BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 July, 2005, 06:38 GMT 11:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹر شازیہ کا ٹیلی فون سے خطاب

News image
ڈاکٹر شازیہ کو مبینہ طور پر سوئی میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا
اپنے ساتھ ہونیوالی جنسی زیادتی کا احوال سناتے ہوئے وہ رو رہی تھی تو اسکے ساتھ وہاں موجود بہت سے مرد اور عورتیں بھی رونے لگے۔

یہ سال رواں کے ماہ جنوری میں بلوچستان کے علاقے سوئی میں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا شکار ہونیوالی ڈاکٹر شازیہ کا پہلا خطاب تھا جو وہ سنیچر کے روز ہیوسٹن (ٹیکساس) میں غیر سرکاری تنظیم ایشین امریکن نیٹ ورک اگینسٹ ابیوز آف ویمن کی طرف سے مختار مائي پر منعقدہ اجلاس سے ٹیلیفون پر براہ راست لندن سے خطاب کر رہی تھیں۔

آنا کا یہی وہ اجلاس تھا جسکے لیے پاکستان سے تین سال قبل اجتماعی جنسی زیادتی کا شکار ہونیوالی مختار مائی کو دعوت دی گئی تھی، لیکن وہ شرکت نہیں کرسکیں۔ اس کی وجہ مبینہ طور پر انکے بیرون ملک نقل و حرکت پر پاکستانی حکومت کی طرف سے پابندی بتائی گئی تھی اور اس پر حالیہ دنوں بین الاقوامی احتجاج اور رد عمل بھی ہوا۔

ڈاکٹر شازیہ خالد نے جو اپنے خاوند سمیت برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں کہا کہ انہیں پاکستان میں حکومت کی طرف سے کوئی انصاف نہیں ملا بلکہ انہیں، انکے خاوند سمیت زبردستی ملک سے باہر روانہ کیا گیا-

یہ پہلا موقع تھا کہ ڈاکٹر شازیہ اپنے ساتھ ہونیوالی جنسی زیادتی کے واقعہ اور اسکے بعد اپنی بپتا سنا رہی تھیں۔ وہ اپنے خطاب کے دوران روتی رہیں اور انھوں نے کہا کہ انکے ساتھ زیادتی کرنے والا بہت دیر تک انکے گھر میں موجود رہا اور وہ اپنے ساتھ ہونیوالی زیادتی سے لیکر آج تک خوف اور دھمکیوں کے سائے میں زندگی بسر کررہی ہیں۔

 اپنے ساتھ ہونیوالی جنسی زیادتی کا احوال سناتے ہوئے وہ رو رہی تھی تو اسکے ساتھ وہاں موجود بہت سے مرد اور عورتیں بھی رونے لگے
ڈاکٹر شازیہ خالد
’حکومت نے مجھے انصاف دلانے کے بجائے دھکے دیکر ملک سے نکال دیا اور ہم اب دربدری کی زندگی گزار رہے ہیں‘، ڈاکٹر شازیہ کے روتے ھوئے اپنی بپتا بتانے پر آنا کے اجلاس میں موجود بہت سے مرد اور عورتیں بھی رونے لگیں۔

یہ بات بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو آنا کی صدر ڈاکٹر آمنہ بٹر سمیت ہیوسٹن کے اجلاس میں سے کچھ اور شرکا نے ٹیلیفون پر بتائی۔

البتہ لندن سے ٹیلیفون پر اپنے براہ راست خطاب میں ڈاکٹر شازیہ نے اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزم کی شناخت کے بارے میں مکمل لا علمی ظاہر کی۔

امریکی کانگریس میں پاکستان پر کاکس کی رکن شیلا جیکسن نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ اور انکے دیگر ساتھی اراکین کانگریس، انسانی حقوق کے لیے لڑنے والے لوگ اور امریکی عوام پاکستانی حکومت کا عورتوں اور انکے حقوق کی طرف یہ رویہ ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے حکومت پاکستان کو اسکے مختار مائی کے ساتھ مبینہ رویے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ شیلا جیکسن نے آنا کی صدر ڈاکٹر آمنہ بٹر کو اپنی تقریر کے دوران بلا کر انکا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان میں اپنے حقوق کےلیے لڑنے والی تمام بہنوں کےساتھ ہوں۔

ڈاکٹر آمنہ بٹر نے رکنِ کانگریس شیلا جیکسن کو پچھلے دنوں مختار مائی کے ساتھ انصاف کے حصول میں حائل رکاوٹوں اور پاکستانی حکومت کی طرف سے ان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی پر خط لکھا تھا۔

