قید خواتین، کراچی میں رہائی شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف کے حالیہ حکم کے بعد کراچی میں خواتین کے جیل سے جمعرات کو دس خواتین کو رہا کیا گیا۔ صدر مشرف کی جانب سے حدود اور دیگر چھوٹے مقدمات میں گرفتار خواتین کے لیئے قابل ضمانت کرنے کے حکم نامے سے کراچی جیل میں قید پچھہتر خواتین کو فائدہ پہنچے گا۔ آزاد ہونے والی خواتین میں زینب بابر علی بھی شامل ہے جس کو شوہر سمیت دھوکے بازی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، نئے قانون کے بعد اس کی تو ضمانت ہوگئی مگر اس کا شوہر ابھی تک لانڈھی جیل میں قید ہے۔ زینب علی کا ایک تین چار ماہ کا بچہ ہے اس کا کہنا ہے کہ وہ آزاد ہونے کے بعد سب سے پہلے اپنے شوہر کی رہائی کا بندوبست کریگی مگر وہ یہ سوچ کر پریشان ہے کہ وہ یہ سب کیسے کریگی۔ اس جیل میں فوزیہ جاوید بھی دس ماہ سے قید ہیں جسے اپنی ہی بہن کے اغواء کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ کہتی ہے کہ اس فیصلے سے ہمیں نہیں تو اور عورتوں کو تو فائدہ پہنچے گا کیونکہ جیل میں رہنا بہت برا ہے۔ معاشرے میں اور گھر والوں کی طرف سے بھی بےعزتی ہے۔ فوزیہ کے شوہر ڈرائیور ہیں وہ کہتی ہے کہ ہارے پاس اتنے پیسے ہی نہیں ہیں کہ ضمانت کرا سکیں۔ ان کے چار سےگیارہ سال تک کے چار بچے ہیں جو رشتہ داروں کے گھر پر ہیں۔
آزاد ہونے کا خواب ننھی عائشہ کی آنکھوں میں بھی ہے جو والدہ کے ساتھ سزا کاٹ رہی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ میں صبح جلدی اٹھ جاتی ہوں پھر منھ ہاتھ دھوکر امّی کا بنایا ہوا ناشتہ کھاتی ہوں، نو بجے اسکول چلی جاتی ہوں جہاں سے ایک بجے چھٹی ہوتی ہے۔ عائشہ کے مطابق اسکول سے واپس آنے پر ہم کھانا کھاتے ہیں پھر میں سو جاتی ہوں چار بجے اٹھتی ہوں اس کا کہنا ہے کہ میرا کوئی دوست نہیں ہے میں اکیلی کھیلتی ہوں۔ یہ معمول صرف عائشہ کا نہیں بلکہ تمام ہی بچوں کا ہے۔ عائشہ کو پتہ نہیں ہے کہ وہ کیا جرم ہے جس کی سزا اس کی ماں کاٹ رہی ہے بس وہ کہتی ہے کہ اس کی ماں سامان لیکر جاتی تھی کسی نے غلط سامان دیکر پکڑوا دیا۔ عائشہ آج بہت خوش تھی اور بتا رہی تھی کہ آج تو ہم نے بریانی کھائی ہے وہ بھی مرغی میں اور ساتھ میں بوتل بھی ملی تھی۔
شکارپور کی شبانہ قتل کے الزام میں آٹھ ماہ کی قید کاٹنے کے بعد رہا ہو رہی ہے اس کے گھر والے لینے نہیں آئے مگر اسے امید ہے کہ وہ ضرور آئیں گے وہ کہتی ہے کہ اب اچھی زندگی گزارے گی۔ قانونی ماہروں کا کہنا ہے صدر پرویز مشرف کی جانب سے جاری کیا گیا حکم نامہ صرف چار ماہ کے لیئے کارآمد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس آرڈیننس کے تحت ناقابل ضمانت جرم کو قابل ضمانت جرم بنادیا گیا ہے۔ یہ آرڈیننس چھ نومبر سال دو ہزار چھ کو ختم ہوجائیں گے۔ اب ہمارے پارلیامینٹیرین کی ذمہ داری ہے وہ اسے قانون بنائیں تاکہ اس قسم کے قانون کا فائدہ نے صرف عورتوں کو بلکہ بچوں اور مردوں کو بھی ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی جیلوں میں بیس ہزار قیدی ہیں ان میں سے صرف دو ہزار عورتیں اور بچے ہیں باقی اٹھارہ ہزار مرد ہیں جو غریب لوگ ہیں۔ |
اسی بارے میں حدود قوانین پر فیصلہ مؤخر28 March, 2006 | پاکستان حدود قوانین کی نظرثانی پر اجلاس 27 March, 2006 | پاکستان حدود قوانین منسوخ کرنے کا مطالبہ07 February, 2006 | پاکستان حدود قوانین کی تنسیخ کا بل پیش 07 February, 2006 | پاکستان غیرت کے نام پر پانچ افراد قتل15 August, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||