ مختار مائی کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختار مائی نے سوموار کو ایک پریس کانفرنس بھی کی ہے جس کے بعد اس بارے میں تمام شبہات ختم ہو جانے چاہئیں۔ واضح رہے کہ مختار مائی نے منگل کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انہوں نے امریکہ جانے کے لیے جمع کرائی گئی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ میر والا میں ان کی نقل و حرکت پر پابندی بدستور قائم ہے اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنے سے ان پر دباؤ ہے۔
مختار مائی نے کہا تھا کہ ان کی حفاظت کے لیے پولیس تو تین برس سے موجود ہے مگر ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ان کو اپنا کام کرنے سے روکا جا رہا ہے اور ان کو گھر کے دروازے سے باہر نہیں نکلنے دیا جا رہا۔ مختار مائی نے کہا کہ ان کو حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی نظر بندی ختم کر دی جائے گی اور وہ کہیں بھی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک آزاد شہری ہیں اور وہ کہیں بھی جا سکتی ہیں۔ مختار مائی کو پیر کی شام میر والا سے پہلے لاہور اور پھر اسلام آباد لایا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت مختاراں مائی کے اوپر شدید دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ملک سے باہر نہ جائیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کو کل رات ان کے بھائی نے فون کر کے بتایا کہ ان کی والدہ کی طبیعت خراب ہے اور اس وجہ سے وہ امریکہ جانے کے لیے جمع کرائی گئی درخواست واپس لے رہی ہیں۔ مختاراں مائی نے کہا کہ وہ مستقبل میں امریکہ ضرور جائیں گی۔ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے سکول قائم کرنے کے لیے دی گئی مدد کے سوال کے جواب میں کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف پاکستان کے صدر ہیں اور اگر وہ ان کی مدد نہ کرتے تو کیا امریکہ والے ان کی مدد کرتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||