انکوائری، پولیس افسر برطرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے وزیرِاعلٰی چودھری پرویز الہٰی نے سونیا ناز سے مبینہ زیادتی میں ملوث پنجاب پولیس کے ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس خالد عبداللہ کو معطل کرکے انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ وزیرِاعلٰی نےجوڈیشل انکوائری کی رپورٹ آنے کے بعد فیصل آباد کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس چودھری سجاد احمد کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ سونیا ناز نےالزام عائد کیا تھا کہ انہیں فیصل آباد کے پولیس اہلکاروں نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے جس پر حکومت نے ایک جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا تھا۔ اگرچہ سونیا ناز نے اس تحقیقات میں شرکت سے انکار کردیا تھا اور اس وقت کا ضیاع بھی قرار دیا تھا لیکن حکومت پنجاب کے ترجمان کے مطابق وزیرِاعلٰی نے اسی جوڈیشل انکوائری کی روشنی میں مذکورہ احکامات جاری کیے۔ پیر کو وزیر اعلی نے پنجاب پولیس اور صوبے کے اعلی انتظامی افسروں کا ایک اجلاس بھی طلب کیا۔ پرویز الہٰی نے سنیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (تفتیش) فیصل آباد کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی ہدایات بھی جاری کیں لیکن پیر کی شام تک لاہور کے تھانہ ستوکتلہ میں مقدمہ درج نہیں ہوا تھا۔ ایس ایچ اور تھانہ ستوکتلہ کا کہنا ہے کہ سونیا ناز کی درخواست تو ان کے پاس موجود ہے لیکن وہ مقدمہ کے اندارج کے لیے حکام کی ہدایات پہنچنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ سونیا ناز قریباً دو مہینے قبل اپنے گرفتار شوہر کے سلسلے میں پولیس کے خلاف شکایت لیکر قومی اسمبلی کے اندر جا پہنچی تھیں لیکن سپیکر قومی اسمبلی نے انہیں پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ سونیا ناز کا کہنا ہے کہ ایک ماہ کی قید کے بعد وہ رہا ہوئیں تو پولیس افسران نے مبینہ طور پر ان سے زیادتی کی جو ان کے بقول انہیں شکایت کرنے کی سزا دینا چاہتے تھے۔ سونیا کے شوہر کے خلاف فیصل آباد پولیس نے چوری شدہ گاڑیوں کی جعلی رجسڑیشن کرانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے اور پولیس کے بقول وہ مفرور ہیں۔ وزیرِاعلٰی پنجاب نے جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ کی روشنی میں چوری شدہ گاڑیوں کے جعلی کاغذات تیار کرنے کے معاملات کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا ہےتاہم یہ تحقیقات وزیرِاعلٰی معائنہ ٹیم خود کرے گی۔ واضح رہے کہ ایس ایس پی(تفتیش) خالد عبداللہ کو پہلے سے ہی ان کے عہدے سے معطل کیا جا چکا ہے جبکہ ایک انسپکٹر جمشید چشتی کو پولیس نے اپنی حراست میں لے رکھا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||