BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 September, 2006, 13:33 GMT 18:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جے یو آئی (ف) خواتین کا مطالبہ

قاضی حسین احمد، فضل الرحمن
ایم ایم اے کے اراکان اسمبلی نے حددود قوانین میں ترامیمی بل پر سخت احتجاج کیا۔
جمعیت علماء اسلام (ف) خواتین ونگ نے تحفظ خواتین بل میں مجوزہ ترامیم کومغربی ایجنڈا قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حکومت واقعی خواتین کے مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو ترامیم کی بجائے ان قوانین پر عمل درآمد میں حائل روکاوٹوں کو دور کرے۔

پیر کے روز پشاور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعت علماء اسلام (ف) خواتین ونگ کے کنوینر اور خاتون رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی نے کہا کہ حدود آرڈنینس میں حدود اللہ بیان کی گئی ہیں جن کو بدلنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حدود قوانین کے نفاذ میں چند چیزوں کا خیال نہیں رکھا گیا جس کی وجہ سے خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم بقول ان کے یہ بات ان قوانین میں تبدیلی یا منسوخی کا جواز نہیں بن سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ تحفظ خواتین بل میں حدود اللہ اور تعزیرات کو علیحدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے حالانکہ یہ دونوں جڑواں ہیں اور ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔

شاہدہ اختر علی کے مطابق حد اور تعزیر کو الگ کرنے سے دونوں پر عمل ممکن نہیں ہو سکے گا اور دونوں الگ الگ قانون بن جائیں گے اور بقول ان کے اس سے معاشرے میں ایک سنگین جرم کی سزا کا خوف جاتا رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حدود قوانین میں زنا بالجبر کے شق کو تبدیل کرنے کے لیئے سارے قانون کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا ہے اور حکومت یہ سب کچھ مغرب اور این جی اوز کے ایجنڈے پر کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ بل میں زنا بالرضا کو حدود آرڈنینس کی دفعہ دس کے تحت حذف کیا گیا ہے یعنی اس کی سزا بالکل ختم کردی گئی ہے جب کہ زنا بالجبر کی سزا جو پہلے سنگسار تھی اس میں بھی تخفیف کرکے اب یہ سزا عمر قید یا کم ازکم دس سال کردی گئی ہے۔

شاہدہ اختر نے بتایا کہ اگر حکومت واقعی خواتین کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے خواتین کو درپیش غربت ، تعلیم ، صحت اور عدم تحفظ کے مسائل پر توجہ دی جانی چاہیئے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بل کو فوری طورپر واپس لیا جائے اورایسے قوانین سے اجتناب کیا جائے جو شعائر اسلام کے منافی ہوں۔

اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال داودزئی، جمعیت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکرٹری عبدالجلیل جان اور جے یو آئی (ف) کی خواتین رکن قومی و صوبائی اسمبلی بھی موجود تھیں۔

حدود قوانین ترمیم
حکومت حددو قوانین میں ترمیم کے لیے راضی
اسلامی یا غیراسلامی
حدود قوانین پر نظریاتی کونسل کا اجلاس
اسی بارے میں
حدود قوانین پر فیصلہ مؤخر
28 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد