BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 June, 2005, 15:08 GMT 20:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختار: پاسپورٹ حکومتی قبضے میں

مختار مائی
مختار مائی مستقل پہرے میں ہیں
حکومت نے تین سال قبل پنچائت کے فیصلے پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کا پاسپورٹ اپنے قبضے میں لینے کے بعد پولیس کی نگرانی میں انہیں ان کے گاؤں میروالہ روانہ کر دیا ہے۔

اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ مختار مائی پر حکومت کی طرف سے بیرون ملک سفر کرنے پر عائد پابندی ہٹا لی گئی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوۓ مختار مائی نے بتایا کہ انہیں بدھ کے روز اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے لے جایا گیا جہاں سے انہوں نے ویزے کے لئے جمع کرایا گیا اپنا پاسپورٹ حکام کے کہنے پر واپس لے لیا۔

مختار مائی نے بتایا کہ پاسپورٹ ان سے وزیر اعظم کی مشیر نیلوفر بختیار نے لے لیا ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ آئندہ جب بھی انہیں باہر جانے کی ضرورت پڑے تو وہ اپنا پاسپورٹ حکومت سے طلب کر سکتی ہیں۔ تاہم سرِ دست ان کا پاسپورٹ حکومت کی تحویل میں ہی رہے گا۔

مختار مائی کا کہنا تھا کہ امریکی سفارت خانہ ان کو ویزہ دینا چاہتا تھا لیکن انہوں نے درخواست کی کہ وہ ان کا پاسپورٹ واپس کر دے۔ امریکی سفارتی عملے نے ان کا پاسپورٹ واپس کرتے ہوۓ کہا کہ انہیں

 ہمیں احساس ہے کے وہ کن مشکل حالات سے گزر رہی ہیں
امریکی سفارتی عملہ
احساس ہے کے وہ کن مشکل حالات سے گزر رہی ہیں۔
اس سے پہلے وزیر اعظم شوکت عزیز کی ہدایت پر مختار مائی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ مختار مائی پر عائد پابندی اٹھا لی گئی ہے۔

تاہم مختار مائی کے وکیل چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں مختاراں مائی سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔

اعتزاز احسن نے بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ ان کو پتہ نہیں ہے کہ مختار مائی کہاں ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مختاراں مائی پر حکومت دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنا وکیل تبدیل کر لیں۔

تاہم وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے اعتزاز احسن کے جواب میں کہا ہے کہ ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ مختار مائی کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختار مائی نے سوموار کو ایک پریس کانفرنس بھی کی ہے جس کے بعد اس بارے میں تمام شبہات ختم ہو جانے چاہئیں۔

واضح رہے کہ مختار مائی نے منگل کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انہوں نے امریکہ جانے کے لیے جمع کرائی گئی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ میر والا میں ان کی نقل و حرکت پر پابندی بدستور قائم ہے اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنے سے ان پر دباؤ ہے۔

News image
مختار مائی اپنے گاؤں میں لڑکیوں کا سکول قائم کرنا چاہتی ہیں

مختار مائی نے کہا تھا کہ ان کی حفاظت کے لیے پولیس تو تین برس سے موجود ہے مگر ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ان کو اپنا کام کرنے سے روکا جا رہا ہے اور ان کو گھر کے دروازے سے باہر نہیں نکلنے دیا جا رہا۔

مختار مائی نے کہا کہ ان کو حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی نظر بندی ختم کر دی جائے گی اور وہ کہیں بھی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک آزاد شہری ہیں اور وہ کہیں بھی جا سکتی ہیں۔

مختار مائی کو پیر کی شام میر والا سے پہلے لاہور اور پھر اسلام آباد لایا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت مختاراں مائی کے اوپر شدید دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ملک سے باہر نہ جائیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ان کو کل رات ان کے بھائی نے فون کر کے بتایا کہ ان کی والدہ کی طبیعت خراب ہے اور اس وجہ سے وہ امریکہ جانے کے لیے جمع کرائی گئی درخواست واپس لے رہی ہیں۔ مختاراں مائی نے کہا کہ وہ مستقبل میں امریکہ ضرور جائیں گی۔

انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے سکول قائم کرنے کے لیے دی گئی مدد کے سوال کے جواب میں کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف پاکستان کے صدر ہیں اور اگر وہ ان کی مدد نہ کرتے تو کیا امریکہ والے ان کی مدد کرتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد