’ونی‘ کا ایک اور شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضِلع خانیوال کی تحصیل جہانیاں میں ’ونی‘ کی رسم کے تحت ایک کمسن بچی کا رشتہ ایک بالغ شخص کو دینے کا واقعہ منظرِعام پر آیا ہے ۔ ’ونی‘ تاوان میں رشتہ دینے کی ایک رسم ہے جس میں مُبینہ قصور وار فرد کے اہل خانہ اس کے فعل کی تلافی کے لیے دوسرے فریق کو اپنی ایک یا ایک سے زیادہ خواتین کا رشتہ دے دیتے ہیں ۔ جہانیاں میں رونما ہونے والے اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق محلہ جلال آباد میں رہائش پذیر فیض بخش کے بیٹے کا اپنے ہمسائے خادم حسین کی بیٹی کے ساتھ مُبینہ طور پر تعلق تھا ۔ لیکن خادم حُسین اپنی بیٹی کا رشتہ کہیں اور کرنا چاہتا تھا ۔ سترہ نومبر دو ہزار چار کولڑکا اور لڑکی فرار ہوگۓ اور تاحال روپوش ہیں ۔ لڑکی کے والد خادم حسین نے تھانہ جہانیاں میں لڑکے ،اِس کے والد ، والدہ ، بھابھی ، چچا اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرا دیا ۔ پولیس نے فیض بخش پر اس کے بیٹے کی گرفتاری اور لڑکی کی برآمدگی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا جبکہ دوسری طرف مدعی خادم حسین نے علاقہ کے بااثر لوگوں کی مدد سے ایک پنچایت بُلا لی ۔ سر پنچ محمد شفیع کی سربراہی میں بیٹھنے والی پنچایت نےمُبینہ ملزم کے دادا کی موجودگی میں فیصلہ دیا کہ اگر چھبیس نومبر تک لڑکی کی برآمدگی عمل میں نہیں آتی تو ملزم کی چھ سالہ بہن کا نکاح مدعی کے اٹھارہ سالہ بیٹے کے ساتھ کر دیا جاۓ گا ۔ پنچایت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی طے کیا کہ اس نکاح کی صورت میں مدعی خادم حسین تھانہ جہانیاں میں درج کراۓ گۓ اغوا کے مقدمہ سے دستبردار ہو جاۓ گا ۔پنچایت کے فیصلے کو باقاعدہ قانونی شکل دینے کے لیۓ اِسے سو روپے کے اسٹامپ پیپر پر تحریر کیا گیا اور پنچایت کے تمام ارکان اور دوسرےگواہان کے دستخط بھی کراۓ گئے ۔ چھبیس نومبر تک جب لڑکی کی برآمدگی عمل میں نہ آئی تو معاہدے کی ُرو سے مدعی فریق نے نکاح کے لۓ دباؤ ڈالنا شروع کیا ہوا ہے جبکہ دوسرا فریق مزید مہلت مانگ رہا ہے ۔ ونی کی روایت دو برس قبل ملک بھر میں اُس وقت شدید تنقید کا نشانہ بنی تھی جب میانوالی میں ایک خاندان نے مقدمہ قتل میں ملوث اپنے چار افراد کو سزاۓ موت سے بچانے کی لیۓ مدعی فریق کے عمر رسیدہ افراد کے نکاح میں کمسِن بچیاں دینے کا معاہدہ کیا تھا ۔ اس واقعہ کے بعد حکومت نے رائج قوانین کو سخت کرتے ہوۓ ونی کی روایت پر عمل کرنے والے افراد کو دس سال قید کی سزا دینے کا اعلان کیا تھا ۔ تاہم اس کے باوجود پنچایتوں کے ذریعے ہونے والے فیصلوں میں خاطر خواہ کمی واقعہ نہیں ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||