6 ماہ میں حدود کےتحت 278 کیس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ چھ ماہ میں حدود آرڈیننس کے دو سو اٹھہتر واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں اڑسٹھ خواتین، دو سو آٹھ مرد اور ایک بچہ گرفتار ہوئے ہیں۔ غیر سرکاری تنظیم مددگار نے جو وکلا برائے انسانی حقوق اور یونیسیف کے تعاون سے کام کرتی ہے کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال دوہزار چھ کے پہلے مہینے میں پینسٹھ، فروری میں چھتیس،مارچ میں اپریل میں چھتیس،مئی میں بیاسی اور جون میں سولہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اخبارات میں شائع ہونے والے واقعات کےجمع کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق دو سو بیس متنازعہ زنا آرڈیننس، ترپن فریب، اور ایک ہتک عزت کا واقعہ رپورٹ کیا گیا۔ حدود آرڈیننس کے واقعات میں سے دو آسلام آباد میں، تیرہ حیدرآباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ، اٹھارہ لاہور، اٹھائیس سرگودھا، چوّن نوابشاہ، تریسٹھ کراچی جبکہ تراسی ملک کے دیگر چھوٹے علاقوں میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ مددگار کی رپورٹ کے مطابق دو سو پینسٹھ کی ایف آئی آر درج ہوئی ہے، جس کے تحت بارہ مقدمات سرحد، ایک سو اکیس پنجاب اور ایک سو التالیس سندھ میں درج کی گئی ہیں۔ دو سو ستر حدود کے مقدمات میں چالیس مرد اور خواتین شادہ شدہ، دو خواتین اور ایک طلاق یافتہ مرد ، دو خواتین اور دو مرد غیر شادی شدہ ہیں جبکہ تین سو بتیس کی سماجی حیثیت کا علم نہیں ہے۔ وکلا برائے انسانی حقوق کے صدر ضیا اعوان نے کہا کہ کئی خواتین امتیازی قوانین کے تحت جیلوں میں قید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وقت ہے کہ ملک سے حدود آرڈیننس سمیت تمام امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف نے حدود آرڈیننس سمیت تمام چھوٹے مقدمات کو ایک حکم نامے کے ذریعے قابل ضمانت بنادیا ہے جس کے بعد پورے ملک کی جیلوں سے خواتین کی ایک بڑی تعداد کو رہائی ملی ہے جبکہ مذہبی جماعتوں کے سخت رد عمل کے بعد صدر مشرف نے کہا ہے کہ حدود آرڈیننس کو منسوخ نہیں بلکہ اس میں ترمیم کی جائیگی۔ صدر مشرف کے جاری کردہ آرڈیننس کی معیاد چار ماہ ہے جس کے بعد پارلیمینٹ کو قانون سازی کرنی ہے۔ | اسی بارے میں حدود مقدمات کی تفصیلات طلب09 July, 2006 | پاکستان قید خواتین، کراچی میں رہائی شروع13 July, 2006 | پاکستان حدود قوانین پر فیصلہ مؤخر28 March, 2006 | پاکستان حدود قوانین منسوخ کرنے کا مطالبہ07 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||