پی پی کا بائیکاٹ، اعجاز الحق تبدیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں نافذ متنازعہ حدود قوانین میں ترامیم کے بل پر غور کے لیے پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کا پہلا اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہوا جس کا حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے بائیکاٹ کیا ہے۔ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے تو پہلے ہی بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا لیکن اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی ’اے آر ڈی، کے اراکین نے اجلاس میں کچھ دیر شرکت کے بعد اس کا بائیکاٹ کیا۔ حکومت نے پیپلز پارٹی کی تجویز پر ایوان کی پچیس رکنی خصوصی کمیٹی بنائی تھی جس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے چار چاراراکین کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی کا چیئرمین حکومت نے مذہبی امور کے وزیر اعجاز الحق کو نامزد کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے بائیکاٹ کے بعد حکومت نے اعجاز الحق کو کمیٹی کی سربراہی سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ سردار نصر اللہ دریشک کو کمیٹی کا نیا چیرمین مقرر کیا ہے۔ پیلز پارٹی ایم این اے شیری رہنما نے اعجاز الحق کو ہٹائے جانے کے بعد کہا کہ پیپلز پارٹی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں شریک ہو گی۔ جمعرات کے روز جب اجلاس شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس کا بائیکاٹ کر دیا۔ بائیکاٹ کے بعد راجہ پرویز اشرف اور شیری رحمٰن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اعجاز الحق کی چیئرمین شپ پر اعتراض ہے۔ ان کے بقول حدود قوانین فوجی آمر ضیاءالحق نے اسلام کے نام پر نافذ کیے اور جب آج ایک فوجی حکمران انہیں غیر اسلامی قرار دے کر ان میں ترمیم کر رہا ہے تو کمیٹی کا سربراہ اسی آمر کے بیٹے کو بنایا گیا ہے۔ راجہ پرویز اشرف اور شیری رحمٰن نے بتایا کہ اجلاس میں انہیں کہا گیا کہ صرف دو دو منٹ بات کریں جبکہ خصوصی کمیٹی بنانے کا مقصد ہی بل پر تفصیلی بحث کرنا تھا تاکہ شق وار غور کیا جاسکے۔ راجہ پرویز اشرف کے مطابق جب تک اعجاز الحق کو کمیٹی کی سربراہی سے نہیں ہٹایا جائے گا اس وقت تک وہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔ ادھر پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی والے خود کمیٹی بنوا کر اب بہانے بنا رہے ہیں۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بائیکاٹ دراصل عدم اعتماد کی تحریک کی وجہ سے مجلس عمل کی خاطر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی کے چیئرمین کی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق کمیٹی کے کسی بھی اجلاس کو چلانے کے لیے سات اراکین درکار ہوں گے اور حکومت اپنا کام مکمل کرے گی۔ کمیٹی کا آئندہ اجلاس پیر کے روز ہوگا۔ |
اسی بارے میں حدود قوانین کے ترمیمی بل پرہنگامہ22 August, 2006 | پاکستان حدود آرڈیننس کے حق میں مظاہرہ28 July, 2006 | پاکستان حدود آرڈینینس کی شکار خواتین20 April, 2006 | پاکستان حدود قوانین منسوخ کرنے کا مطالبہ07 February, 2006 | پاکستان ’حدود قوانین میں ترمیم ہو گی‘25 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||