BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 September, 2006, 16:55 GMT 21:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود بل، کارروائی جمعرات کو

زنا بالجبر کا شکار ہونے والی ایک خاتون
حدود قوانین پر سیاسی جماعتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے
پاکستان حکومت نے پیر کی شام گئے قومی اسمبلی کے ایوان میں خواتین کو تحفظ دینے کے متعلق حدود قوانین میں ترامیم کے بل کے بارے میں ایوان کی خصوصی کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی ہے جس پر سپیکر نے مزید کارروائی جمعرات کے روز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایوان میں موجود مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل اور مسلم لیگ نواز کے اراکین نے ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے اُسے خلاف اسلام قرار دیا اور نعرہ بازی کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔

حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین ایوان میں بیٹھے رہے اور ترمیمی بل کی حمایت کی۔ تاہم اس جماعت کی رکن شیری رحمٰن نے کمیٹی کی رپورٹ میں اپنا اختلافی نوٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت حدود قوانین کی تنسیخ کی حامی ہے۔

شیری رحمٰٰن نے اپنے تحفظات میں لکھا ہے کہ چار مسلمان مردوں کی گواہی کی شق اب بھی موجود ہے اور زنا بالجبر کی صورت میں کسی اقلیتی شہری یا خاتون کی گواہی کو مسلمان مرد کے برابر تسلیم نہیں کیا گیا اور یہ امر آئین کی شق پچیس کے خلاف ہے۔

سابق فوجی صدر ضیاالحق کے دور میں پاکستان میں اسلامی قوانین نافذ کرنے کے نام پر حدود قوانین متعارف کرائے گئے تھے۔ جس میں زنا اور زنا باالجبر میں ایک ہی سزا رکھی گئی تھی۔

گزشتہ پچیس برس سے نافذ ان قوانین کے تحت اگر کوئی خاتون جنسی تشدد کی شکایت لے کر تھانے جاتی تو قانون کے مطابق اُسے کہا جاتا تھا کہ وہ چار نیک مسلمان مرد گواہ پیش کرے اور بصورت دیگر اُسے زنا بالرضا کے الزام میں قید کر لیا جاتا۔

انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں سینکڑوں ایسی خواتین جن پر جنسی تشدد ہوا وہ جیلوں میں گئیں۔ ان کے مطابق ایسے قانون کی صورت میں بیشتر خواتین پولیس میں رپورٹ نہیں درج کراتیں اور نتیجے میں ملزمان کو سزا بھی نہیں ہوتی۔

سابق فوجی صدر کے نافذ کردہ اس اسلامی قانون کو موجودہ فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے خلاف اسلام اور آئین قرار دیتے ہوئے اس میں بعض علما کی مشاورت سے ترامیم کی ہیں۔

مجوزہ قانون کے تحت اب سولہ سال یا اس سے کم عمر کی لڑکی پر جنسی تشدد زنا بالجبر تصور ہوگا۔ جبکہ اس سے بڑی عمر کی خواتین کے ساتھ زنا بالجبر کی صورت میں ملزمان کو اسلامی قانون یعنی حد کے تحت نہیں بلکہ ضابطہ فوجداری یعنی تعذیر کے تحت سزا ہوگی۔

متحدہ مجلس عمل کی جانب سے ڈاکٹر نورالحق نے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ترامیم اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں اور اس سے ملک میں عریانی پھیلے گی۔

واضح رہے کہ حکومت نے جب یہ بل ایوان میں پیش کیا تھا تو پیپلز پارٹی کی تجویز پر ایوان کی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں تمام جماعتوں کو نمائندگی حاصل تھی۔ مجلس عمل والوں نے اپنا تحریری اختلافی موقف پیش کیا اور پیپلز پارٹی نے بل کی تحفظات ظاہر کرتے ہوئے حمایت کی۔

پیر کے روز جب رپورٹ پیش ہوئی تو متحدہ مجلس عمل کے اراکین اور مسلم لیگ نواز کی تہمینہ دولتانہ نے ’فوجی آمریت کا بل نا منظور‘، ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے اور واک آؤٹ کیا۔

اسلامی یا غیراسلامی
حدود قوانین پر نظریاتی کونسل کا اجلاس
شیری رحمانحقوق نسوان بل
حقوق نسواں پر پیپلز پارٹی نے بل جمع کرائے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد