ملتان: طیارے میں تکنیکی خرابی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد سے لاہور کے راستے ملتان پہنچنے والی پی آئی اے کی فلائیٹ 385-PK اتوار کے روز ایک بڑے حادثے سے اس وقت بال بال بچی جب ملتان ائر پورٹ پر اترتے وقت اس کے ہائیڈرولک نظام میں خرابی پیدا ہوگئی۔ سول ایوی ایشن کے مقامی حکام کے مطابق لینڈنگ سے پہلے جہاز کے کپتان نے کنٹرول روم کو فنی خرابی کے بارے آگاہ کردیا تھا اور اترتے ہوئے جہاز کی ہنگامی بریکوں کو استعمال میں لانا پڑا جس سےطیارے میں سوار ایک سو باون مسافروں کو شدید جھٹکے محسوس ہوئے۔ جہاز کو رن وے پر ہی روک لیا گیا اور مسافروں کو وہیں سے لاؤنج تک لایا گیا۔ عینی شاہدوں کے مطابق مسافر کافی خوفزدہ دکھائی دے رہے تھے۔ جہاز کو خرابی کے باعث ملتان ائیر پورٹ پر ہی کھڑا کردیا گیا ہے اور حکام کے مطابق اسے ٹھیک کرنے میں ایک سے دو دن لگ سکتے ہیں۔ اس واقعہ کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ تین برس قبل پنچایت کے حکم پر مظفرگڑھ کے گاؤں میر والہ میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی نے اسی طیارے کی واپسی فلائٹ سے اسلام آباد جانا تھا لیکن پرواز ملتوی ہونے کی وجہ سے انہیں اب سڑک کے راستے وفاقی دارالحکومت لے جایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان ستائیس جون یعنی پیر کے روزلاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ کی طرف سے میروالہ اجتماعی جنسی زیادتی کیس میں ملوث ملزموں کی رہائی کے فیصلے کے خلاف مختار مائی کی اپیل سننے جارہی ہے۔ سپریم کورٹ کی پیشی پر آنے کے لیے حکومت نے مختار مائی اور ان کی قریبی ساتھی نسیم غزلانی کے لیے ہوائی سفر کا انتظام کیا تھا۔ شروع میں مختار مائی نے حکومتی سہولت لینے سے یہ کہا کر انکار کیا کہ ایک طرف حکمران مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والی ارکان پارلیمنٹ آئے دن ان پر بیرونی ذرائع سے کروڑوں روپے بٹورنے کا الزام لگاتی ہیں اور دوسری طرف انہیں جہاز پر سفر کے لیے کہا جارہا ہے۔ لیکن بقول مختار مائی کے کہ وزیر اعظم کی مشیر نیلوفر بختیار اور ڈیرہ غازی خان کے ڈی آئی جی پولیس ہمایوں رضا شفیع نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے سڑک کے راستے جانے سے حکومت کے ان سکیورٹی پر زیادہ اخراجات آتے ہیں۔ ائیر پورٹ پر صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے مختار مائی نےکہا کہ وہ اب ایک آزاد شہری نہیں ہیں اور وہ اپنی مرضی سے نہ تو کہیں آسکتی ہیں اور نہ ہی یہ فیصلہ کر سکتی ہیں کہ وہ سفر کے لیے کونسا ذریعہ استمعال کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||