ڈاکٹر آمنہ بٹر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہوں نے پاکستان سے مختار مائی کے ٹیلیفون پر براہ راست خطاب کےلیے کوششیں کیں لیکن لائن کی خرابی کی وجہ سے ان تک رسائی حاصل نہیں ہوسکی۔

 اگر مختار مائی پر پابندی ہوتی تو وہ دنیا بھر کے ذرا‏‏ئع ابلاغ سے بات کس طرح کر رہی ہوتی
نیلوفر بختیار
مختارمائي پرمحمد نقوی کی بنائی ہوئی دستاویزی فلم ’شیم‘ اجتماع کے چار سو شرکاء کو دکھائی گئی۔ ان میں امریکہ کی بہت سی ریاستوں سے آنے والوں افراد کے علاوہ کچھ لوگ برطانیہ سے بھی آئے ہوئے تھے۔

پاکستانی حکومت کی خواتین کے امور پر مشیر نیلوفر بختیار نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور اس سے خطاب بھی کیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی حکومت عورتوں کے حقوق پر بہت سے کام سرانجام دے رہی ہے اور عورتوں کے ساتھ تشدد میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ حکومت نے مختار مائي پر کسی بھی قسم کی پابندی لگا رکھی رہے۔

’اگر اُن پر پابندی ہوتی تو وہ دنیا بھر کے ذرا‏‏ئع ابلاغ سے بات کس طرح کر رہی ہوتی۔‘

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں عورتیں جنسی زیادتی کا شکار ہو رہی ہیں اور آنا تمام عورتوں کےلیے آواز کیوں نہیں اٹھاتی؟

اُن کے اس سوال پر آمنہ بٹر نے کہا کہ دنیا کے بہت سے ممالک اور پاکستان میں فرق یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت عورتوں کو انصاف نہیں مہیا کرتی بلکہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔

نیلوفر بختیار نے کہا کہ ڈاکٹر شازیہ خالد اپنی مرضی سے ملک سے باہر چلی گئی تھی۔

آنا کے اجلاس میں موجود پاکستانی نژاد ڈاکٹر محمد رضاخان نے جو بہت عرصے سے امریکہ میں پریکٹس کر رہے ہیں نیلوفر بختیار سے کہا کہ پاکستان میں عورتوں سمیت تمام طبقوں کے حالات کی بہتری کی انہوں نے ایسی تصویر کھینچی ہے کہ اُن کا دل چاہتا ہے کہ اپنی امریکہ میں پریکٹس اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان واپس چلے جائيں۔

پھر ڈاکٹر رضا نے کہا کہ امریکی حکومت بھی کہتی ہے کہ وہ گوانتانامو میں قیدیوں کیساتھ بہت بہتر سلوک کررہی ہے۔

شرکا میں سے بہت سے لوگ نیلوفر بختیار کی تقریر سے اٹھنے والے سوالات اُن سے پوچھنے کےلیے قطار میں کھڑے ہوگئے۔ لیکن اجلاس میں تاخیر سے اور بظاہر عجلت میں آنیوالی نیلوفر بختیار جواب دینے کے بجائے یہ کہہ کر اجلاس سے جلدی چلی گئیں کہ انہیں پرواز پکڑنی ہے۔

نیلوفر بختیار کی شرکت پر آنا کی صدر آمنہ بٹر نے ایک سوال کے جواب میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ آنا نے پاکستانی حکومت کی مشیر نیلوفر بختیار کو اجلاس میں شرکت کرنے کی دعوت عورتوں کے حقوق اور مختار مائی کے معاملے پر حکومتی مؤقف سننے کے لیے دی تھی۔

اجلاس سے پاکستان سے آئے ہوئے ممتاز قانون دان عابد حسین منٹو نے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ مختار مائی کی بیرون ملک اپنی بپتا سنانے سے پاکستان کی بدنامی نہیں ہوتی۔

پاکستان کے ایک سابق پولیس آفیسر حسن عباس نے عورتوں کے ساتھ انصاف میں حائل رکاوٹوں کے سلسلے میں پاکستان میں پولیس کے ناقص نظام پر خطاب کیا جبکہ ایک اور مقرر خالد صدیقی نےا سلام اور عورتوں کے حقوق پر بات کی۔

66دوسرا راستہ نہیں تھا
ڈاکٹر شازیہ برطانیہ میں بھی ڈری ڈری ہیں۔
66بلوچستان باغی کیوں؟
ستاون برس میں پانچ بغاوتیں: خصوصی ضمیمہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد