کاری رات اندھاری آہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دیہی علاقوں میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کی فریاد’ کاری کا گیت‘ ریلیز کیا گیا ہے۔ کراچی میں برٹش کونسل کی جانب سے نام نہاد غیرت کے نام پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے اختتام کے روز ’کاری جو گیت‘ ریلیز کیا گیا۔ اس بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ دولت مشترکہ، بھارت، بنگلادیش، ترکی اور انگلینڈ سے مندوبین نے شرکت کی۔ ’ کاری جو گیت‘ کو سندھ کی لوک گلوکارہ مائی ہنجو نے تھری طرز میں گایا ہے جبکہ بول حسن مجتبیٰ نے لکھے ہیں۔ اس گیت کی موسیقی مصدق سانول نے ترتیب دی ہے جبکہ اس گیت کی ہدایات مٹیلاہاؤس کے فرجاد نبی اور ان کے ساتھیوں نے دی ہیں۔ اس میوزک ویڈیو کے پروڈیوسر خالد احمد ہیں۔ ’کاری جوگیت‘ میں ایک لڑکی کو مدد کے لیے پکارتا ہوا دکھایا گیا ہے جو اپنی مجبور ماں اور سخت دل باپ، بھائی اور شوہر سے فریاد کرتی ہے۔ مائی ہنجو نے اس گیت کو خوبصورتی سےگایا ہے۔ گیت کی شروعات صوفی شاعر شاہ عبدالطیف کی شاعری لڈی ویا چھڈی ویا (چلے گئے مجھ چھوڑ گئے ) سے کی گئی ہے۔ کاری رات اندھاری آہے گیت میں شہر کے لوگوں اور میڈیا کو اپنے کام میں مصروف دکھایا گیا ہے جبکہ لڑکی کو کاری قرار دیکر قتل کیا جارہا ہے۔ تھیٹر کی طرز پر بنائے گئے اس گیت میں کہانی بھی ہے موسیقی بھی، سبق بھی ہے تو ہمارے ارگرد موجود ماحول کی عکاسی بھی۔ میوزک ویڈیو کے پروڈیوسر خالد احمد نے بتایا کہ غیرت کے نام قتل پر ان کی مہم تین حصوں پر مشتمل ہے جس میں ایک دستاویزی فلم، ایک گیت اور ایک ڈرامہ سیریل شامل ہے۔ اس میں سے گیت اور دستاویزی فلم تو ریلیز کیے گئے ہیں جبکہ ڈرامہ سیریل تیاری کے مراحل میں ہے۔ یہ ڈرامہ سیریل سات اقساط پر مشتمل ہوگی جس میں حقیقی کیس پیش کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ سندھ میں کارو کاری کے خلاف یہ دوسرا گیت بنایا گیا ہے جس میں ایک لوک گلوگارہ نے اسے گایا تھا۔ اس سے قبل بھی ایک لوک گلوکارہ زرینہ بلوچ نے سندھی میں ایک ایسا گیت ’اماں ہو موں کی کاری کرے ماریندا‘ (ماں وہ مجھ کاری کر قرار دیکر مار دیں گے) گایا تھا۔ ایک بڑے عرصے کے بعد یہ عمل کے خلاف یہ دوسری کوشش ہے۔ |
بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||